تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
حضرت فاطمہ(س) کی حیات طیبہ کے تین پہلو

نیوزنور: فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی فیض رسانی کا سلسلہ انسانیت کے اس عظیم مجموعے میں ایک چھوٹے مجموعے تک محدود نہیں ہے ۔اگر حقیقت بین  اور منطقی نگاہ سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)  کی مرہون ،منت ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۳۵۴ : // تفصیل

حضرت فاطمہ(س) کی حیات طیبہ کے تین پہلو

نیوزنور: فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی فیض رسانی کا سلسلہ انسانیت کے اس عظیم مجموعے میں ایک چھوٹے مجموعے تک محدود نہیں ہے ۔اگر حقیقت بین  اور منطقی نگاہ سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)  کی مرہون ،منت ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کے مطابق ، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی فیض رسانی کا سلسلہ انسانیت کے اس عظیم مجموعے میں ایک چھوٹے مجموعے تک محدود نہیں ہے ۔اگر ہم حقیقت اور منطق کی نگاہ سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی مرہون منت ہے اور یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک  حقیقت ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح بشریت قرآن کی ،تعلیمات انبیاء کی اور پیغمبر خاتم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرہون منت ہے ۔تاریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے اور دن بدن حضرت فاطمہ زہراء کی معنویت اور اسلام کا نور پہلے سے زیادہ نمایاں اور آشکار ہو گا اور بشریت اس کو محسوس کرے گی ۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو اس خاندان  سے منسوب ہونے کا اہل ثابت کریں ۔البتہ خاندان رسالت سے منسوب ہونا اور ان کے وبستگان اور ان کی ولایت کے اعتبار سے مشہور افراد سے منسوب ہونا دشوار ہے ۔ہم زیارت میں پڑھتے ہیں کہ ہم آپ کی دوستی اور محبت کے سلسلے میں معروف ہیں ،اور اس سے ہماری ذمہ داری مضاعف ہو جاتی ہے ۔

ہم اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور چاہنے والے ان بزرگواروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنوں میں سے اور اپنے حاشیہ نشینوں میں سے جانیں ؛ فلان ز گوشہ نشینان خاک درگہ ماست ،ہمارے در کے ہی گوشہ نشینوں میں ہے فلاں ،ہمارا دل چاہتا ہے کہ اہل بیت ہمارے بارے یہ فیصلہ صادر کریں ؛لیکن یہ آسان نہیں ہے یہ چیز صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتی ،اس کے لیے عمل ،در گذر ، ایثار ، ان کی مشابہت اور ان کے اخلاق کے رنگ میں رنگ جانے  کی ضرورت ہے  ،یہ حدیث شیعوں کے سلسلے سے ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ (س) سے فرمایا: «یا فاطِمَةُ‌ إعمَلِی‌ لِنَفسِک فَإنِّی‌ لا أُغنِی‌ عَنکِ مِنَ‌ اللهِ شَیئا» یعنی اے میری پیاری بیٹی ! اے میری فاطمہ ! میں خدا کی بارگاہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا یعنی تمہیں اپنے بارے میں خود کچھ کرنا ہو گا چنانچہ وہ بچپنے سے لے کر اپنی مختصر سی عمر کےآخر تک اپنی فکر میں رہیں۔ آپ نے دیکھا کہ فاطمہ نے کس طرح زندگی بسر کی ! شادی سے پہلے تک کہ جب وہ ایک بچی تھیں اپنے اس عظیم باپ کے ساتھ اس طرح رہیں کہ آپ کی کنیت ام ابیھا ،باپ کی ماں رکھی گئی ۔اس زمانے میں  پیغمبر نور و رحمت ایک نئی دنیا بنا رہے تھے اور ایک ایسے انقلاب کی رہبری کر  تے ہوئے  کہ جو ہمیشہ رہنے والا تھا اسلام کے پرچم کو بلند کر رہے تھے ۔بلا وجہ نہیں کہا جاتا ام ابیھا ۔ فاطمہ کو یہ کنیت دیا جانا ،آپ کی خدمت ،محنت ،مجاہدت اور جدو جہد کی وجہ سے تھا ۔فاطمہ مکہ کے زمانے میں بھی ،اور شعب ابو طالب میں بھی ان تمام مشکلات کے باوجود اور اس زمانے میں بھی کہ جب آپ کی ماں خدیجہ کا انتقال ہوا اور پیغمبر تنہا رہ گئے ۔وہ باپ کے ساتھ اور باپ کی غمخوار تھیں ۔پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل تھوڑے فاصلے سے دو بڑے حادثوں،خدیجہ اور ابو طالب  کی وفات کی  وجہ سے ٹوٹ چکا تھا ۔تھوڑے تھوڑے فاصلے سے یہ دو شخصیتیں پیغمبر کو چھوڑ کر چلی گئیں اور پیغمبر کو تنہائی کا احساس ہونے لگا ۔ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے ان دنوں میں آگے بڑھ کر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے  پیغمبر کے چہرے سے رنج و الم کے غبار کو صاف کیا ،م ابیھا یعنی پیغمبر کو تسلی دینے والی ۔اور اسی زمانے میں یہ کنیت آپ کو دی گئی ۔  فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ماں کی طرح ، مشیر کی طرح اور ایک تیمار دار کی طرح تھیں یہی وجہ تھی کہ آپ نے فرمایا ، ام ابیھا ، باپ کی ماں ہے اس کا تعلق اس دور سے ہے کہ جب وہ ایک چھ سال کی بچی تھیں تو اس مرتبے کی مالک تھیں ۔ البتہ عرب کے ماحول میں اور گرم ماحول میں بیٹیاں جلدی  جسمانی اور روحی اعتبار سےجوان ہوتی ہیں۔ مثلا آج کی ایک دس بارہ سال کی لڑکی کے برابر ، یہ ذمہ داری کا احساس ہے کیا یہ ایک جوان کے لیے نمونہء عمل نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے اطراف کے مسائل کے سلسلے میں جلدی ذمہ داری  اور سرشاری کا احساس کرے ؟ نشاط اور مسرت کا وہ عظیم سرمایہ جو اس کے وجود کے اندر ہے اسے خرچ کرے تا کہ غم اور رنج کے غبار کو ایک باپ کے چہرے سے کہ جس کی عمر کے ۵۰ سال گذر چکے ہیں اور وہ تقریبا بوڑھا ہو چکا ہے صاف کرے کیا یہ چیز ایک جوان کے لیے نمونہء عمل نہیں بن سکتی ؟یہ چیز بہت اہم ہے ۔

ایک عورت اور وہ بھی جوانی کے سن و سال میں معنوی مقام کے لحاظ سے اس جگہ پر پہنچتی ہے کہ اس بنا پر کہ جو کچھ بعض روایات میں ہے فرشتے اس کے ساتھ بات کرتے تھے اور حقائق کو ان کے سامنے بیان کرتے تھے ،وہ محدثہ تھیں یعنی وہ کہ جس کے ساتھ فرشتے محو گفتگو ہوتے تھے ۔ یہ معنوی مقام اور وسیع میدان اور بلند قلعہ خلقت اور عالم کی تمام عورتوں کے مقابلے میں ہے فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) بلندی کی اس چوٹی پر کھڑی ہیں اور دنیا کی تمام عورتوں سے خطاب  کر کے انہیں اس راہ پر چلنے کی دعوت دیتی ہیں ،

چمکتا ہوا معنوی نور ہر کس و ناکس کی آنکھوںمیں نہیں سماتا اور ہماری نزدیک بین اور کمزور  آنکھیں قادر نہیں ہیں کہ انسانیت کے اس درخشاں جلوے کو ان عظیم ہستیوں کے وجود میں دیکھ سکیں ۔ اس بنا پر ہم فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی تعریف کے میدان میں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرتے ،لیکن اس عظیم ذات کی معمولی زندگی میں ایک اہم نکتہ ہے اور وہ ایک مسلمان عورت کی زندگی اور اپنے شوہر  اور فرزندوں کے ساتھ حسن سلوک  اور گھر کی زمہ داریوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد اہم سیاسی واقعات میں ایک غیرت مند  انتھک مجاہد کی ذمہ داریوں کو نبھانا ، وہ مسجد میں آتی ہیں تقریر کرتی ہیں اپنا موقف ظاہر کرتی ہیں دفاع کرتی ہیں ،بات کرتی ہیں اور ایک بھر پور مجاہد کہ جو انتھک محنتی اور سخت کوش ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی عبادت گذار اندھیری راتوں میں  نماز ادا کرنے والی اور پروردگار کی بارگاہ میں قیام کرنے والی اور خاضع اور خاشع ہیں ۔ محراب عبادت میں یہ جوان عورت خدا کے کہنہ مشق اولیاء کی مانند خداسے راز و نیاز اور اس کی عبادت کرتی ہیں ۔

ان تین پہلووں کو یکجا کرنا فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی زندگی کا درخشاں پہلو ہے  ۔اس ذات والا صفات نے ان تینوں پہلووں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا ۔بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو شخص عبادت میں مشغول ہو وہ عابد ،تضرع کرنے والا اور دعا و ورد کا عادی ہے وہ ایک سیاسی انسان نہیں ہو سکتا ۔ یا بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو سیاسی ہوتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں موجود ہوتا ہے اگر وہ عورت ہو تو وہ ماں بیوی اور خانہ دار عورت کی زمہ داریاں نہیں نبھا سکتی ،اور اگر مرد ہو تو ایک گھریلو کاروباری اور زندگی کی طرز کا مرد نہیں ہو سکتا ،کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چیزیں آپس میں منافات رکھتی ہیں ،حالانکہ اسلام کی نظر میں یہ تینوں نہ صرف آپس میں منافات اور ضدیت نہیں رکھتیں بلکہ ایک کامل انسان کی شخصیت میں مدد گار ہوتی ہیں ۔      

 



آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر