my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 41440
: //
ابوفاطمہ عبدالحسینی:
زینب بنت علی(ع)انسانیت کی مشعل راہ ،خدامحوری میں مخاطب شناسی کے ساتھ تبلیغ کرنے کا ہنر سکھانے والی خدائی نمونہ

نیوزنور: اور جب دشمن خدا نے پوچھا:" كيف رأيت فعل الله بأخيك؟ "(دیکھا اللہ نے تمہارے بھائی کا کیا حشر کر دیا) تو  یوں مخاطب ہوتی ہے:«ما رأیت الّا جمیلا»یہاں پر مرثیہ نہیں پڑا بلکہ فرمایا: ما رأیت الّا جمیلاکیوں،کیونکہ یہاں پر  "لَا تَقُولُوا رَاعِنَا" وَقُولُوا انْظُرْنَا"(البقرة/104) کے مانند موقف اختیار کرنا تھا کہ بات کا غلط معنی نہ نکالا جائے ۔ وہ یوں کہ جب اللہ کے دشمنوں نے وحی کا مذاق بنانا چاہا  ، ایک جملےکو لے کر، رسول اللہ " رَاعِنَا " کہتے تھے ، جو یہودی تھے ، اسلام دشمن عناصر تھے  وہ اس کا بھی مذاق بنارہے تھے کہ دیکھئے کہ  کیا کہہ رہیں رسول خدا ۔  تو خدا کو بھی وہ لب و لہجہ بدلنا پڑا وحی نازل ہوئی  کہ "قُولُوا انْظُرْنَا"۔ جبکہ " رَاعِنَا " اور"انْظُرْنَا " کا مطلب ایک ہی ہے لیکن چونکہ دشمن اس کا غلط معنی نکالتا ہے تو  اسلئے آپ " رَاعِنَا " نہ کہیں بلکہ"انْظُرْنَا "  کہیں ۔ اسی لئے ہم جب اما بارگاہوں میں عزاداری کرتے ہیں تو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزادار ہوتے ہوئے آنحضور کے غم میں شریک غم ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارا انداز جذباتی  ہوتا ہے ۔ لیکن جب سڑکوں پر آتے ہیں۔ ہمارا انداز بدل جاتا ہے ہماری عزاداری جذباتی نہیں بلکہ تبلیغی ہوتی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے جملے" ما رأیت الّا جمیلا " کی تفسیر ہوتی ہے۔

ابوفاطمہ عبدالحسینی:

زینب بنت علی(ع)انسانیت کی مشعل راہ ،خدامحوری میں مخاطب شناسی کے ساتھ تبلیغ کرنے کا ہنر سکھانے والی خدائی نمونہ

نیوزنور: اور جب دشمن خدا نے پوچھا:" كيف رأيت فعل الله بأخيك؟ "(دیکھا اللہ نے تمہارے بھائی کا کیا حشر کر دیا) تو  یوں مخاطب ہوتی ہے:«ما رأیت الّا جمیلا»یہاں پر مرثیہ نہیں پڑا بلکہ فرمایا: ما رأیت الّا جمیلاکیوں،کیونکہ یہاں پر  "لَا تَقُولُوا رَاعِنَا" وَقُولُوا انْظُرْنَا"(البقرة/104) کے مانند موقف اختیار کرنا تھا کہ بات کا غلط معنی نہ نکالا جائے ۔ وہ یوں کہ جب اللہ کے دشمنوں نے وحی کا مذاق بنانا چاہا  ، ایک جملےکو لے کر، رسول اللہ " رَاعِنَا " کہتے تھے ، جو یہودی تھے ، اسلام دشمن عناصر تھے  وہ اس کا بھی مذاق بنارہے تھے کہ دیکھئے کہ  کیا کہہ رہیں رسول خدا ۔  تو خدا کو بھی وہ لب و لہجہ بدلنا پڑا وحی نازل ہوئی  کہ "قُولُوا انْظُرْنَا"۔ جبکہ " رَاعِنَا " اور"انْظُرْنَا " کا مطلب ایک ہی ہے لیکن چونکہ دشمن اس کا غلط معنی نکالتا ہے تو  اسلئے آپ " رَاعِنَا " نہ کہیں بلکہ"انْظُرْنَا "  کہیں ۔ اسی لئے ہم جب اما بارگاہوں میں عزاداری کرتے ہیں تو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزادار ہوتے ہوئے آنحضور کے غم میں شریک غم ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارا انداز جذباتی  ہوتا ہے ۔ لیکن جب سڑکوں پر آتے ہیں۔ ہمارا انداز بدل جاتا ہے ہماری عزاداری جذباتی نہیں بلکہ تبلیغی ہوتی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے جملے" ما رأیت الّا جمیلا " کی تفسیر ہوتی ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی کے "صبح ہدایت" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام سید عبدالحسین موسوی قلمی نام ابو فاطمہ عبدالحسینی سےآنلاین مکالمے کے دوران "انقلاب و استقامت زینب سلام اللہ علیہا" کے حوالے سے جو انٹرویو2016 میں لیا گیا تھا آج15رجب روز وفات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

سوال: ہم جناب زینب سلام اللہ علیہا کی کتنی شناخت رکھتے ہیں؟

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمين‏ ۔ اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِي بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِي التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِي لِلَّتِي هِيَ أَزْكَى۔

یہ ایام عزا صاحب عزا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں بالخصوص اور آپ کے نائب امام خامنہ ای اوراسلامی سرحدوں کے پاسبان مراجع اعظام تقلید،علمای اعلام حجج الاسلام مروجین دین مبین اور عاشقان مکتب محمد و آل محمد  کی خدمت میں تسلیت عرض  کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں مرجع عالیقدر ولی فقیہ نائب امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای جیسے ولی خدا اظہار نظر کرسکتے ہیں مجھ جیسا  کم ظرف طالبعلم صرف آپ کے اقوال کو نقل کرنے کی سعادت حاصل کرسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کا دعوی ہے کہ تاریخ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مثال ملنا ناممکن ہے۔

امام خامنہ ای فرماتے ہیں:"حضرت زینب  سلام اللہ علیہاکربلا کی جانب سفر میں بھی امام حسین علیہ السلام  کے ہمراہ تھیں اور روز عاشوراء کے حادثے  کے دن وہ تمام مصائب اور  آلام آپ کو بھی جھیلنے پڑے اور حسین ابن علی (علیہما السلام) کی شہادت کے بعد اہل حرم کی بے سہارا جماعت کے ساتھ کہ جن میں خواتین اور بچے رہ گئے تھے حضرت زینب سلام اللہ علیہا خدا کے ایک ولی کے عنوان سے اس طرح درخشندہ اور تابندہ ہوئیں کہ جن کی مثال نہیں لائی جا سکتی ۔ پوری تاریخ میں ان کی مثال نہیں پیدا کی جا سکتی ۔ اس کے بعد کوفے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہاکی اسارت کے دوران جو دردناک واقعات رونما ہوئے ،اور پھر شام میں جو کچھ ہوا اس سب سے لے کر آج تک کہ جب اسلامی تحریک کا ایک نیا آغاز ہے جو اسلامی تفکر کو آگے لے جانے کے لیے اور اسلامی سماج کو ترقی کی راہوں سے آشنا کرنے کے لیے ہے ۔اسی عظیم جہاد کی وجہ سے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے خدا کی بارگاہ میں ایک مقام حاصل کیا ہے کہ جس کی تعریف ہمارے لیے ناممکن ہے" ۔اوریہ الفاظ میرے نہیں ہیں بلکہ امام خامنہ ای جیسے ولی خدا کے ہیں جو ان تمام حقائق کوسب سے زیادہ اوربڑی گہرائي کے ساتھ محسوس کرتے ہیں ان کا بیان ہے۔

امام خامنہ ای مدظلہ العالی کا یہ خاکہ انتہائي غور طلب ہے کہ  پیامبر کربلا حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مثال تاریخ میں ملنا کیوں نا ممکن ہے۔ یہ کہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب تو کربلا میں ایک بار شہید ہوئے۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہر ایک شہید کے ساتھ ایک ایک بار شہید ہوئی۔روز عاشورا کے حادثے کے دن تمام مصائب اور آلام جھیلنا یہی کہ حضرت ابیطالب علیہ السلام کے 30 فرزندوں کو میدان کارزار میں خون میں لہو لہان ہوتے دیکھنا اور حکم خدا اور صبر کا دامن نہ چھوڑنا۔یہ جو کل تک بعض نام نہاد مسلمان حضرت ابوطالب علیہ السلام کو کافر قرار دیتے نہیں تھکتے تھے اور آج حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کو مسمار کرنے پر تلے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام کو تحریف ہونے سے حضرت ابوطالب علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ کسی کے ساتھ موازنہ ممکن نہیں۔کربلا میں ہم شبیہ نبی آخرالزمان علی اکبر علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ خود بھی شہید ہونا، علی اکبر کا بارہ پارہ جگر دیکھ کر خود حضرت زینب کا جگر  پارہ پارہ ہونا۔ بنی ہاشم کے 3 بچوں(علی اصغر، عبداللہ بن حسن اور قاسم بن حسن) اور اصحاب کے 2 بچوں(محمد بن ابی سعید اور عمرو بن جنادہ) کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا۔ اپنے 9 بھائیوں کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا ۔اپنے بھائی امام حسن مجتبی کے 4 بیٹوں کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا۔ اپنے بھائي اور وقت کے امام حضرت حسین علیہ السلام کے 3 بیٹوں کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا۔ اپنے چچا جعفر طیار کے 4 بیٹوں اور چچیرے بھائی عقیل کے 12 بیٹوں کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا اور اصحاب امام حسین کی شہادت کے ساتھ شہید ہونا اس پر اپنے وقت کے امام اور بھائی کے جسم پر نیزوں کے 33 زخم  اور شمیر کے 34 ضربت لگتے دیکھنا  اور اس پر فرمانا : «ما رأیت الّا جمیلا» جو کچھ ہم نے دیکھا وہ جمیل اور زیبا تھا ، شہادت تھی ، داغ تھا لیکن سب راہ خدا میں تھا ،اسلام کی حفاظت کے لیے تھا تاریخ میں ایک ایسا نمونہ پیش کرنا تھا تا کہ امت اسلام یہ سمجھ جائے کہ ان کو کیا کرنا چاہیے ، کیسے حرکت کرنا چاہیے ، کیسے مقابلہ کرنا چاہیے ۔ 

حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا میں فرق ،

الہی سنت اور اسلامی پیغام یہ ہے کہ خواتین ایمان اور کفر کی مشعل راہ ہیں نہ کہ مرد۔یہ نکتہ غور طلب ہے کہ ہم اس کی طرف کم توجہ کرتے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن نے اللہ نے جو رول ماڈل  بتایا ہےوہ خواتین کو بتایا ہے ۔ کفر کے میدان میں بھی اور ایمان کے میدان میں بھی ، اس حوالے سے بہترین موازنہ ہے خود امام خامنہ ای کا ، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کا دعوی ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا حضرت مریم بنت عمران سلام اللہ علیہا اور آسیہ سلام اللہ علیہا سے بھی افضل ہے۔ آپ اس حوالے سے فرماتے ہیں:"آپ ملاحظہ کیجیے : قرآن مجید میں ایمان کے ایک کامل نمونے کے طور پر خدا نے دو خواتین کی مثال دی ہے ؛ اور کفر کے نمونے کے طور پر بھی دو خواتین کی مثال دی ہے ۔  ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَينِ مِنْ عِبَادِنَا (التحريم/10)؛[اللہ نے کفار کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال پیش کی ہے، یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں] اور یہ دو مثالیں ان عورتوں سے متعلق ہیں کہ جو کفر کا نمونہ ہیں ،یعنی نمونے کے طور پر مردوں کی مثال نہیں دی ہے بلکہ خواتین کی مثال دی ہے  کفر کے باب میں بھی اور ایمان کے باب میں بھی ۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ (التحريم/11)[ اور اللہ نے مومنین کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کی ہے] ،ایمان کے ایک کامل نمونے کے طور پر ایک فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے اور ایک حضرت مریم کبری ، مریم بنت عمران کی ۔حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا اور فرعون کی بیوی کے درمیان ایک مختصر سے موازنے سے حضرت  زینب کبری سلام اللہ علیہا کے مقام کی عظمت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں فرعون کی بیوی کو ایمان کا نمونہ بتایا گیا ہے اور وہ بھی دنیا کے آخر تک پوری دنیا کے مردوں اور خواتین کے لیے ۔ اب فرعون کی بیوی کا مقایسہ کریں کہ جو حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لائی تھی اور اس ہدایت کی دلدادہ تھی کہ جو حضرت موسی علیہ السلام پیش کر رہے تھے جب اس کو فرعونی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور تاریخ اور روایات کی روشنی میں وہ انہی اذیتوں کی وجہ سے دنیا سے چلی گئیں ، جسمانی اذیت کے دوران ان کی فریاد بلند ہوئی ؛ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ (التحريم/11)، انہوں نے خداوند متعال سے درخواست کی کہ پروردگارا جنت میں میرے لیے گھر بنا ، حقیقت میں وہ موت طلب کر رہی تھیں ؛ وہ چاہتی تھیں کہ دنیا سے چلی جائیں " وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ "  مجھے فرعون اور فرعون کے گمراہ کن عمل سے نجات عطا کر ۔ حالانکہ حضرت آسیہ فرعون کی بیوی کی اذیت و تکلیف اور ان کا درد و رنج جسمانی تھا ،انہوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح ،بھائیوں دو بیٹے اور بڑی تعداد میں رشتے دار اور بھتیجے نہیں کھوئے تھے  اور ان کی آنکھوں کے سامنے وہ مقتل میں نہیں گئے تھے ۔یہ روحانی اذیتیں کہ جو حضرت زینب سلام اللہ علیہاکو جھیلنا پڑیں وہ فرعون کی بیوی جناب آسیہ کو نہیں جھیلنا پڑیں ۔عاشور کے دن زینب کبری نے اپنے اتنے عزیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مقتل میں گئے ہیں اور شہید ہو گئے ہیں ۔ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کو دیکھا ،عباس کو دیکھا ، علی اکبر کو دیکھا ، قاسم کو دیکھا ،اپنے بچوں کو دیکھا ، اپنے دوسرے بھائیوں کو دیکھا ، شہادت کے بعد اس قدر مصیبتیں جھیلیں ،دشمن کا حملہ ، بے احترامی ، بچوں اور خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ،آیا ان مصیبتوں کی شدت کا جسمانی مصائب سے مقایسہ کیا جا سکتا ہے؟

آپ غور کریں یہ امام خامنہ ای کے جملات ہیں جو ہمیں دعوت فکر دے رہے ہیں  کہ اللہ نے ایکطرف ہمیں کہا ہے کہ فرعون کی بیوی آپ کےلئے ایمان کی مثال ہے کیونکہ وہ فرعون کی مصیبت جھیل رہی تھی مگر جناب زینب سلام اللہ علیہا کے مصائب کا کیا کہیں گے آپ ۔

امام خامنہ ای اس حوالے سے اگے بڑ کے مزید فرماتے ہیں کہ :لیکن ان تمام مصیبتوں کے باوجود زینب سلام اللہ علیہا نے پروردگا سے عرض نہیں کی ؛ رب نجنی ، نہیں کہا : پالنے والے مجھے نجات عطا کر !! عاشور کے دن زینب نے عرض کی پروردگارا ! مجھ سے قبول فرما ! بھائی کے ٹکڑے ٹکڑے بدن کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر عرض کرتی ہیں ؛ پالنے والے اس قربانی کو ہماری طرف سے قبول فرما ! جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیسا پایا ؟ فرمایا : «ما رأیت الّا جمیلا»

اتنی بڑی مصیبت زینب کی آنکھوں کے سامنے جمیل ہے چونکہ خدا کی طرف سے ہے ،چونکہ خدا کے لیے ہے ، چونکہ خدا کی راہ میں ہے اس کے کلمے کی سر بلندی کے لیے ہے ،دیکھیے اس مقام کو ، صبر کے اس مقام کو حق و حقیقت کے لیے اس قدر دلدادگی کو ، یہ کتنا الگ ہے اس مقام سے کہ جسے قرآن کریم حضرت آسیہ کے لیے نقل کرتا ہے ۔اس سے زینب کے مرتبے کی بلندی کا پتہ چلتا ہے خدا کے لیے کام ایسا ہوتا ہے ۔اس لیے کہ زینب کا کام اور زینب کا نام آج نمونہ ہے اور دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔

دین اسلام کی بقا ، راہ خدا کی بقا ، بندگان خدا کی طرف سے اس راہ پر چلتے رہنا منحصر ہے اور اس نے توانائی حاصل کی ہے اس کارنامے سے جو حسین ابن علی  سلام اللہ علیہما نے انجام دیا تھا اور جو کام حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کیا تھا ۔ یعنی وہ صبر عظیم ، وہ پایداری ، وہ مصیبتوں اور مشکلوں کا برداشت کرنا  باعث بنا کہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ دینی قدریں پوری دنیا میں رائج قدروں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔یہ تمام انسانی قدریں کہ جو مختلف مکاتب میں ہیں اور بشری وجدان پر منطبق ہیں یہ وہ قدریں ہیں کہ جو دین سے برخاستہ ہیں ۔ان کی دین نے تعلیم دی ہے ۔ خدا کے لیے جو کام ہوتا ہے اسکی خاصیت یہی ہوتی ہے "۔

سوال: ہم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تعلیمات سے کیا حاصل ہے اور کس حد تک عملایا ہے؟

امام حسین علیہ السلام کا انقلاب در واقع  حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انقلاب ہے وہ انقلاب جسے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے زندہ رکھا ہے  اسکے بدولت اور  آج ہم اصلی اسلام کا نام لے رہے ہیں ۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انقلاب نہ ہوتا تو کربلا کی داستان کربلا میں دفن کی گئي تھی ، اگر ہم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو نہیں سمجھتے قطعا ہم نے نہ قرآن کو سمجھا ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھا ہے۔یہاں پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کہنا: «ما رأیت الّا جمیلا» وہاں یہ سب قرآن کی تفسیر ہے ۔ جسطرح ابھی مقایسہ بھی کیا گیا حضرت آسیہ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے درمیان  اور معلوم ہوا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ صرف اسلام اور مومنین کے لئے سرمشق  ہیں بلکہ  ہر انسان کیلئے اور جس کا عملی نمونہ اسی کے پاس ہے جس نے   حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے انقلاب کا مطالعہ کیا ہے  کہ زینب سلام اللہ علیہا نے کیسا انقلاب برپا کیا ، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انقلاب ثقافتی انقلاب تھا ، آج آپ اور میں کہتے ہیں کہ ہم جرنلزم کا جھنڈا گاڈ رہے ہیں  اور کہتے ہیں کہ ہم سچ بات پہنچا رہے ہیں یہ سبق کس سے سیکھا ہے ۔راہ جو وہ حضرت زینب نے دکھائي ہے ۔آج جو جمہوریت کی بات کررہے  ہیں ، جمہوریت کی بات حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سکھائي ہے ،آج ہم عدالت کی بات کررہے ہیں اس عدالت کی روح کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے عملی طور پر دکھا یا ، کیونکہ بات آج کی نہیں ہے آج دنیا نے ترقی کی ہے جو نا برابری نا انصافی آپ دیکھیں  امام حسین علیہ السلام کی تحریک میں جو پہلو تھا کہ ایک شخص کہتا تھا کہ میں جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں  امام حسین علیہ السلام سامنے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگو! آپ کو تو میری بات سمجھ میں نہیں آتی ہے  میں آپ کو لبارٹری میں لیتا ہوں آپ ایکسپرمنٹ کریں اور ٹیسٹ میں جو کچھ نکلے آپ اس پر خود ہی ججمنٹ دیں ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بھی خصلت اس شخص میں پایا تو  آپ خود قضاوت کریں کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا اور آپ خود پرکھ کر دیکھیں کہ آیا یزید رحمۃ للعالمین کا جانشین ہے کہ نہیں ۔اور جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اسی امتحان کی تشہیر کی ،یزید خوبصورتی سے اپنے آپ کو پیش کررہا تھا، جسطرح اسوقت کی استعماری طاقتیں کررہی ہیں۔ امریکہ کیا کررہا ہے ۔ وہ حقوق انسانی کی بات کرتے ہیں ، جمہوریت کی بات کررہے ہیں، انصاف کی بات کررہے ہیں وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نعرے دے رہے ہیں ، مگر عملی طور پر دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح انسان اور انسایت کا خون بہا رہے ہیں ۔ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے یہ بیداری پیدا کی ، اسی لئے جناب زینب سلام اللہ علیہا اورا مام حسین علیہ السلام کا انقلاب کسی ایک مکتب فکر کیلئے محدود نہیں ہے ، یہ انقلاب قرآن کا انقلاب ہے ۔ قرآن مسلمانوں کا سرمایہ نہیں بلکہ انسانیت کا سرمایہ ہے اور اس قرآن کی میدانی تعبیر جو ہے وہ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے ہمیں دکھائي  کہ وہ عمل سے ہے کہ اگر آپ مٹ بھی جائيں مگر آپ جاودان ہیں۔ «ما رأیت الّا جمیلا» ہمیں یہی بتا رہا ہے کہ اگر آپ کا معاملہ اللہ کے لئے ہے تو آپ کے کام کا خریدار اللہ ہے تو آپ کامیاب ہیں اگرچہ بظاہر آپ کو کچلا جائے مگر آپ کامیاب ہیں بشرطیکہ آپ کا کام اللہ کی رضایت کے لئے ہو نہ کہ کسی طاقت کی رضایت کے لئے نہ کہ امریکہ اور اسرائيل کو راضی کرنے کیلئے بلکہ قرآن کے اصولوں کو اس کے عملی شکل دے  تو «ما رأیت الّا جمیلا»آپ بھی کہیں گے۔

دوسری قسط

حضرت زینب کبری  سلام اللہ علیہا کا انقلاب ، انقلاب عاشوراء کی تکمیل ہے ،

جس طرح میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں ولی خدا اظہار نظر کرسکتے ہیں مجھ جیسا  کم ظرف طالبعلم نہیں ، البتہ ان حضرات کے اقوال  کی گلچینی کرنے کی سعادت حاصل کرسکتا ہوں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا انقلاب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انقلاب ہے ، عاشورا کی تکمیل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای اس حوالے سے فرماتے ہیں :

"حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا انقلاب ، انقلاب عاشوراء کی تکمیل ہے ، بلکہ ایک معنی میں جو انقلاب حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے برپا کیا تھا وہ انقلاب عاشوراء کو زندہ کرنے والا اور بچانے والا ہو گیا ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کام کی عظمت کا تاریخ کے دیگر بڑے واقعات کے ساتھ مقایسہ نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ اس کا موازنہ عاشوراء کے واقعے سے کرنا چاہیے ،اور انصافا یہ دونوں برابر ہیں "۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کاانقلاب اور حضرت امام حسین علیہ السلام کا انقلاب یہ دونوں برابر ہیں۔

امام خامنہ ای اس حوالے سے مزید فرماتے ہیں کہ :"یہ عظیم انسان ، اسلام اور بشریت کی یہ عظیم خاتون مصائب کے پہاڑوں کے مقابلے پر ڈٹی رہی اور اتنے بھیانک واقعات نے ان کی آواز میں لرزش تک پیدا نہیں کی ،دشمنوں کے مقابلے پر بھی نہیں اور مصیبتوں کے پہاڑ کا سامنا کرتے وقت بھی نہیں بلکہ ہر موقعے پر وہ ایک بلند چوٹی کی مانند کھڑی رہیں۔ وہ ایک درس بن گئیں ، نمونہ بن گئیں پیشوا بن گئیں ، پیشرو بن گئیں ، بازار کوفہ میں ، قید کی حالت میں ، آپ سلام اللہ علیہا نے وہ حیرت ناک خطبہ ارشاد فرمایا ؛ " یا اَهلَ‌الکوفَةِ یا اَهلَ الخَتلِ و الغَدرِ اَ تَبکونَ، اَلا فَلا رَقأَتِ العَبرَةُ وَ لاهَدَأَتِ الزَّفرَةُ اِنَّما مَثَلُکُم کَمَثَلِ التِی نَقَضَت غَزلَها مِن بَعدِ قُوَّةٍ اَنکاثاً..."  آخری لفظ تک مضبوط فولاد کی مانند ایسا خطبہ تھا کہ جس کا مفہوم دل کی گہرائیوں میں اترتا تھا "۔

یعنی جناب زینب سلام اللہ علیہا نے جن شرایط میں قرآن کی حفاظت کی قرآنی تعلیمات کی حفاظت کی  ہر انسان عاجز ہے ان شرائط کو لے کر کہ یہ ایک کرن تھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا۔ اگر ہمت ہار جاتی تو  جو اللہ اور اللہ کے رسول کے دشمن ہیں قرآن کے دشمن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی زمانے میں امام حسین علیہ السلام ظالموں کے لئے خوف و وحشت کا سبب بنے رہے ہیں اور ایسا صرف زینب سلام اللہ علیہا کی حکمت عملی سے ممکن ہو سکا ہے کہ زینب سلام اللہ علیہا نے کس طرح عزاداری کے ذریے وہ حقیقت عیان کی  کہ کربلا میں کیا ہوا ، بنی امیہ نے اسلا م کا بوریا بستر گول کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا  اور یہی وہ انقلاب ہے کہ شاعر کو کہنا پڑا کہ: کربلا در کربل می ماند گر زینب نبود—— نینوا در نینوا می ماند گر زینب نبود۔یہ سب کچھ وہی رہ جاتا اگر زینب سلام اللہ علیہا نہیں ہوتی ۔ اور اس انداز میں جس نے پورے  اعتبار سے قرآن  کی قول و فعل و کردار و رفتار سے ترجمانی  کی اور قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا اوریہی حقیقت میں عظیم انقلاب اور بنیادی انقلاب ہے ۔

سوال:آجکل جو حالات ہیں ، جو مقاومتی محور ہیں اس حوالے سے ہمارے لئے جناب زینب علیہا السلام کا کیا پیغام؟

جناب زینب سلام اللہ علیہا نے جو عمدہ پیغام ہمارے لئے چھوڑا ہے وہ یہ کہ مخاطب کو سمجھو۔ آپ کا مخاطب کون ہے اسی اعتبار سے اور اسی معیار سے آپ بات کریں ۔ دیکھیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا "تلیہ زینبیہ " پر کھڑی ہیں اور رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور عین حسین علیہ السلام کا سر قلم ہوتی ہوئي دیکھتی ہیں تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نبی آخرالزمان رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں مخاطب ہوتی ہے:

یا مُحَمَّداه! یا رسول الله، صَلّی عَلَیکَ مَلیکُ السَّماءِ هذا حُسَینٌ مُرَمَّلٌ بِالدِّماءِ مُنْقَطَعُ الاعْضاءِ

یعنی  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوتی ہیں (حسین کی معرفت رکھنے والے سے مخاطب ہوتی ہیں) تو بین کرتی  ہیں ، مرثیہ کرتی ہیں،اور اس مرثیہ میں بھی پورے قرآن کو سمیٹ لیتی ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے حسین جو ہیں دیکھیں،کربلا میں ان کے ساتھ کیا کیا  گیا ۔آل عمران کی 61ویں  آیت  (1) میں تو  اللہ نے کہا تھا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے آئیں دیکھیں آپ کے اسی بیٹے کے ساتھ کیا کیا گیا سورہ شوری کی23ویں آیت(2) میں تو اللہ نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ مودت اجر رسالت ہے دیکھیں یہاں کسطرح اجر رسالت کو ادا کیا گيا ، سورہ انفال کیا 41ویں آیت(3) میں انہیں آپ کا قرابت دار بتایا گیا دیکھیں آپ کے قرابتداروں کے ساتھ کیا کیا گیا  ، سورہ الاحزاب کی 33ویں آیت (4) میں اہلبیت کو تو ہر رجس سے پاک ہونے کی سند صادر کی گئی تھی آپ دیکھیں کہ کربلا میں ان ہی  اہلبیت کے ساتھ کیا کیا گیا ۔ اور اس طریقے سے جناب زینب سلام اللہ علیہا مرثیہ کرنے کا انداز بتاتی ہیں کہ آپ جب عزاداری کرتے ہیں حسین علیہ السلام کو روتے ہیں یعنی آنکھیں آپ کی ہوتی ہیں اور آنسو رسول اللہ کے ہوتے ہیں یا بالعکس۔ آپ اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محو کرتے ہیں کہ جو کربلا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتقام لیا گیا آپ اس غم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریک غم ہونے کا  اظہار کرتے ہیں ۔

مگر دیکھیں  یہی حضرت زینب سلام اللہ علیہا  جب دشمن خدا سے مخاطب ہوتی ہیں ، جب اس ملعون ابن زیاد نےآپ سے مخاطب ہو کر کہا:"الحمد لله الذي فضحكم و قتلكم و أكذب احدوثتكم..."۔استغفراللہ

ابن زیاد حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے مخاطب ہو کے اللہ کا حمد بجا لاتا ہے دیکھا کہ اللہ نے تم لوگوں(اہلبیت رسول اللہ علیہم صلوات اللہ ) کو کس طرح رسوا کیا ، کس طرح قتل کیا ، آپ (اہلبیت) کے جھوٹ کو برملا کیا !!!!

تو دیکھئے کہ جناب  زینب سلام اللہ علیہا نے اس کےمقابلے میں جواب کیا دیا ؛ فرمایا:" الحمد لله الذي اكرمنا بنبيه محمد و طهرنا من الرجس تطهيرا، انما يفتضح الفاسق، و يكذب الفاجر، و هو غيرنا. "

زینب سلام اللہ علیہا نے اس کے مقابلے میں،اس  دشمن کے طعنوں کے مقابلے میں جو قرآن کی زبان میں  اور دین کی زبان میں  طعنہ دے رہا ہے  ۔ مگر قرآن کی زبان میں اور دین کی زبان میں ہی حضرت زینب سلام اللہ علیہا جواب دیتی ہیں کہ ؛ہم شکر بجا لاتے ہیں اس اللہ کہ جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لئے نبی بنا کے بھیجا ،اور ہمیں اس طرح پاک و پاکیزہ کیا کہ جس طرح پاک و پاکیزگی کا حق ہے ،اورفاسق رسوا ہوتا ہے، فاجر اور جھوٹے رسوا ہوتے ہیں ہم نہیں۔ یعنی عین قرآن۔

اور جب دشمن خدا نے پوچھا:" كيف رأيت فعل الله بأخيك؟ "(دیکھا اللہ نے تمہارے بھائی کا کیا حشر کر دیا) تو  یوں مخاطب ہوتی ہے:«ما رأیت الّا جمیلا»یہاں پر مرثیہ نہیں پڑا، نہیں فرمایا: یا مُحَمَّداه! صَلّی عَلَیکَ مَلیکُ السَّماءِ هذا حُسَینٌ مُرَمَّلٌ بِالدِّماءِ مُنْقَطَعُ الاعْضاءِ یا رسول اللہ یہ کیا سن رہی ہوں ، نہیں کہا ۔ بلکہ فرمایا: ما رأیت الّا جمیلاکیوں،کیونکہ یہاں پر  "لَا تَقُولُوا رَاعِنَا" وَقُولُوا انْظُرْنَا"(البقرة/104) کے مانند موقف اختیار کرنا تھا کہ بات کا غلط معنی نہ نکالا جائے ۔ وہ یوں کہ جب اللہ کے دشمنوں نے وحی کا مذاق بنانا چاہا  ، ایک جملےکو لے کر، رسول اللہ " رَاعِنَا " کہتے تھے ، جو یہودی تھے ، اسلام دشمن عناصر تھے  وہ اس کا بھی مذاق بنارہے تھے کہ دیکھئے کہ  کیا کہہ رہیں رسول خدا ۔  تو خدا کو بھی وہ لب و لہجہ بدلنا پڑا وحی نازل ہوئی  کہ "قُولُوا انْظُرْنَا"۔ جبکہ " رَاعِنَا " اور"انْظُرْنَا " کا مطلب ایک ہی ہے لیکن چونکہ دشمن اس کا غلط معنی نکالتا ہے تو  اسلئے آپ " رَاعِنَا " نہ کہیں بلکہ"انْظُرْنَا "  کہیں ۔ اسی لئے ہم جب اما بارگاہوں میں عزاداری کرتے ہیں تو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزادار ہوتے ہوئے آنحضور کے غم میں شریک غم ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارا انداز جذباتی  ہوتا ہے ۔ لیکن جب سڑکوں پر آتے ہیں۔ ہمارا انداز بدل جاتا ہے ہماری عزاداری جذباتی نہیں بلکہ تبلیغی ہوتی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے جملے" ما رأیت الّا جمیلا " کی تفسیر ہوتی ہے۔

اسطرح پیغام یہی ہے کہ آپ  اس دینی تبلیغ کو مخاطب کو دیکھ کر اختیار کیا کریں کہ آپ کے کسی انداز کو دشمن کسی بری طرح توڑ مروڑ کر پیش نہ کر سکے اسکا الٹا تعبیر نہ نکال سکے، اسلئے مخاطب کو آپ ضرور ملحوظ نظر رکھا کریں۔

س: عزاداری کی فضیلت اور اہمیت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے ؟

اگر ہم عرفان کے اس کمال کو پہنچیں کہ یہ جملہ جو میں نے عرض کیا توجہ کا طالب ہوں اور جوانوں کو چاہئے اس پر توجہ کریں وہ یہ  کہ عزاداری میں  آنکھیں ہماری ہوں اور آنسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوں ۔ آنکھیں ہماری ہوں اور آنسوں  امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ہوں ۔یہ کوئي چھوٹی بات نہیں ہے کہ  جو ہمیں کہا گیا ہے کہ جو محمد و آل محمد کے پیرو ہیں وہ ائمہ معصومین علیہم صلوات اللہ کی طینت سے بنے ہیں ، وہ ان کے غم میں غمگین اور خوشی میں خوشحال رہے ہیں اور غمگین کس پر جس پر اللہ ناراض ہو ائمہ معصومین کی غم کی علامت ہے جس پر وہ راضی ہوتے ہیں   اس پر اللہ راضی ہوتا ہے  ۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ :" مَن بَکی أَو أَبکی أَو تَباکی فی مُصیبهِ الحُسین حُرِّمَت جَسَدَهُ علی النار و وَجَبَت لَهُ الجَنَّه "جو روئے یا رلائے یا رونے والوں جیسی حالت پیدا کرے اس جنت واجب ہے ۔وہ تبھی واجب ہے جب وہ  اس معنی کو یعنی رضا ی الہی حاصل کرنا مقصود ہو اور غضب خدا سے اپنے آپ کو بچائے رکھے ۔ کیونکہ انسوں کے کئي معنی اور حالتیں ہیں ، کوئي ڈرامہ رچا کر آنسوں بہا تا ہے یا کوئي بیاز سے انسوں بہا تا ہے اس کےلئے تو جنت نہیں ہو سکتی ہے مگر وہ آنسوں کہ جس میں وہی زینبی کردار ہو ، مخاطب کے طور محور صرف اللہ اور اللہ کی رضا ہو  یقینا وہ آنسوں جنت کی قیمت رکھتے ہیں اور جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ عزاداری کا صلہ جو ہے وہ جنت ہے

حوالہ جات:

(1). فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ(آل عمران/61)

(2). قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَمَنْ يقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ(شوري/23)

(3). وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى (الأنفال/41)

(4). إِنَّمَا يرِيدُ اللَّهُ لِيذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيتِ وَيطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(الأحزاب/33)

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر