تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
عراق امریکہ کے قبضے کے ۱۵ سال بعد

نیوزنور:اس وقت جب کہ عراق پر امریکی فوجوں کے قبضے کو ۱۵ سال ہو رہے ہیں ، تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی اور آدھی دھائی میں امریکی قبضے کے نتیجے میں عراق میں صرف تباہی اور بربادی ہی ہوئی ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۳۵۷۷ : // تفصیل

عراق امریکہ کے قبضے کے ۱۵ سال بعد

نیوزنور:اس وقت جب کہ عراق پر امریکی فوجوں کے قبضے کو ۱۵ سال ہو رہے ہیں ، تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی اور آدھی دھائی میں امریکی قبضے کے نتیجے میں عراق میں صرف تباہی اور بربادی ہی ہوئی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق یہ ایام عراق پر امریکہ کے قبضے کے ۱۵ سال پورے ہونے جارہے ہیں،عراق کے  سیاسی مسائل کے تجزیہ نگار "عثمان المختار" نے ایک مضمون میں کہ جس کو" العربی الجدید" خبری مرکز نے " عراق چڑھائی کے ۱۵ سال بعد ، خرابی ،تباہی اور موت کا بازار "  کے عنوان سے انتشار کیا ہے ، اس میں بعثی حکومت کے زوال اور امریکیوں کے قبضے کے ۱۵ سال گذرنے کے بعد  کی حالت پر ایک اجمالی نگاہ ڈالی گئی ہے ۔

محرر نے سابق امریکی فوجی افسر کے قول کو نقل کرتے لکھا ہے کہ ؛"عراق میں زمینی کاروائی  سے پہلے  ہم سے کہا گیا کہ عراقی لوگ  آپ سے التماس کرتے ہیں اور مدد مانگ رہے ہیں ، لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ وہ ہم سے تنگ آ کر خدا سے فریاد کرتے ہیں ۔ ہم نے وہاں ایسے بھیانک جرائم کیے ہیں کہ  جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا"، ان جملوں کے ساتھ ٹد بایٹین نے کہ جو سابق امریکی فوجی ہے اور ۲۰۰۳ میں وہ عراق پر قبضے میں شریک تھا اپنے جذبات کو بیان کیا ہے ، یہ وہ جذبات ہیں کہ جو عراق پر قبضے کی پندرہویں سالگرہ کے موقعے پر ایسا لگتا ہے کہ عراقیوں کے جذبات سے الگ نہیں ہیں ۔

عراق پر قبضے کے لیے بعض اکسانے والے اور ترغیب دلانے والے آج کوشش کر رہے ہیں کہ لندن میں ہونے والی ۲۰۰۲ کی کانفرنس میں کہ جو عراق کے مخالفین کی کانفرنس کے نام سے مشہور ہوئی ، اپنی موجودگی کا انکار کریں ۔ وہ کانفرنس جس نے جارج بش اور ٹونی بلیئر کو عراق پر قبضہ کرنے کی اجازت دی تھی ۔

بایٹن کہ جس کی عمر اس وقت ۴۵ سال ہے اور ریاست فلوریڈا میں ایک وکالت کے دفتر میں کام میں مشغول ہے ،مزید کہتا ہے : بہت سارے عراقی مارے گئے ، بہت سارے اور یہ ملک تباہ ہوگیا لیکن عام تباہی مچانے والے ہتھیار نہیں ملے ، جب کہ لوگ وہاں آج بھی مر رہے ہیں ۔ جب بھی ہم کسی عراقی کو امریکہ میں دیکھتے ہیں ، تو میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ ہم سے کہہ رہا ہے کہ تم پر خدا کی لعنت ہو ۔

قبضے کے پہلے برسوں کے بر خلاف ، بغداد پندرہویں سالگرہ کے موقعے پر کچھ بجھا بجھا سا لگ رہا تھا ، اس آزادی کے دن کا تذکرہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ جس کا ذکر بعض شخصیتیں جیسے احمد الجلبی ، ،مثال الآلوسی ، عبد العزیز الحکیم ، نوری المالکی ، موفق الربیعی ، اور جلال طالبانی وغیرہ اس پر قبضے کے بعد قومی دن کا نام دیتی تھیں ۔

عراق پر قبضے کے باقیماندہ نتائج جو عراقیوں کے اذہان میں ہیں وہ اس طرح کی چیزوں کی اجازت نہیں دیتے ۔ خاص کر یہ کہ یہ مناسبت اس سال انتخابات کے انعقاد سے ٹکرا رہی ہے اور سبھی اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں ۔ لہذا یہ پروگرام صرف چند ہزار عراقیوں کے توسط سے کہ جن کے رشتے دار سال ۲۰۰۳ میں عراق پر قبضے کے دوران مارے گئے تھے منعقد ہو گا ۔

پیچھے کی طرف واپسی ،

اس سال عراق پر قبضے کی پندرہویں سالگرہ کے موقعے پر یہ ملک اس وقت ۳۸ شہروں کی تباہی اور نابودی کے بعد اور ان کو داعش کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے اور اس ملک کے شمال کے تین صوبوں کی طرف ملک سے علیحدہ ہو جانے کے فیصلے کے بعد اب بھی انہوں نے مرکزی حکومت کے ساتھ اپنے روابط کو بچا کر رکھا ہوا ہے ، عراق کو طرح طرح کی مشکلوں کا سامنا ہے ۔

ان حالات کے چلتے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس ملک میں ۱۴ ملکوں کے فوجی مختلف اغراض و مقاصد اور مختلف عناوین کے تحت موجود ہیں ،جن میں سب سے اہم ، امریکہ ،ترکی ،برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی ، آسٹریلیا اور کنیڈا ہیں اور وہ بھی اتنی تعداد میں کہ جس کی مرکزی حکومت کو بھی اطلاع نہیں ہے ، ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کونسا ملک اپنی فوج کو خارج کرتا ہے اور کون سا داخل کرتا ہے ، اس توجیہ کے ساتھ کہ اس طرح کا آنا جانا ،سیاسی موضوع ہے جس کا امنیت اور امنتی مشنری اور اطلاعاتی مشنری سے کوئی ربط نہیں ہے ۔

اسی طرح اس ملک میں ۱۱۵ ہزار نیم فوجی موجود ہیں  کہ جن کی ۷۳ بٹالینیں ہیں ، الحشد الشعبی اس ملک کی سب سے پہلی طاقتور فوج ہے اور فوجی طاقت کے لحاظ سے اس کے بعد عراق کی مسلح فوج ہے اور تیسرے نمبر پر  کردوں کی فوج ہے کہ جن کو پیشمرگہ کہا جاتا ہے ۔

اس سلسلے میں اس کے باوجود کہ عراق سے بعث پارٹی کی حاکمیت کو سمٹے ہوئے ۱۵ سال ہو رہے ہیں اور تین پارلیمانی انتخابات بھی ہو چکے ہیں اور مذہبی گروہوں کے درمیان سمجھوتے اس ملک پر حکومت کی تشکیل کا سبب بنے ہیں لیکن یہ ملک اب بھی بحران کا شکار ہے ۔

امن کی بحالی کے بعد عراقیوں کو سال ۲۰۱۸ میں  عراقیوں کی سب سے بڑی مشکل  بنیادی ضرورتوں  جیسے پینے کے صاف پانی ، بجلی ، اور علاج معالجےکے سلسلے میں ہے کہ گذشتہ صدی میں ان کے اجداد ان سے بہرہ مند تھے ۔

عراق کے المدنی گروہ کے رہنما حسام العیسی کا کہنا ہے کہ : عراق کے لوگ موت کی سر حد تک اس بات کے مشتاق ہیں کہ حکومت قانون پر عمل کرےاور انسانیت کا احترام کرے ، اور سیکیوریٹی فرسز اور نیم فوجی گروہ اپنے اندر سے اس احساس کو ختم کریں کہ وہ عراقیوں کی جان اور ان کے اموال پر حاکم ہیں ، جس کو  چاہیں قتل کر سکتے ہیں اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ۔

جھنجھوڑ دینے والے اعداد و شمار ،

عراق کی وزارت صحت کی فائلوں سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ اس ملک پر غاصبانہ قبضے کے دوران کتنے عراقیوں کی جانیں گئی ہیں ان تک کوئی رسائی نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ۲۷۰۰ عراقی کہ جو زمینی جنگ اور ہوائی حملوں کے دوران مارے گئے ان کا کیا ہوا اس کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔ اور یہ عدد ان کے مقابلے میں کچھ نہیں کہ جو امریکہ کے قبضے کے دوران مارے گئے ، کہ جن کی تعداد گذشتہ سال پہلی مارچ تک ۵ لاکھ بتائی جاتی ہے اور اس سے دوگنے زخمی بتائے جاتے ہیں جب کہ ان زخمیوں میں سے دوتہائی ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے ہیں ۔

ان فائلوں سے امریکیوں کے جھوٹ کا بھی پردہ فاش ہوتا ہےکہ جو عراق پر دو سال کے قبضے میں اس کی اشاعت کر رہے تھے اور وہ یہ تھا کہ عراق کے جنوب کے شہر اس ملک کے شمال اور مغرب کے شہروں کے بر خلاف  فوجی کاروائی کے نتائج سے محفوظ ہیں ۔ جب کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰ مارچ سے ۱۴ اپریل ۲۰۰۳ کے دوران ،بصرہ ، ناصریہ ، اور سماوہ بغداد کے بعد ، فلوجہ اور موصل میں سب سے زیادہ جانیں گئی ہیں جن میں غیر فوجی  اور عراق کے سابقہ فوجی شامل ہیں کہ جس کے نتیجے میں بغداد کی دفاعی دیواریں ڈھے گئی تھیں ۔ حمورابی، مدینہ منورہ ، خالد بن ولید ، اور امام علی نام کی فوج جو صدارتی گارڈ سے وابستہ تھیں وہ بھی اس میں شامل ہیں کہ جن پر شدید ہوائی اور میزائلی حملے ہوئے تھے اور بین الاقوامی رپورٹوں کی بنیاد پرعراق اور سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک السماوہ ، الدورہ اور ہوائی اڈے کی جھڑپوں میں امریکی فوجوں نے عراقی فوجوں کے خلاف ممنوعہ ہتھیار بھی استعمال کیے تھے ۔

مذکورہ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریبا ۶۰ ہزار عراقیوں کا کوئی پتہ نہیں اور عراق کی وزارت شہر داری کے اعلان کی بنا پر اس ملک میں تقریبا ۲۳ ہزار قبریں ایسی ہیں جن میں نا معلوم افراد دفن ہیں ان میں زیادہ تر نجف ، بغداد ، موصل اور فلوجہ میں ہیں اور یہ ان دسیوں ہزار عراقیوں سے الگ ہیں کہ جن کو زبردستی قید کیا گیا ہے یا گم شدہ ہیں ۔

بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے عراق پر قبضے کے بعد ۸ میلین عراقی بے گھر ہو گئے ، جن میں سے ۵ میلین نے دنیا کے ۶۴ ملکوں کی طرف ہجرت کی کہ جن میں کچھ عربی ملک ہیں جیسے اردن ، لبنان ، مصر اور شام اور غیر عربی ملک جیسے ترکی یورپین یونین کے ملک ان مہاجروں کو جگہ دینے میں سر فہرست ہیں ۔

لیکن ۳ میلین مہاجر عراق کے اندر ہیں جو پناہ گزینوں کے خیموں یا دوسرے شہروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ جب کہ عراق کی بیوہ عورتوں اور بچوں کے خیل عظیم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور عراق کی وزارت امور اجتماعی کی درخواست کے باوجود کہ اس سلسلے میں جدید ترین اعداد و شمار کا اعلان کیا جائے ،لیکن ان کی تعداد معلوم نہیں ہے لیکن گذشتہ سال جو تعداد بتائی گئی ہے اس کے مطابق ۵۔۶ میلین یتیم اور بیوہ عورتیں ہیں ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس ملک میں ناخواندگی کی اوسط شرح بڑھ رہی ہے اور ۲۲ فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ سال ۲۰۱۴ میں یہ شرح ۱۸ فیصد تھی ۔

بیکاری کی شرح ۳۲ فیصد ، فقر کی شرح تقریبا ۳۵ فیصد اور جرم و جنایت کی شرح روزانہ ۴۰ فیصد بتائی گئی ہے جو عربی ملکوں میں سب سے اونچی شرح ہے ، ایک چیز جو امیدوار کرنے والی ہے وہ اس سال دہشت گردانہ کاروائیوں میں ۵۰ فیصد کی کمی ہے ۔

سیاستمداروں کا نظریہ ،

عراق پر حکمراں گٹھ بندھن کے ایک رہنما"صادق المحنا" کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کے زوال کے بعد عراق کے لوگوں کو تغییر و تبدل کی امید تھی اور یہ کہ ان کا ملک پوری طاقت کے ساتھ ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم عراق کی پسماندگی کو دیکھ رہے ہیں پہلے عراق کے لوگ تغیر و تبدیل کو مثبت نگاہ سے دیکھ رہے تھے  ۔لیکن آج بالکل نا امید ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ حالیہ انتخابات تغییر و تبدیل کی رفتار کو کہ موجودہ حکومت نے شروع کی تھی جاری رکھیں گے اور ان کی وجہ سے حقیقی تبدیلی آئے گی ۔

دوسری طرف کردستان کے گٹھ بندھن کے نمایندے" ماجد شنکالی" کا یہ ماننا ہے کہ سابقہ حکومت کو گئے ہوئے ۱۵ سال گذرنے کے باوجود ، نہ صرف کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ پسماندگی آئی ہے ۔         

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر