my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 32613
: //
نئے ایرانی سال کے آغاز پرحضرت امام خامنہ ای کا ایرانی عوام کے نام پیغام

نیوزنور: (ایرانی )نئے سال کا آغاز حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے شہادت کے ایام سے متصل ہے۔ خاندان رسول اور پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی دختر گرامی سے ہمارے عوام کی عقیدت و محبت کے کچھ تقاضے ہیں، سب کو چاہئے کہ ان تقاضوں کو ملحوظ رکھیں اور یقینا سب ملحوظ رکھیں گے۔ امید ہے کہ یہ ایام اور یہ سال برکات فاطمیہ سے سرشار اور آراستہ ہوں گے اور سنہ 1394 (ہجری شمسی مطابق 21 مارچ 2015 الی 20 مارچ 2016) میں اس عظیم ہستی کے اسم مبارک اور آپ کے ذکر کے عمیق و پائيدار اثرات ہمارے عوام کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ ہماری دعا ہے کہ فطرت کی بہار کا آغاز جو ہجری شمسی سال کا سرآغاز ہوتا ہے، ملت ایران اور ان تمام اقوام کے لئے جو نوروز مناتی ہیں، مبارک ہو۔ میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کی بارگاہ میں خاکسارانہ سلام و تہنیت پیش کرتا ہوں اور اس موقع پر اپنے عظیم الشان امام (خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ) اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان پاکیزہ ارواح کی دعاؤں اور ان کے انفاس طیبہ کی برکتوں سے ہمیں بہرہ مند فرمائے گا۔

نئے ایرانی سال کے آغاز پر  حضرت امام خامنہ ای  کا ایرانی عوام کے نام پیغام

نیوزنور: (ایرانی )نئے سال کا آغاز حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے شہادت کے ایام سے متصل ہے۔ خاندان رسول اور پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی دختر گرامی سے ہمارے عوام کی عقیدت و محبت کے کچھ تقاضے ہیں، سب کو چاہئے کہ ان تقاضوں کو ملحوظ رکھیں اور یقینا سب ملحوظ رکھیں گے۔ امید ہے کہ یہ ایام اور یہ سال برکات فاطمیہ سے سرشار اور آراستہ ہوں گے اور سنہ 1394 (ہجری شمسی مطابق 21 مارچ 2015 الی 20 مارچ 2016) میں اس عظیم ہستی کے اسم مبارک اور آپ کے ذکر کے عمیق و پائيدار اثرات ہمارے عوام کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ ہماری دعا ہے کہ فطرت کی بہار کا آغاز جو ہجری شمسی سال کا سرآغاز ہوتا ہے، ملت ایران اور ان تمام اقوام کے لئے جو نوروز مناتی ہیں، مبارک ہو۔ میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کی بارگاہ میں خاکسارانہ سلام و تہنیت پیش کرتا ہوں اور اس موقع پر اپنے عظیم الشان امام (خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ) اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان پاکیزہ ارواح کی دعاؤں اور ان کے انفاس طیبہ کی برکتوں سے ہمیں بہرہ مند فرمائے گا۔

عالمی اردو خبررساں ادارہ نیوزنور نے قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کے  حفظ و نشر آثا دفتر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  امام نے ایرانی نئے سال کے آغاز کے موقعہ پر مندرجہ ذیل پیغام صادر کیا:

بسم ‌الله ‌الرّحمن ‌الرّحيم‌

يا مقلّب القلوب و الابصار، يا مدبّر اللّيل و النّهار، يا محوّل الحول و الاحوال، حوّل حالنا الی احسن الحال.

السّلام علی فاطمة و ابيها و بعلها و بنيها.

(ایرانی )نئے سال کا آغاز حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے شہادت کے ایام سے متصل ہے۔ خاندان رسول اور پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی دختر گرامی سے ہمارے عوام کی عقیدت و محبت کے کچھ تقاضے ہیں، سب کو چاہئے کہ ان تقاضوں کو ملحوظ رکھیں اور یقینا سب ملحوظ رکھیں گے۔ امید ہے کہ یہ ایام اور یہ سال برکات فاطمیہ سے سرشار اور آراستہ ہوں گے اور سنہ 1394 (ہجری شمسی مطابق 21 مارچ 2015 الی 20 مارچ 2016) میں اس عظیم ہستی کے اسم مبارک اور آپ کے ذکر کے عمیق و پائيدار اثرات ہمارے عوام کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ ہماری دعا ہے کہ فطرت کی بہار کا آغاز جو ہجری شمسی سال کا سرآغاز ہوتا ہے، ملت ایران اور ان تمام اقوام کے لئے جو نوروز مناتی ہیں، مبارک ہو۔ میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کی بارگاہ میں خاکسارانہ سلام و تہنیت پیش کرتا ہوں اور اس موقع پر اپنے عظیم الشان امام (خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ) اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان پاکیزہ ارواح کی دعاؤں اور ان کے انفاس طیبہ کی برکتوں سے ہمیں بہرہ مند فرمائے گا۔ ہم ایک اجمالی جائزہ سنہ 1393 (ہجری شمسی مطابق 21 مارچ 2014 الی 20 مارچ 2015) کا لیں گے اور ایک مختصر جائزہ رواں سال کا لیں گے جو اس وقت شروع ہو رہا ہے۔
سنہ 1393 (ہجری شمسی) ہمارے وطن عزیز کے لئے داخلی سطح پر بھی اور بیرونی و بین الاقوامی سطح پر بھی بڑے اہم واقعات و تغیرات کا سال رہا۔ کچھ مسائل در پیش ہوئے، کچھ پیشرفت بھی ہوئی۔ انہیں مسائل کے مد نظر ہم نے سنہ 1393 (ہجری شمسی) کے آغاز پر اس سال کا نام "قومی عزم اور مجاہدانہ انتظام و انصرام" کا سال رکھا۔ سنہ 1393 (ہجری شمسی) میں جو کچھ در پیش رہا اس کا جائزہ لینے پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ قومی عزم بحمد اللہ ظاہر اور نمایاں رہا۔ ملت ایران نے ان مشکلات کو برداشت کرنے کے تعلق سے بھی جو اسے در پیش تھیں، عزم محکم کا مظاہرہ کیا اور 22 بہمن (مطابق 11 فروری اسلامی انقلاب کی فتح کی تاریخ) کے موقع پر، یوم القدس کے موقع پر اور اس سال اربعین کے عظیم جلوسوں میں بھی اس عزم اور اس بلند ہمتی کا منظر پیش کیا۔ مجاہدانہ انتظام و انصرام بھی بعض شعبوں میں ظاہر اور نمایاں تھا۔ جہاں مجاہدانہ انتظام و انصرام دیکھا گیا وہاں ہم نے پیشرفت کا بھی مشاہدہ کیا۔ البتہ یہ سفارش صرف سنہ 1393 (ہجری شمسی) سے مختص نہیں ہے۔ رواں سال کے لئے بھی اور آئندہ تمام برسوں کے لئے بھی ہماری قوم کو قومی عزم کی بھی ضرورت ہے اور مجاہدانہ انتظام و انصرام کی بھی ضرورت ہے۔
سنہ 1394 (ہجری شمسی مطابق 21 مارچ 2015 الی 20 مارچ 2016) میں عزیز قوم کے لئے ہماری کچھ آرزوئیں ہیں اور یہ تمام آرزوئیں دسترس کے اندر ہیں۔ اس سال میں قوم کے لئے ہماری آرزوؤں میں اقتصادی پیشرفت ہے، علاقائی و بین الاقوامی سطح کا وقار اور مقتدرانہ پوزیشن ہے، حقیقی معنی میں علمی و سائنسی جست ہے، عدلیہ اور معیشت کی سطح پر مساوات ہے، ایمان و روحانیت ہے جو سب سے زیادہ اہم اور دیگر تمام اہداف کی پشت پناہ ہے۔ ہماری نظر میں یہ تمام اہداف اور آرزوئیں دسترس کے اندر ہیں۔ ان میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو ملت ایران کی ظرفیت و صلاحیت اور اسلامی نظام کی استعداد کے باہر ہو۔ ہماری صلاحیتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس ضمن میں بیان کرنے کے لئے کچھ باتیں ہیں جن میں اہم نکات کا ذکر ہفتے کی شام کی تقریر میں کیا جائے گا۔
اس وقت اپنی عزیز قوم کی خدمت میں جو بات عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ یہ عظیم صلاحیت و استعداد دسترس کے اندر ہے لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ ایک اہم ترین شرط، ملت اور حکومت کے درمیان پرخلوص تعاون سے عبارت ہے۔ اگر دونوں جانب سے یہ پرخلوص تعاون انجام پائے تو یقینا وہ تمام چیزیں جو ہماری آرزوؤں میں شامل ہیں، ہماری دسترس میں آ جائیں گی اور ان کے اثرات کا مشاہدہ عوام خود اپنی آنکھوں سے کریں گے۔ حکومت، عوام کی خدمت گزار ہے اور عوام حکومت کے مالک ہیں۔ عوام اور حکومت کے درمیان خلوص، تعاون اور ہمدلی جتنی زیادہ ہوگی، کام اتنے بہتر انداز میں آگے بڑھیں گے۔ دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کریں؛ حکومت بھی حقیقی معنی میں عوام کو اہمیت دے، ملت کی توانائیوں، اس کی اہمیت اور قدر و قیمت کو صحیح طور پر تسلیم کرے اور عوام بھی حکومت پر جو ان کے کاموں کی انجام دہی پر مامور ہے، حقیقی معنی میں اعتماد کریں۔ اس سلسلے میں بھی مجھے کچھ باتیں کہنی ہیں اور کچھ سفارشیں کرنی ہیں، ان شاء اللہ اپنی تقریر میں ان کی طرف اشارہ کروں گا۔ بنابریں میری نظر میں اس سال کو حکومت اور عوام کے درمیان وسیع تعاون کا سال قرار دینا چاہئے۔ میں نے اس سال کے لئے اس نعرے کا انتخاب کیا ہے؛ 'حکومت اور عوام، ہمدلی و ہم زبانی' میں امید کرتا ہوں کہ یہ نعرہ جامہ عمل پہنے گا اور اس نعرے کے دونوں 'پلڑے' یعنی ہماری عزیز قوم ، ہماری عظیم قوم، ہماری بلند ہمت اور شجاع قوم، ہماری با بصیرت اور دانا قوم اسی طرح خدمت گزار حکومت دونوں اس نعرے پر حقیقی معنی میں عمل کریں گے اور اس کے اثرات و ثمرات کا مشاہدہ کریں گے۔
اللہ تعالی سے ملک کے تمام امور کی پیشرفت کی التجا کرتا ہوں اور بارگاہ خداوندی میں، خدمت گزاری کی توفیق کے لئے دعا گو ہوں۔

و السّلام عليكم و رحمة الله و بركاته‌

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر