تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
امام خامنہ ای :
جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں پر تعرض کی کوئی مثال نہیں ملتی
نیوزنور: ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای نے مجلس شورای اسلامی ایران ( پارلیمنٹ) میں  مذہبی اقلیتوں(غیر مسلمان) کے نمایندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ یورپ و امریکا کے مقابلے میں جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں پر تعرض کی کوئی مثال نہیں ملتی،ان نمایندوں سے مطالبہ کیا کہ جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں کے ساتھ برتی جانے والی رواداری کے بارے میں ایران سے باہر والوں کو آگاہ کریں ۔
دینی و مذھبی رواداری صارفین۱۴۷۳ : // تفصیل

امام خامنہ ای :

 جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں پر تعرض کی کوئی مثال نہیں ملتی

نیوزنور: ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای نے مجلس شورای اسلامی ایران ( پارلیمنٹ) میں  مذہبی اقلیتوں(غیر مسلمان) کے نمایندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ یورپ و امریکا کے مقابلے میں جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں پر تعرض کی کوئی مثال نہیں ملتی،ان نمایندوں سے مطالبہ کیا کہ جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلموں کے ساتھ برتی جانے والی رواداری کے بارے میں ایران سے باہر والوں کو آگاہ کریں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مجلس شورای اسلامی ایران (پارلمنٹ) کے مذہبی اقلیتوں کے نمایندوں(غیرمسلمان پارلمنٹ ممبروں) نےایک دن(1)کو ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای سے ملاقات کی تھی ۔اس ملاقات میں امام خامنہ ای کے بیان کا متن جوکہ  دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے اطلاع رسانی کے مرکز نے شائع کیا ہے کا اردو ترجمہ نیوزنور نے انجام دیا ہے کہ جو درج ذیل ہے :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم نے اسلام سے سیکھا ہے کہ دوسرے ادیان کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف اور عدالت کے ساتھ برتاو کرنا چاہیے ،یہ ہمارے لیے اسلام کا حکم ہے ۔ آج جو کچھ دنیا میں دیکھنے کو ملتا ہے ،وہ یہ ہے کہ انصاف و عدالت کی دعویدار طاقتیں اور حکومتیں اپنی سیاست کے تنگ ،محدود اور ظالمانہ دائرے کے علاوہ کہیں بھی عدل و انصاف کی رعایت نہیں کرتیں ۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں  کہ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف کس قدر پروپیگنڈا ہو رہا ہے ۔

بحث یہ نہیں ہے کہ کیوں مسلمانوں کو ان ملکوں میں لازمی آزادی حاصل نہیں ہے ؛ بحث اس چیز کے بارے میں ہے کہ کیوں ان کی جانیں محفوظ نہیں ہیں ! یعنی حقیقت میں ایسا ہی ہے ۔یہی" ایک تیر انداز" والی فیلم کہ جس کا بہت چرچا ہے اور ہالیوڈ نے جس کو بنایا ہے یہ تشویق  کرتی ہے کہ ایک جوان مثال کے طور پر عیسائی یا غیر مسلمان کو کہ جہاں تک اس سے ہوسکے مسلمان کو اذیت دے ۔ وہ واقعا اس بات پر اکساتی ہے ؛ جیسا کہ نقل کیا گیا ہے ،وہ بتا رہے ہیں ، ہم نے تو اس فیلم کو نہیں دیکھا ہے ۔یہ روش اسلام کی پسندیدہ روش نہیں ہے ۔اسلام معتقد ہے کہ انصاف ہو ۔ امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام ،شہر انبار پر حملے کے معاملے میں فرماتے ہیں :" بلغنی ان الرجل منھم لیدخل المرائۃ المسلمۃ و الاخری المعاھدۃ "؛ میں نے سنا ہے کہ جن لوگوں  نےاس شہر پر حملہ کیا ان میں سے ایک شخص ایک مسلمان عورت کے گھر میں داخل ہوتا ہے اور دوسرا ایک  معاھدہ یعنی یہودی یا نصرانی عورت کے گھر میں کہ جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ رہیں گے ،داخل ہوتا ہے ؛ "و یاخذ حجلھا "اور اس کو ستاتا ہے اذیت کرتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے ،اس کے بعد حضرت فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان اس غم میں مر جائے تو قابل ملامت نہیں ہے !آپ نے دیکھا یہ امیر المومنین ہیں ۔اگر مسلمان اس صدمے سے مر جائے کہ دشمن کے سپاہی اور لٹیرے ایک غیر مسلمان عورت کے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور اس کو آزار و اذیت کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے ہاتھ کے کنگن کو چھین لیتے ہیں (۳) تو اس کی ملامت نہیں ہونا چاہیے اور اس کی ملامت نہیں کی جائے گی ۔ یہ اسلام کا نظریہ ہے ۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ اسی روش کے ساتھ آگےبڑھیں گے ۔

مجھے کچھ اچھے واقعے یاد ہیں ؛ میں اکثر" ارمنی" اور" عاشوری" شہیدوں (غیر مسلمان شہداء)کے گھروں میں گیا ہوں اور خوش قسمتی سے اس سال بھی مجھے بعض" ارمنی" شہیدوں کے گھروں میں جانے کی توفیق ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ اپنے ملک کے تئیں ذمہ دار ہیں ؛یعنی انہوں نے واقعا ذمہ داری نبھائی ہے ۔جنگ کے زمانے میں بھی مجھے یاد ہے کہ انہی" ارمنی عیسائیوں" میں سے کچھ اہواز آئے ۔میں نے دیکھا کہ ہوائی اڈے پر ایک جماعت بیٹھی ہے ؛میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ "ارمنی" ہیں ،یہ کچھ صنعتی کاموں کے لیے محاذ جنگ پر آتے ہیں ۔ارمنی صنعتی  فنی  اور گاڑیوں کی مرمت جیسے کاموں میں ماہر ہیں ،اور یہ مدد اور خدمت کی خاطر آئے ہیں مرحوم چمران نے ان کو کام پر لگا دیا ۔ انہوں نے کچھ مدت تک کام کیا خدمت کی اور ان میں سے کچھ لوگ شہید ہو گئے ۔

ان میں سے ایک ارمنی فیملی ہے کہ گذشتہ ہفتے میں جن کے گھر گیا تھا ۔ان کا بیٹا سربازی کی خدمت انجام دے رہا تھا ۔اس کی مدت ختم ہو گئی اور وہ اس پر دکھی تھا کہ جنگ ابھی چل رہی ہے ،وہ کہتا تھا میری سر بازی کی مدت تمام ہو گئی ہے اب میں کیا کروں ۔اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ اتفاقا یہ اعلان ہوا کہ جو سر باز ہیں وہ تین ماہ یا کچھ عرصے کے لیے دوبارہ محاذ پر حاضری دیں ۔وہ یہ سن کر خوش ہوا وہ خوش ہوا کہ دوبارہ بلایا گیا ہے ۔چنانچہ وہ محاذ پر گیا اور شہید ہو گیا ۔اس کے جسم کو لایا گیا ۔یعنی انسان دیکھتا ہے کہ ہمارے غیر مسلمان ہموطنوں کے اس طرح کے جذبات ہیں ۔انہوں نے بہت جد و جہد کی ہے اور ہم امید وار ہیں کہ اسلامی نظام اس سلسلے میں  اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گا ؛ وہ بھی ملک کے ساتھ واقعی معنی میں اپنی ذمہ داری کو نبھائیں ۔

جمہوری اسلامی کے  اس رویے کو آپ باہر والوں کو بتائیں تا کہ وہ واقعا یہ جان لیں اور سمجھ لیں دنیا والے اور دنیائے مسیحیت یہ جان لے کہ اسلامی ملک میں غیر مسلمانوں کے ساتھ اس قدر رواداری برتی جاتی ہے ۔ایسی رواداری کہ جو ان ملکوں میں نہیں ہے ۔آپ نے بہت سنا ہے کہ مثلا جرمنی میں نیو نازی جوان کہ جو اب فخر سے کہتے ہیں کہ وہ نازی ہیں ،انہوں نے اپنا نام نیو نازی رکھا ہے ،وہ مسلمانوں کی مسجد پر حملہ کرتے ہیں مارتے ہیں قتل کرتے ہیں اور کوئی ان کو نہیں پوچھتا ۔ہم نے بھی نہیں سنا ہے ۔ یا وہ عرب جوان لڑکی کہ جس کا عقیدہ تھا کہ وہ مقنعہ یا چادر پہنے گی اس کو اس کے حجاب کی وجہ سے مار مار کر قتل کر دیتے ہیں اور کوئی ان  پرمقدمہ نہیں چلاتا ، اور کوئی ان کا پیچھا تک نہیں کرتا ، اب میں نے سنا ہے کہ ان کو سزا دی گئی ہے ۔انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ سنجیدگی کے ساتھ ان پر مقدمہ چلے گا اور واقعا کوئی ان کا پیچھا نہیں کرتا ۔دوسری جگہوں پر بھی ایسا ہی ہے ۔ امریکہ میں اور دوسری جگہوں پر اور دوسرے ملکوں میں بد قسمتی سے ایسا ہی ہے؛ جب کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے دعویدار ہیں !ان کا جو کچھ ایران میں ہے اس کے ساتھ موازنہ کریں ۔اس طرح کی چیز کی ماضی میں ایران میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ یعنی اسلامی دور میں اور جمہوری اسلامی ایران میں غیر مسلمانوں پر مسلمانوں کے حملے کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔وہی جذباتی حزب اللہی جوان بھی خود کو اجازت نہیں دیتا کہ کسی غیر مسلمان پر حملہ کرے اور اس طرح کی چیزیں ۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ خداوند متعال آپ کو اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں ۔       

۔۔۔۔

(1)۔ 26جنوری 2015


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر