تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
القدس العربی ؛
ترکی کے خلاف امارات کی غیر معمولی نقل و حرکت

نیوزنور:ترکی کی صدارت کے بعض قریبی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ ترکی کی حکومت میں فیصلہ کن محافل نے اس ملک کے خلاف امارات کی تیزی کے ساتھ  پریشان کن غیر معمولی نقل و حرکت کے دیکھے جانے کی خبر دی ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۲۶۸۶ : // تفصیل

القدس العربی ؛

ترکی کے خلاف امارات کی غیر معمولی نقل و حرکت

نیوزنور:ترکی کی صدارت کے بعض قریبی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ ترکی کی حکومت میں فیصلہ کن محافل نے اس ملک کے خلاف امارات کی تیزی کے ساتھ  پریشان کن غیر معمولی نقل و حرکت کے دیکھے جانے کی خبر دی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی بعض سرکاری محافل نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی کے خلاف امارات کی نقل و حرکت میں حال ہی میں تیزی آ گئی ہے ۔ کہا کہ اس نقل و حرکت کا ایک حصہ امارات کی ترکی کے خلاف ذرائع ابلاغ کی جنگ ہے کہ جو حالیہ دنوں میں ترکی کے سیریال نشر کرنے پر پابندی اور امارات کے ذرائع ابلاغ کے ترکی کے خلاف حملوں ۔خاص کر شام کے شمال  کے شہر عفرین کے واقعات کے بعد اور ترکی کی فوج کی اس شہر میں مداخلت کے بعد ۔کی صورت میں نمایاں ہوئی ہے ۔ ترکی کی محافل نے اسی طرح حال ہی میں ان خبروں کو کہ جو امارات کی رہبری میں علاقے کے عربی رہنماوں کی موجودگی میں دریائے سرخ میں ایک تفریحی کشتی کے اندر اجلاس منعقد کیے جانے کے بارے میں ہیں کہ جس کا مقصد ، ترکی کا مقابلہ کرنے کے طریقوں کی جانچ پڑتال ہے اہمیت دی ہے ۔

روزنامہ "القدس العربی" کے لکھنے کے مطابق ایسی خبریں بھی منتشر ہوئی ہیں کہ امارات اسرائیل اور کچھ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر یونان میں آنکارا اور آتن کے مابین دریائے اژہ میں کشیدگی بڑھ جانے کے بعد فوجی مشقوں میں شرکت کر رہا ہے اور روزنامہ ھا آرتص نے بھی اس خبر کی تائیید میں ایک رپورٹ منتشر کی ہے اور اس میں اس نے امریکہ، برطانیہ ، اٹلی ، قبرس ، اور امارات  کی موجودگی میں یونان میں فوجی مشقوں میں اسرائیل کی شرکت کی تائیید کی ہے اور لکھا ہے : امارات کی اسرائیل کے ساتھ فوجی مشقوں میں یہ پہلی شرکت نہیں ہے ۔

دوسری خبر بھی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ منجملہ مڈل ایسٹ آئی میں بعض با خبر ذرائع کے حوالے سے نقل ہوئی ہے اور وہ اس بات پر مبنی ہے کہ سال ۲۰۱۵ کے اواخر میں ایک مخفی اجلاس ابوظبی کے ولی عہد محمد بن زاید اور اس دور کے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبد اللہ دوم کی موجودگی میں دریائے سرخ میں ایک تفریحی کشتی کے اندر امریکی ۔لبنانی تاجر جورج نادر کی کوشش سے اور ابو ظبی کے ولی عہد کے مشورے سے منعقد ہوا ۔

یہ امریکی لبنانی تاجر کہ جس کی حال ہی میں ڈونالڈ ٹرامپ کی الیکشن مہم میں مالی حمایت کرنے کی بنا پر تفتیش کی گئی ہے ، اس نے مذکورہ اجلاس میں حضار کے سامنے ۶ عربی ملکوں کا ایک علاقائی گٹھ بندھن تشکیل دینے کی تجویز پیش کی اس طرح کہ یہ ۶ ملک علاقے میں ترکی اور ایران کے نفوذ کا مقابلہ کرنے میں امریکہ کی حمایت کریں گے ۔

امارات کے ذرائع ابلاغ نے بھی حال ہی میں ترکی کے خلاف خبروں کے انتشار میں شدت پیدا کی ہے اور ان سرخیوں پر مبنی ؛ عفرین میں شام کے غیر فوجیوں کا قتل عام ، اور ترکی کا شام کی سرزمین پر قبضہ  جیسی خبریں نشر کی ہیں جن کا مقصد ترکی اور اس کی شاخ زیتون نام کی کاروائی کو جو عفرین میں کی گئی تھی بد نام کرنا ہے ۔

اسی طرح گذشتہ چند دنوں میں سعودی ذرائع ابلاغ  نے کہ جن کا ٹھکانہ دبئی اور ابوظبی میں ہے ترکی کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہےاور کرد اور عربی شخصیتوں کو دعوت دے کر کوشش کی ہے کہ ترکی کے خلاف حملوں کو اور زیادہ کریں اور اس ملک پر عربی ملکوں کی سرزمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگائیں ۔

اسی سلسلے میں ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اقصوی نے حال میں جو امارات کے وزیر خارجہ عبد اللہ بن زاید   کی طرف سے اس ملک پر عربی ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کا الزام  لگایا تھا اس کو رد کیا ہے اور تاکید کی ہے  کہ  سب لوگوں کو ترکی کے  جہان عرب  کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ روابط کے بارے میں پتہ ہے ۔

اس نے کہا : ترکی پر بن زاید کے الزامات وہ بھی عربی ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کے بارے میں ، سمجھ میں آنے کے قابل نہیں ہیں بلکہ حسن  ہمسایگی اور حسن نیت کے بر خلاف ہیں ۔

عبد اللہ بن زاید نے ایتوار کے دن ایک پریس کانفرنس میں جس میں اس کا مصری ہم پلہ سامح شکری بھی تھا ایران اور ترکی پر عرب ملکوں کے امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا ۔

اس سے پہلے بھی احمد بیرات کونکار نے جو ترکی کی پارلیمنٹ  کا نمایندہ ہےاپنے ٹویٹر کے صفحے پر امارات کے وزیر خارجہ کے مشیر انور قرقاش پر تنقید کی اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ عربوں کی نمایندگی میں کوئی بات نہ کرے ۔      

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر