تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اس ماڈرن شہر کے حقائق کا پردہ فاش کہ جو دنیا کو بدلنے والا ہے

نیوزنور:سعودی عرب نے حال ہی میں خبر دی ہے کہ وہ دریائے سرخ کے ساحل پر ایک ماڈرن شہر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جسکا نام نئوم ہوگا اور اس پر تقریبا ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ ہوں گےاور بتایا کہ اس سے اقتصادی ذرائع کو وسعت دینے میں مدد ملے گی ۔

استکباری دنیا صارفین۳۵۳۴ : // تفصیل

اس ماڈرن شہر کے حقائق کا پردہ فاش کہ جو دنیا کو بدلنے والا ہے

نیوزنور:سعودی عرب نے حال ہی میں خبر دی ہے کہ وہ دریائے سرخ کے ساحل پر ایک ماڈرن شہر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جسکا نام نئوم ہوگا اور اس پر تقریبا ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ ہوں گےاور بتایا کہ اس سے اقتصادی ذرائع کو وسعت دینے میں مدد ملے گی ۔

عالمی اردو خبرساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، نیا مشرق وسطی نام کی کتاب کہ جس کو  صہیونی حکومت کے سابقہ صدر شیمون پیریز نے سال ۱۹۹۶ میں منتشر کیا تھا وہ ایک معمولی سی کتاب کہ جس میں کچھ افکار اور تجاویز ہیں شمار نہیں ہوتی ، بلکہ اس کتاب کی اہمیت اس چیز سے ہے کہ وہ صہیونی حکومت کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کا ایک مرحلہ بندی شدہ عملی منصوبہ شمار ہوتی ہے ۔ اس کتاب میں صہیونی حکومت کے لیے پیریز کے افکار اور اس کے مد نظر مراحل بیان ہو ئے ہیں اور یہ اسرائیل کے آیندہ کے اقدامات کی پیشین گوئی کے لیے مفید ہے ۔

صہیونی حکومت کی طرف سے پیریز کے پروجیکٹ پر عمل وہاں سے شروع ہوتا ہے کہ اس میں حقیقت نگر انداز میں واقعات اور تفکرات کی تحلیل موجود ہے جو صرف صہیونی حکومت کی تین چیزوں ، زمان ، خلاء اور مقدار  کی سنتی  حکمت عملی پر مبنی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ یہ طریقہ ٹکنالوجی میں وسعت اور بیلسٹیک میزائلوں میں ترقی کی وجہ سے کار آمد نہیں رہا ہے ۔

زمانے کا عامل بھی میزائلوں کی تیز رفتاری اور بہت مختصر وقت میں لمبا فاصلہ طے کر لینے کی بنا پر اپنے ناکارہ ہونے کو ثابت کر چکا ہے ، اور خلاء کے ایجاد کا عامل بھی اس وقت ساقط ہو گیا کہ جب مذکورہ میزائلوں نے طبیعی رکاوٹوں کے فوائد کو ختم کر دیا ۔ مقدار کے لحاظ سے بھی مذکورہ میزائل انبار ہونے والے ہتھیاروں سے آگے بڑھ گئے ہیں اور اس طرح صہیونی حکومت کی حکمت عملی کے عمیق ہونے کے نظریات بے کار ہو گئے ہیں ۔

صہیونی حکومت کی  استعمار طلبانہ پالیسیوں کی اصلاح کی ضرورت باعث بنی ہے کہ شیمون پیریز کے پروجیکٹ کے اعتبار میں اضافہ ہو گیا ہے اور اسی موضوع نے اس گمان کو ہمارے نزدیک زندہ کیا ہے کہ اسرائیل نئے مشرق وسطی کے پروجیکٹ کے پیچھے ہے ۔

اقتصاد ، صہیونی حکومت کا متبادل طریقہء کار ،

جن لوگوں نے شیمون پیریز کی کتاب اور اس کے افکار کا دقت سے مطالعہ کیا ہے ، وہ اس کے افکار اور عملی طریقوں کی ایک جہت معین کر سکتے ہیں کہ جو صرف قومی دینی اور قوم پسند نوعیت کے ہیں ۔ لیکن یہ اعتقادات اقتصادی مفادات اور رفاہ اور فقر کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی فضا میں مٹ جاتے ہیں چونکہ یہ وہ عوامل ہیں کہ صرف سازش ہی کے ذریعے ان تک دسترسی پیدا کی جا سکتی ہے ۔

موجودہ تبلیغاتی اور سرکاری توجیہیں جو صہیونی حکومت کے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اپنائی جا رہی ہیں ۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ صہیونی حکومت بڑے پیمانے پر کوشش کر رہی ہے کہ مصلحت اندیش نظریات کو معاشرے میں اعتقادی نظریات کی جگہ پر رکھے ۔ شیمون پیریز غاصب صہیونی حکومت کی بنیاد رکھنے والوں کے حلقے کی آخری فرد ہے جو ۷۶ سال سے اسرائیل کی حکومت کی سیاست میں شریک اور یہاں تک کہ اس حکومت کی مجرمانہ سیاست کا بانی رہا ہے ۔

شیمون پیرز کے منصوبے اور ان پر عمل کے مراحل ،

یہاں پر شیمون پیرز نے جو منصوبے عرب ملکوں کے ساتھ روابط کو بہتر بنانے اور علاقے میں موجودہ تبدیلیوں کے ساتھ ان کا جوا رابطہ ہے اس کے بارے میں پیش کیے ہیں ان میں سے کچھ کے بارے میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے ۔

دریائے سرخ کے سواحل پر روابط کو معمول پر لانے کا منصوبہ ،

پیرز ایسے بین الاقوامی کنسرسیمز کی تشکیل کی کچھ منصوبوں پر عمل کرنے کی بات کرتا ہے کہ جن کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ گذاری کی ضرورت ہے ۔ اس سرمایہ گذاری کو علاقے میں مربوط ممالک کی موجودگی اور نگرانی میں ہونا چاہیے اور ان منصوں سے متعلق کچھ گروہ اور رفیق بھی اس میں شرکت کریں گے ان منصوبوں میں جن نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان میں دریائے سرخ کے کانال اور بحرالمیت کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ جن میں ان سواحل پر آزاد تجارت اور سیاحت کی توسیع شامل ہے ۔ اردن اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ بندرگاہ کی تاسیس ، اور پانی سے بجلی کی توانائی میں توسیع اور پانی کو میٹھا بنانا ، شیمون پیرز کے مد نظر کچھ اور منصوبے ہیں ۔

یہاں پر پیرز کی اس تحریر پر خاص توجہ کی ضرورت ہے : ہم اس طریقے پر عمل کا کام دریائے سرخ سے شروع کر سکتے ہیں دریائے سرخ کے دونوں طرف کی تبدیلیاں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بدل چکی ہیں اور ان سواحل کے کچھ حصے پر مصر ، سوڈان اور اریترہ موجود ہیں اور ان کے مقابلے پر بھی اسرائیل ، اردن اور سعودی عرب ہیں ان تمام ملکوں کے مفادات مشترک ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے درمیان جھگڑے کی کوئی وجہ نہیں ہے ایتھیوپی اور اریترہ اپنے ہمسایوں منجملہ اسرائیل کے ساتھ روابط استوار کرنے کے درپے ہیں اور مصر نے بھی اسرائیل کے ساتھ سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں ۔اردن سعودی عرب اور یمن بھی کشتیرانی ، شکار اور پرواز کی آزادی کے حصول کے درپے ہیں ۔

پیرز کے منصوبوں کا محمد بن سلمان کے توسط سے اجراء ،

 سعودی عرب نے حال ہی میں خبر دی ہے کہ وہ دریائے سرخ کے ساحل پر ایک ماڈرن شہر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا نام نئوم ہوگا اور اس پر تقریبا ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ ہوں گےاور بتایا کہ اس سے اقتصادی ذرائع کو وسعت دینے میں مدد ملے گی ۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سمان نے اعلان کیا ہے کہ اس شہر کا رقبہ ۲۶۵۰۰ مربع کیلومیٹر ہو گا اور یہ شہر نئوم کے نام سے جانا جائے گا ۔جس میں مختلف صنعتیں جیسے ٹیکنالوجی ، پانی ،اور حیاتی ٹیکنالوجی اور غذا اور تمام رفاہی وسایل اور جدید صنعتیں ہوں گی ۔

سعودی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق  یہ صنعتی اور تجارتی شہر سعودی عرب کے شمال مغرب کے علاقے میں ہوگا اور یہ اپنی نوعیت کا دنیا میں پہلا علاقہ ہے جس نے تین ملکوں کو آپس میں ملا رکھا ہے اور اس کی سرحدیں اردن اور مصر تک جاتی ہیں ۔ یہ صنعتی شہر دریائے سرخ اور خلیج عقبہ کے کنارے اور سمندری تجارتی راستوں کے نزدیک ہے جن کو نہر سویز نے آپس میں ملا رکھا ہے ۔ اس نے تاکید کی کہ اس علاقے کی توانائی کی ضرورت ہوا اور سورج کی توانائی سے پوری کی جائے گی ۔

روزنامہ یروشلم پوسٹ نے حال ہی میں اس اہم پروجیکٹ میں صہیونی حکومت کے کردار کے بارے میں اہم اطلاعات کو برملا کیا ہے اور لکھا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے اس اسمارٹ شہر کے پروجیکٹ کے بارے کہا کہ یہ صہیونی علاقے ایلات سے چند کیلو میٹر کے فاصلے پر ہوگا جس پر ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ ہو ں گے اور تاکید کی ہے کہ یہ اقتصادی علاقہ مصر اور اردن کا مشترکہ علاقہ ہے لیکن اس نے ایک حکومت یعنی اسرائیل کا نام نہیں لیا ہے ۔

اس صہیونی روزنامے نے عرب یونین نے جو اسرائیل پر چند دہائیوں سے پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کے مونہہ پر ایک مضبوط تھپڑ قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ یہ اسمارٹ شہر مختلف میدانوں میں ماڈرن ٹیکنالوجی ، جیسے شمسی توانائی اور ہائیڈل توانائی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی اور روبورٹ  اورصنعتی غذاوں سے کمپنیوں کی میزبانی کرے گا ، اور یہ تمام مواقع وہ میدان ہیں کہ جن میں اسرائیلی کمپنیاں اپنے عرب رقیبوں کے مقابلے میں زیادہ سرگرمیاں دکھائیں گی ۔

صہیونی کمپنیاں  مذکورہ پروجیکٹ کی سیاسی حساسیت کی وجہ سےسعودی بینک کے ساتھ اپنے رابطے کی جزئیات کو کہ جس کے پاس ۲۳۰ ارب ڈالر کا سرمایہ ہے فاش کرنے پر قادر نہیں ہیں  ۔

سعودی عرب والے سرکاری سطح پر اسرائیل کے ساتھ کام کرنے پر تیار نہیں  ہیں اور اگر یہ موضوع صہیونی حکومت کی طرف سے سرمایہ لگانے والی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے شروع کیا جائے تو پانی ، توانائی اور زرعی ٹیکنالوجی اور غذائی سامان کے میدان میں ہر قسم کا تعاون پہلے سے زیادہ آسان ہو جائے گا ۔

صہیونی روزنامے نے مزید لکھا ہے کہ اس نے عرب ڈیپلومیٹوں اور اسرائیلی تاجروں کے درمیان خط و کتابت کے سلسلے کو دیکھا ہے ۔ یروشلم پوسٹ نے تاکید کی ہے کہ اقتصادی تعاون کے لیے اس وقت مذاکرات ہو رہے ہیں اور اسرائیل کی کچھ کمپنیوں نے سایبری سلامتی سے متعلق اجناس کو سعودی حکومت کو فروخت کیا ہے ۔

اسی طرح ایک صہیونی تاجر کہ جس کے پاس سعودی عرب کے اسمارٹ شہر کے منصوبے کی جزئیات کے بارے میں دقیق اطلاعات ہیں کہتا ہے کہ اسرائیلی کمپنیاں کھل کر اس منصوبے پر کام شروع کر سکتی ہیں ، اسی طرح ممکن ہے کہ فلسطینیوں کے مذاکرات میں شگاف پیدا ہونے کی صورت میں اسرائیل کی حکومت اس پروجیکٹ کے سلسلے میں سعودی عرب ، اردن اور مصر کے ساتھ کھل کر تعاون کر سکتی ہے ۔

 آیندہ کے اقدامات ،

ظاہری تطابق کے بعد کہ جو شیمون پیرز کے پروجیکٹ اور محمد بن سلمان کے اسمارٹ شہر کے پروجیکٹ میں صہیونی حکومت کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کے سلسلے میں ہوا ہے عرب ملکوں کے عام افراد روابط کو معمول پر لانے کے محوروں کے جزئیات اور اس کی نشانیوں کو ان دنوں اور مستقبل قریب میں دیکھ سکتے ہیں ۔

پیرز نے اپنے منصوبے میں عرب حکومتوں کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کے کام کے آغاز کی نوعیت کے بارے میں کہا ہے : معمول پر لانے کے پہلے گام کے طور پر انسانی مسایل جیسے سمندری اور ہوائی سطح پر نجات کی کاروائیوں اور سمندری اور زمینی مشقوں کے بارے میں با خبر کرنے کے لیے ارتباطات کے چینل کی ایجاد پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے اسی طرح اس کام کو علاقائی سسٹم کی حفاظت کے طریقے سے مشترکہ مطالعاتی پروجیکٹوں کے توسط سے اور سمندری اور غذائی منابع کو وسعت دینے کے ذریعے اور اسی طرح سیاحت کے ذریعہ کیا سکتا ہے ۔اس صورت میں ایک اسٹریٹیجیک گٹھ بندھن کی ایجاد پر آگے کے مراحل میں توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے ۔

مقبوضہ قدس میں غزہ  پٹی کے منصوبے پر عمل ،

شیمون پیرز نے اپنی کتاب میں مرحلہ بندی کے منصوبے کی خبر دی ہے کہ جس کا آغاز غزہ سے ہوگا اور اسرائیلیوں کے مذاکرات کے طریقے کو طشت از بام کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں فلسطین کے مسئلے کا راہ حل ایک مقدماتی مرحلہ ہے یہ کام کا اختتام نہیں ہے اور اسرائیل جس کام کو چاہتا ہے اسے انجام دے سکتا ہے لیکن آخر میں ایسا دکھا سکتا ہے کہ عرب کامیاب رہے ہیں ۔

منصوبہ جو پیرز نے غزہ کے سلسلے میں پیش کیا ہے وہ ہمیں ابو دیس کے مسئلے کی یاد دلاتا ہے جس کو قدس کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے مذاکرات کے طریقے اور تفکرات جو شیمون پیرز نے پیش کیے ہیں ان میں سے یہ پیشین گوئی کی جا سکتی ہے کہ قدس کے مسئلے کے سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ صلح کرنے کے لیے فلسطینیوں پر دباو کا سلسلہ جاری رہے گا اور کوشش کی جائے گی کہ قدس کے سلسلے میں مذاکرات کو آیندہ پر موکول کیا جائے لیکن ساتھ ہی مسجد اقصی ان کی عبادت کے لیے کھلی رہے گی ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ منتشر شدہ خبروں  اور سرکاری رپورٹوں کے مطابق فلسطین کے پایتخت کے طور پر قدس کے متبادل کے طور پر ابو دیس کا انتخاب ایک پیش کش ہے کہ جسے سعودیوں نے خود مختار حکومت کے سامنے رکھا ہے ۔     

     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر