my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 47923
: //
حاج آقای مہدوی پور:
وقت کے قابیل اور عمر سعد کو پہچاننے کی ضرورت ہے

نیوزنور: ہر زمانے میں حسین علیہ السلام  والے  بھی ہیں اور اسی طرح عمر سعد کے صفات رکھنے والے بھی ہیں اس لئے ہمیں وقت کے قابیل اور عمر سعد کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے دوری اختیار کرسکیں۔

حاج آقای مہدوی پور:

وقت کے قابیل اور عمر سعد کو پہچاننے کی ضرورت ہے

نیوزنور: ہر زمانے میں حسین علیہ السلام  والے  بھی ہیں اور اسی طرح عمر سعد کے صفات رکھنے والے بھی ہیں اس لئے ہمیں وقت کے قابیل اور عمر سعد کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے دوری اختیار کرسکیں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم  کشمیر کے خطہ کرگل اور لیہ کے  طالبعلموں کی یونین اے کے ایس اے ڈی[AKSAD] کی طرف سےاتوار12نومبر کو شاہ مردان  جورباغ نئی دہلی  میں  درس اخلاق کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں ہندوستان کیلئے ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای کے   نمائند  استاد گرامی عالیجناب حجۃ الاسلام والمسلمین  حاج آقای شیخ مھدی مھدوی پور نے  اپنے درس سے  شرکاء کو مستفید فرمایا  اور مولانا محمدجواد حبیب صاحب نے مترجم کا فریضہ بنحو احسن انجام دیا۔

ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ کے اس درس کا خلاصہ قارئین مندرجہ ذیل ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

حضرت استاد نے اللہ کا حمد و ثنا اور و محمد و آل محمد پر درود و سلام بھیجنے کے بعد فرمایا:آج کے ہمارے اس جلسےکے دو پہلو ہیں؛ ایک یہ کہ ہمیں ایکدوسرے کے ساتھ ملاقات کرنے کا بہانہ میسر ہوا جس سے آپس میں بھائی چارگی پیدا ہوگی جس سے انس و محبت پیدا ہوگا اور  آپس میں ایک دوسرےکا احترام کرنے کے عادی بن جائيں ۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے درس کی فرصت میسر ہوئی ہے کہ جو ہر انسان کی ضرورت ہے وہ درس اخلاق کہ جسمیں خداوند کا ذکراور قیامت کی یاد کی جاتی ہے اس کا اہتمام ہو رہا ہے ۔

نمایندہ ولی فقیہ نے مزید فرمایا :اخلاق ہر انسان کی ضرورت ہےہم سب کو اخلاق کی ضرورت ہے حتی علماء  اور مراجع کو بھی اخلاقی دروس کی ضرورت ہے۔اس بنا پر حوزہ  علمیہ میں ہر ہفتہ طلاب کےلئے ایک درس اخلاق رکھاجاتاہے۔

حضرت استاد  نےاخلاق کے فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں انسان کے اعمال اسکے اخلاق کا نتیجہ ہیں ۔انسان کے اندر دو طرح کےاخلاق پایے جاتے ہیں ۔ایک حسن خلق اور دوسرا سوء خلق۔

۱ _ حسن خلق ،اچھا اخلاق ہے جو شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کا پھل، اچھا رفتار و کردار ہے اور نیکی اور بندگی ہے۔

۲ _  سو خلق ، برا اخلاق ہے جو شجر ہ خبیثہ کے مانند ہے جسکا پھل برے رفتار و کردار اورسارے گناہ  جیسے حسد، قتل،چوری، غیبت، بخل۔۔۔۔

زمین پر سب سے پہلا قتل حضرت ہابیل کا ہوا تھا جسکا منشا اور جڑ حسادت تھی قابیل کی حسادت نے حضرت ہابیل کو قتل کرنے پر مجبور کیا تھا درحالیکہ حضرت ہابیل نے قابیل کو کئی بار نصیحت کی کہ ہم دونوں بھائی ہیں ،ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہئے، مھربان رہنا چاہئے ، دوسروں کےلئے نمونہ عمل،  الگو اور آئیڈیل ہونا چاہئے لیکن تم کیوں مجھے قتل کررہے ہو؟۔اس کے باوجود بھی اس نے کچھ نہ سنا۔اور بالآخر ہابیل کو نیند کی حالات میں قتل کردیا تھا۔اتنا بڑا گناہ صرف ایک بری خصلت (حسادت ) کی بنا پر انجام پایا جو قابیل کے اندر موجود تھی ۔

عزیزو! اس طرح کے واقعات ہر انسان کے ساتھ پیش آتےہیں  ہمیں اپنا خیال رکھنا چاہیے تاکہ کہیں کوئی بری خصلت ہمیں انسانیت کے دائرہ سے نکال کر حیوانیت کےسا تھ شامل نہ کردے۔

 شیطان نے ۶ ہزار سال عبادت کی تھی لیکن ایک غرور نے سب کو ضایع کردیا تھا اور وہ ہمیشہ کے لئے لعنت خداوند  کا مستحق قرار پایا ہے ۔

عمر سعد نے کربلا میں امام حسین اور آل حسین علہیم السلام کے خون میں اپنا ہاتھ رنگین کیاتھا جسکی وجہ یہ تھی کہ وہ بے حد لالچی اور حریص انسان تھا ابن زیاد نے اسے حکومت ری کی فرماندہی کا لالچ دے کر امام حسین علیہ السلام کے قتل میں ملوث کیا تھا در حالیکہ امام حسین علیہ السلام نے عمر سعد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جسکی تجھے تلاش ہے وہ تجھے نہیں مل پائے گی لیکن اس نے امام کی بات نہیں سنی۔

اس بنا پر عزیز جوانو! اس سے عبرت حاصل کرو کہ ایک برا اخلاق انسان کو کہاں سے کہاں تک لے جاتا ہے اس کا اندازہ آپ ان واقعات سے لگا سکتے ہیں۔یہ دو کردار ہمیشہ ہر انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ہر زمانے میں ہابیل والے  بھی ہیں اور قابیل والے بھی۔ہر زمانے میں حسین علیہ السلام  والے  بھی ہیں اور اسی طرح عمر سعد کے صفات رکھنے والے بھی ہیں اس لئے ہمیں وقت کے قابیل اور عمر سعد کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے دوری اختیار کرسکیں۔

حجت الاسلام والمسلمین حاج آقای مہدی مہدوی پور نے درس اخلاق میں اربعین حسینی  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اربعین کے اس عظیم الشان واقعہ کو معجزہ جاننا چاہیے کہ جسمیں عاشقان امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ   سنی، عیسائی اور باقی فرق و مذاہب کے لوگ بھی  شریک ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ کربلا کی اس معنوی فضا اور ماحول سےہر انسان متاثر ہوجاتاہے اس طرح کے ماحول کی آپ جوانوں کو اشد ضرورت ہے۔

 آیندہ سال کے لئے عاشقان اور محبین امام حسین علیہ السلام  خود کو تیار کریں تاکہ اس عظیم الشان تحریک میں شامل ہوسکیں۔یہ عظیم تحریک شیعوں اور محبین امام حسین علیہ السلام کے اقدار کی نشان دہی کرتی ہے۔  زیارت اربعین کا یہ طریقہ  اھلبیت علیھم السلام کے دور  سے آج تک چلا آرہا ہے لیکن آج ایک عظیم تحریک کی صورت میں منظر عام پر آچکی ہے ۔جس کی ہم سب کو قدردانی کرناچاہیے۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر