تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
پرنسٹن کے پروفیسر :
ایران اور سعودی قیادت طویل تناؤ کے خاتمے کے لئے آگے بڑھیں

نیوزنور13فروری/سابق ایرانی جوہری مذاکرات کار اور امریکی پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر نے ایران اور سعودی عرب کو تجویز دی ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے فروغ کے لئے طویل مدت سے جاری تناو کا خاتمہ کریں۔

مسلکی رواداری صارفین۲۳۲ : // تفصیل

پرنسٹن کے پروفیسر :

ایران اور سعودی قیادت طویل تناؤ کے خاتمے کے لئے آگے بڑھیں

نیوزنور13فروری/سابق ایرانی جوہری مذاکرات کار اور امریکی پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر نے ایران اور سعودی عرب کو تجویز دی ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے فروغ کے لئے طویل مدت سے جاری تناو کا خاتمہ کریں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سابق ایران جوہری امور کے ماہر ’’سید حسین موسویان‘‘ جو اعلی ایرانی قومی سلامتی امور کے سابق سیاسی امور کے معاون بھی تھے نے قاہرہ نامی جریدے میں اپنے شائع ہونے والے مضمون میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے 6اسٹریٹجک تجاویز پیش کیں ہیں جن سے خطے میں دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی سے دوسرے علاقائی ممالک کے لئے امن اور دوستی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے فضا فراہم ہوگی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ خلیج فارس اور مشرق وسطی میں نئے علاقائی اور عالمی اتحاد بنتے جارہے ہیں امریکی اتحاد بشمول ناجائز صہیونی ریاست، سعودی عرب اور امارات اس وقت روس، ایران، عراق، شام، حزب اللہ اور حشدالشعبی فورسز کے مقابلے میں موجود ہیں۔

موسویان کے مطابق امریکی اتحاد کا مقصد خطے میں امریکی غلبے اور قبضے کو طوالت دینا ہے جبکہ دوسرا اتحاد خطے میں خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔

امریکہ اور علاقائی طاقتوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی پالیسی تین نکات پر چلتی ہےخلیج فارس میں امریکی اقتدار کو مضبوط کرنا، صہیونی لابی سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اسرائیل سے اتحاد اور خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ کرنا۔

دوسری جانب سے ایران کی پالیسی بھی چار نکات پر مشتمل ہے خطے میں امریکی مہم جوئی کا مقابلہ کرنا، مقاومتی تنظیموں کی حمایت بشمول حماس، حزب اللہ اور یمنی حوثی، تکفیری اور دہشتگرد عناصر بالخصوص داعش اور القاعدہ کا مقابلہ کرنا اور خلیج فارس کے چھوٹے عربی ممالک پر سعودی عرب کے غلبے سے نمٹنا۔

موصوف پروفیسر  نے کہا کہ ایران نے شام اور عراق میں داعش کی شکست کے حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کیا جس سے سعودی عرب کو شدید تشویش ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے اس صورتحال سے خطے اور عربی ممالک کے درمیان ایران کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں اپنی موجودگی کو خطرات سے نمٹنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ناگزیر سمجھتا ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کی کوشش ہے کہ عرب ممالک میں فسادات، مشکلات اور کمزوریوں کی ذمہ داری ایران پر ڈال دےلہذا ایران اور سعودی عرب کو چاہئے کہ تناؤ اور کشیدگی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کے خدشات اور تحفظات پر صحیح معنوں میں غور کریں اس مقصد کے لئے تہران اور ریاض کے درمیان غیرمشروط امن مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ایران-عرب مکالمے اور تعلقات کی بحالی پر ایک خصوصی فورم کو تشکیل دیا جانا انتہائی اہم ہے۔

مضمون میں موصوف تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ شیعہ سنی اختلافات اور فرقہ واریت کے مسائل سے نمٹنے کے لئے دونوں فرقوں کے اعلی علما کی مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے جس میں مصر کی جامعہ الازہر، اہلسنت علما، قم اور نجف کے مذہبی رہنما شامل ہوں اورشفاف بات چیت اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے خلیج فارس کے آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ بالخصوص ایران، عراق اور سعودیہ کی موجودگی میں مشترکہ نشست کا انعقاد کیاجانا ضروری ہے۔

انہوں نےلکھاہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کی شق نمبر 8 کے مطابق سربراہ اقوام متحدہ خلیج فارس میں قیام امن و سلامتی کے حوالے سے ان ممالک کے ساتھ بات چیت کے سلسلے کا آغاز کریں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ  خلیج فارس کے خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار استحکام کے لئے ایک جامع تعاون کے فورم کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا مقصد سیاسی، اقتصادی، سیکورٹی، عسکری اور ثقافتی شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ اور خطے کو مہلک ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے۔

سید حسین موسویان نے مزید لکھا ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں خطے میں آکر چلی جاتی ہیں مگر ایران اور سعودیہ سمیت خلیج فارس کے دوسرے ممالک کو یہاں رہنا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنی ہے لہذا دونوں ممالک کو چاہئے کہ طویل کشیدگی کے خاتمے کے لئے خطے میں تعاون کو بڑھائیں۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر