تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
صیہونی ذرایع ابلاغ :
مشرق وسطی ٰ میں کوئی بھی عسکری کمشکش یہودی ریاست کے لئے ایک ڈراؤنے سپنے کی مانند ہوگی

نیوزنور13فروری/ایک صہیونی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد غاصب ریاست نے ماسکو سے درخواست کی ہے کہ تیزرفتاری سے میدان میں اتر کر ایران اور شام کو قائل کرے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی ہے۔

استکباری دنیا صارفین۱۱۰ : // تفصیل

صیہونی ذرایع ابلاغ :

مشرق وسطی ٰ میں کوئی بھی عسکری کمشکش یہودی ریاست کے لئے ایک ڈراؤنے سپنے کی مانند ہوگی

نیوزنور13فروری/ایک صہیونی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد غاصب ریاست نے ماسکو سے درخواست کی ہے کہ تیزرفتاری سے میدان میں اتر کر ایران اور شام کو قائل کرے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی روز نامہ ’’یدیعوت آحارونوت”نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے  کہ اسرائیلی طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد غاصب ریاست نے ماسکو سے درخواست کی ہے کہ تیزرفتاری سے میدان میں اتر کر ایران اور شام کو قائل کرے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی ہے کیونکہ مشرق وسطی ٰ میں کوئی بھی عسکری کمشکش یہودی ریاست کے لئے ایک ڈراؤنے سپنے کی مانند ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غاصب صیہونی ریاست نےاس پیغام میں ماسکو سے ثالثی کی درخواست کرتے ہوئے کہا  ہے کہ شام پر سنیچر کے دن حملوں کے باوجود اسرائیل تناؤ بڑھانے اور جنگ میں اُلجھ جانے کا خواہاں نہیں ہے۔

یدیعوت آحارونوت نے لکھا ہے کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو بھی اسی طرح کا پیغام روانہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ لبنان اور یہودی ریاست کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ جنوبی لبنانی سرحدوں پر اسرائیل کی طرف سے اعلان کردہ حائل دیوار کی تعمیر اور لبنان کے زیر زمین ذخائر میں اس ریاست کی دستبرد کی بنا پر لبنان اور یہودی ریاست کے درمیان شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق  اسرائیل نے شام پر جو  حملہ کیا وہ  ناکام بنایا گیااور ایک ایف سولہ طیارہ مار گرایا گیا جبکہ شامی افواج کے میزائلوں نے ایک ایف 15 طیارے کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا گیا اور اسرائیل کو پیغام دیا گیا کہ شام کی سرزمین اس کے طیاروں کی اڑان کے لئے کچھ زیادہ پرامن نہیں ہے جس کے بعد اسرائیل نے بھی ماسکو کو پیغام دے کر تناؤ کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ  کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام حملے سے پہلے لاف زنیوں میں مصروف تھے اور دھمکی آمیز لب و لہجے میں بات کررہے تھے۔

رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ جب سے شام پر اسرائیل اور امریکہ کے حمایت یافتہ تکفیری دہشتگردوں کی یلغار شروع ہوئی ہے اسرائیل نے اب تک دہشتگردوں کی حمایت کے لئے 100 سے زائد فضائی حملے کرکے شام میں بعض ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن گذشتہ ہفتے اسرائیل کے ناکام میزائل حملے کے بعد حکومت شام نے خبردار کیا تھا کہ حملے دہرائے جانے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ 1982 ء کے بعد پہلی بار شام کے طیارہ شکن میزائل سسٹم نے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس واقعے سے اسرائیلی فضائیہ کی ساکھ کو زبردست دھچکا لگا ہےاسرائیل کے اندر کے اخبارات کی رجزخوانیوں کے باوجود وہاں کے بعض اخبارات نے اسرائیلی جہازوں کے مارے گرائے جانے کے بعد دمشق تل ابیب کے درمیان تناؤ میں اضافے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے کہ شام کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کی صورت میں حزب اللہ اپنے ایک لاکھ تیس ہزار میزائلوں سے مقبوضہ فلسطین کے تقریبا تمام علاقوں کو نشانہ بنائے گی اورجولان کی پہاڑیاں  جو شام کے مقبوضہ علاقوں میں شامل ہے  ایک نئے محاذ کی صورت میں اُبھرے گا۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر