تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایران اسرائیل پر کب،کہاں ، کیسے حملہ کرے گا؛صہیونی حکومت کے لیے خوفناک افواہیں

نیوزنور:شام کے حریم پر صہیونی حکومت  کے لگاتار حملوں اور بھڑکانے والے نقصانات سے دوچار  کرنے کے ساتھ لبنان میں محافل ایران کی جانب سے اس کے جواب کے لازمی ہونے کی بات کرتی ہیں ۔لیکن مناسب موقعے اور محل پر ، نہ ایسے حالات میں کہ جیسے صہیونی حکومت چاہتی ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۲۰۳۴ : // تفصیل

ایران اسرائیل پر کب،کہاں ، کیسے حملہ کرے گا؛صہیونی حکومت کے لیے خوفناک افواہیں 

نیوزنور:شام کے حریم پر صہیونی حکومت  کے لگاتار حملوں اور بھڑکانے والے نقصانات سے دوچار  کرنے کے ساتھ لبنان میں محافل ایران کی جانب سے اس کے جواب کے لازمی ہونے کی بات کرتی ہیں ۔لیکن مناسب موقعے اور محل پر ، نہ ایسے حالات میں کہ جیسے صہیونی حکومت چاہتی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی تجزیہ نگار وحید صمدی  نے ایران اور اسرائيل کے درمیان چھڑنے والی احتمالی جنگ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ؛کل روز نامہ الاخبار کے مدیر نے ایک مضمون لکھا ، جس کا موضوع تھا ؛"في انتظار الرد الإيراني" ایران کے جواب کے انتظار میں ، اور کہا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے بغیر کسی خوف اور لحاظ کے دشمن کو جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسرائیل کے فوجی ڈھانچے پر وہ زخم لگائے گا کہ جو تل ابیب نے لگایا ہے یا اس سے بھی بڑا ۔

ابراہیم الامین نے لکھا ہے ، لوگ برابر پوچھ رہے ہیں کہ کب ؟ کہاں ؟ اور کیسے ؟ لیکن نہ ایران اور نہ دشمن کو زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے یہ یقین کرنے کے لیے کہ حملہ براہ راست اسرائیل کی فوج پر ہو گا اور اس کا میدان بھی فلسطین اور اس کے آس پاس ہو گا ، لیکن لوگ جو جاننا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایران خود اس کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے گا اور اس کو نایب نقاب یا چہرے کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے پاس نہ وسایل کی کمی ہے اور نہ ارادے یا عملی شجاعت کی ، اور ہمیں تو بس انتظار کرنا چاہیے ۔

الامین نے اس کی چار دلیلیں ذکر کی ہیں : ۱۔ ایران اسرائیل کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے ، ۲ ۔ ایران اسرائیل کے مخالفین کی حمایت کرتا ہے ، ۳ ۔ شام میں ایران کی موجودگی صرف شام کی مدد کے لیے نہیں ہے ،بلکہ اس کا مقصد اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک کی تقویت ہے ،۴ ۔ اسرائیل خود جانتا ہے کہ ایران ایسی کسی بھی طرح کی حمایت سے کہ جو اسرائیل کی نابودی پر منتہی ہو دست بردار نہیں ہو گا ، ان دلیلوں کے ذکر کرنے کے بعد اس نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے جواب قطعی ہے ۔

آج بھی لبنان کے روزنامے الجمہوریہ حزب اللہ کے اندر کچھ ذرائع سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ایرانی کمانڈروں نے تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایران جواب نہ دے لیکن وہ مناسب موقعے اور محل پر جواب دے گا ۔

یہ چیز واضح نہیں ہے کہ الجمہوریہ کا سورس کون لوگ ہیں ، اور اس بات کی صحت صرف حزب اللہ کے قریب یا اس سے متعلق ذرائع ابلاغ کے ذریعے قابل تائیید ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہماری اطلاعات کے مطابق ایرانی چاہتے ہیں کہ اسرائیل کوجو جواب دیا جائے وہ دردناک ہو اور جس طرح ایران نے حملے کی سات قربانیوں کے جنازوں کی تشییع کی ہے اسرائیل کو بھی اپنے فوجیوں کی تشییع کرنا پڑے ۔

یہ مسئلہ سید حسن نصر اللہ کی تقریر سے بھی قابل فہم ہے انہوں نے تاکید کی ہے کہ صہیونی حکومت نے بہت بڑی حماقت کی ہے کہ اس نے خود کو ایران کے مقابلے پر لا کھڑا کیا ہے ۔

اس بنا پر صہیونی حکومت یقینا اس نکتے کو جانتی ہے کہ اگر اب تک وہ حزب اللہ کو چوٹ دیتی تھی اور بدلے میں چوٹ کھاتی تھی تو ایران کے سلسلے میں یہ قاعدہ قدرے مختلف ہے اور وہ یہ کہ وہ چوٹ پہنچائے گی اور اس سے زبردست چوٹ کھائے گی چہ جائیکہ اس بات پر اصرار ہے کہ جواب پشیمان کرنے والا ہو گا ۔

پشیمان کرنے والا جواب ، بقول عربوں کے مفروغ عنہ  یعنی حتمی ہے، یعنی یہ مسئلہ قطعی ہے ، جس کے بارے میں بحث کی گنجائش نہیں ہے ۔ بحث یہ ہے کہ صہیونی حکومت نے جو کچھ شام میں کیا ہے وہ اس کے جواب کے انتظار میں ہے اور اس کا مقصد تہران کو اس میں گرفتار کرنا اور علاقے میں ایران کے خلاف مغربی عربی اتحاد تیار کرنا ہے ۔

تل ابیب ۱۲ مئی کے وعدے کو نظر میں رکھتے ہوئے کوشش میں ہے کہ ایران سے رد عمل وصول کرنے کے بعد شام اور علاقے میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر پردہ ڈالنا ہے اور امریکہ اور ایران کو آمنے سامنے کر کے گدلے پانی سے بہترین نتیجہ حاصل کرے ۔

حالیہ فوجی اقدامات کے بعد آج سے اسرائیلیوں نے ذرائع ابلاغ میں فضا ہموار کرنا شروع کر دی ہے ۔ آٰ ۲۴ چینل نے وزارت جنگ میں ایک عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ایران نے شام میں ہوائی ٹھکانہ بنایا ہے وہ بدلہ لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔

ادھر بنیامین نے آج شاباک اور موساد کے مقتولین کے مزار پر حاضری دی اور ایران کی طرف واضح اشارہ کیے بغیر دعوی کیا کہ اندھیرے  کی فوج گذشتہ کی طرح فلسطین کے باہر اس حکومت کے افراد کو قتل کرنے  کا ارادہ رکھتی ہے ۔

نہ فوجی تحریک اور نہ ذرائع ابلاغ کی اور سیاسی ماحول سازی  کوئی چیز بھی  تل ابیب کو اس کے مقصد تک نہیں پہنچائے گی ۔ ایران اپنی سیاست میں ضروری صب سے کام لینے کے اعتبار سے مشہور ہے ، اور اس بات کے لیے بھی مشہور ہے کہ اسرائیل کی شرارتوں کو بھی بغیر جواب کے نہیں جانے دیتا دیر ہو سکتی ہے لیکن ہار کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔

لکھنے والے کو یاد ہے کہ گذژتہ ماہ دی مطابق جنوری ۲۰۱۸ کو المیادین چینل پر ایک مضمون اس عنوان کا کہ اس وقت کیا ہو گا کہ اگر ایران حملے کے دفاؑ کے ذریعے حالات کو دگر گوں کر دے ؟ پڑھنے کو ملا تھا کہ کہ جس کے آخر میں لکھا تھا کہ اسرائیل عنقریب ہی عربی ملکوں کے ساتھ اپنے آشکارا اتحاد پر فخر کرے گا   لیکن اس کے سیاسی عقلاء اور واشنگٹن کے اور وہ لوگ کہ جو ان کے پشت پناہ ہیں اچھی طرح جان لیں کہ ایرانی پستہ کی کاشت اور قالی بافی میں کہ جن دونوں کاموں سے تدریجا کام کر کے نتیجے کے حصول میں دیر لگتی ہے ، بہت مہارت رکھتا ہے ۔ جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ پستہ کی کاشت میں لمبے صبر و حوصلے اور لمبی مدت کی سرمایہ گذاری اور مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

پس سوموار ۱۶ اپریل  کے مضمون میں ٹامس فریڈ مین  نے نیو یارک ٹائمز میں ، اس سرخی کے ساتھ کہ شام میں اس کے بعد اصلی جنگ ، ایران اور اسرائیل کے درمیان ہو گی ، اور اسرائیلیوں کو بتا دیں کہ اپنی کمریں کس لیں !  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر