تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
صہیونی حکومت کے وزیر جنگ کی دھمکی پر ردعمل ؛
لبنان نے اسرائیل کو ویڈیو کا جواب ویڈیو سے دیا ،تیل کی تنصیبات کےبدلے تیل کی تنصیبات

نیوزنور10فروری/لبنان میں ذرائع ابلاغ کے گروہ نے لبنان کی حزب اللہ کے  جنرل سیکریٹری کی ایک پرانی  تقریر نشر کی ہے جس میں انہوں نے صہیونی حکومت کے وزیر کی اس دھمکی کا جواب دیا ہے کہ وہ لبنان کے تیل اور گیس کے ذخائیر حملہ کرے گا ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۷۲ : // تفصیل

صہیونی حکومت کے وزیر جنگ کی دھمکی پر ردعمل ؛

لبنان نے اسرائیل کو ویڈیو کا جواب ویڈیو سے دیا ،تیل کی تنصیبات کےبدلے تیل کی تنصیبات

نیوزنور:لبنان میں ذرائع ابلاغ کے گروہ نے لبنان کی حزب اللہ کے  جنرل سیکریٹری کی ایک پرانی  تقریر نشر کی ہے جس میں انہوں نے صہیونی حکومت کے وزیر کی اس دھمکی کا جواب دیا ہے کہ وہ لبنان کے تیل اور گیس کے ذخائیر حملہ کرے گا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے نزدیکی لبنان کے ذرائع ابلاغ کے ایک گروہ الاعلام الحربی ، نے ایک ویڈیو کے ذریعے صہیونی حکومت کے وزیر جنگ آویگڈور لیبر مین ، کے ایک بیان کا جو لبنان کے سمندر میں تیل کے بلاک نمبر ۹ کے بارے میں تھا جواب دیا ۔

ویڈیو کا عنوان یہ ہے : ہم آپ کی تنصیبات پر حملہ کریں گے ؛ یہ حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری سید حسن نصر اللہ کا مشہور جملہ ہے جو سال ۲۰۰۶ میں مقاومت کی ۳۳ روزہ جنگ میں کامیابی کی پانچویں سالگرہ کے موقعے پر صہیونی حکومت کی دھمکیوں کے جواب میں کہا گیا ہے ۔

اس ویڈیو میں تیل کی وہ تنصیبات کہ جو میڈیٹیرین سمندر میں صہیونی حکومت کے قبضے میں ہیں دکھائی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حزب اللہ کے میزائل اور میڈیٹیرین کے ساحل تک ان کی مار کرنے کی صلاحیت کو دکھایا گیا ہے تا کہ اس بات کی دلیل قرار پائے کہ یہ تحریک اسرائیل کے تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتی ہے ۔

نصر اللہ نے اس ویڈیو میں کہا ہے : جو بھی لبنان کے علاقے میں اس کے سمندر میں اس کے تیل اور گیس کی تنصیبات کو نقصان پہنچائے گا تو ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جائے گا ، اور اسرائیل جانتا ہے کہ لبنان اس کام کو کر سکتا ہے  ۔

اسرائیل کے وزیر جنگ لیبر مین نے گذشتہ ہفتے دعوی کیا تھا : گیس کا بلاک نمبر ۹  ہمارا ہے لیکن لبنان اس پر اپنا دعوی جتانا چاہتا ہے ۔

لیبر مین نے دعوی کیا : سال ۲۰۰۰ کے بعد ہم بین الاقوامی سطح پر توافق شدہ سرحدوں پر واپس آ گئے ہیں ، لیکن حزب اللہ والے اکسانے کا کام کرتے ہیں ۔ مثلا اچانک حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر بنائی جانے والی دیوار پر اعتراض کر بیٹھتا ہے ۔ یا یہ کہ انہوں نے بلاک نمبر ۹ پر اپنا دعوی پیش کر دیا ہے حالانکہ وہ بلاک ہمارا ہے ۔

بلاک نمبر ۱،۸،۴، ۹ ،اور ۱۰ میں سے  تین بلاک  جو لبنان کے ساحلی گیس کے میدان ہیں وہ  اس ملک کی  اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر واقع   ہیں۔

صہیونی حکومت کے وزیر جنگ کے اس بیان کو لبنانی حکام منجملہ لبنان کے صدر میشل عون ، اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ لیبر مین کی باتوں کو دھمکی سمجھتے ہیں اور لبنان اپنے تسلط والے  علاقے کے پانیوں پر حاکمیت کا حق رکھتا ہے ۔

بلاک نمبر ۹ کونسا ہے ؟

تیل کے بلاک نمبر ۹ کی تاریخ کا تعلق سال ۲۰۰۹ سے ہے ۔ جس زمانے میں ایک امریکی تیل اور گیس کی کمپنی نے میڈیٹیرین سمندر کے مشرقی علاقے میں ۸۳ ہزار مربع کیلومیٹر کا ایک میدان کشف کیا ، تیل کا یہ علاقہ شام ،لبنان ، قبرس اور مقبوضہ فلسطین کے سمندر میں ہے ۔ لبنان کے علاقے میں جو تیل کا علاقہ ہے اس کی مساحت تقریبا ۲۲ ہزار مربع کیلومیٹر ہے اور وہ علاقہ جس پر صہیونی حکومت کے ساتھ تنازعہ چل رہا  ہے اس کا رقبہ ۸۵۴ مربع کیلو میٹر ہے یہ متنازعہ علاقہ ۱۰ بلاکوں یا علاقوں میں منقسم ہے جن میں سے ایک بلاک نمبر ۹ ہے ۔

اس حصے میں لبنان کے قدرتی گیس کا حصہ ۹۶ ٹریلین مکعب فٹ ہے ۔یہ وہ دولت ہے کہ جو لبنان کے اوپر جو ۷۷ ارب ڈالر کا قرضہ  ہے اس کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے ۔ سالانہ عمومی قرضے کی یہ مقدار دنیا میں قرضے کی سب سے بڑی مقدار ہے ۔

گذشتہ ماہ جنوری میں  لبنان نے تیل کے پانچ بلاکوں ، نمبر ۱،۴، ۸، ۹ اور ۱۰ کو دوبارہ کھول کر پانچ سال کے لیے تیل اور گیس کو سپلائی کرنے کی اجازت حاصل کر لی ہے ۔

لبنان نے بلاک نمر ۹ میں سرمایہ لگانے کے لیے جب بین الاقوامی کمپنیوں کو دعوت دی تو اس سے اسرائیل کو غصہ آ گیا اس لیے کہ یہ بلاک مقبوضہ فلسطین کے پانی کے بلاک کے بالکل ساتھ میں ہے اور بہت حساس ہے خاص کر اس لیے کہ ۸۵۴ مربع کیلو میٹر کا مسئلہ  کہ جو دونوں فریقوں کے درمیان متنازعہ ہے وہ ابھی حل نہیں ہوا ہے ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر