my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 50073
: //
ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:
آل سعودی نے وہابیت کا نقاب اتار کر اپنے ساتھ لے ڈوبنے کا کام شروع کردیا

نیوزنور: "قطیف "اور"العوامیہ" سعودی عرب کے جو شیعہ نشین علاقے  ہیں جو اس ملک کے شمال مشرق میں واقع ہیں انہوں نے کئی بار آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے  اورشہزادوں کے سعودی عرب کے بیت المال سے ناجائز فائدہ اُٹھانے پر اعتراض درج کئے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ  پوری امت اسلامی  میں وہ احتجاج دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔آخر کیوں صرف ان مسائل پہ صرف شیعہ احتجاج کررہے ہیں اہلسنت  بھائیوں کی طرف سے  کوئی بھی مظاہرے نہیں ہورہے کیوں! کیا اہلسنت امت اسلامیہ کا جز نہیں ہیں؟  وہ اسلامی تشخص اور مقدسات  کی توہین ہوتے دیکھ کر ایسا مذہبی جذبہ محسوس  نہیں کررہے ہیں! یہ  بڑا تکلیف دہ ہے کہ سنی دنیا سے  اس کے نسبت وہ کوئی احتجاج  دیکھنے کو نہیں ملتا ہے ۔

ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی:

آل سعودی نے وہابیت کا نقاب اتار کر اپنے ساتھ لے ڈوبنے کا کام شروع کردیا

نیوزنور: "قطیف "اور"العوامیہ" سعودی عرب کے جو شیعہ نشین علاقے  ہیں جو اس ملک کے شمال مشرق میں واقع ہیں انہوں نے کئی بار آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے  اورشہزادوں کے سعودی عرب کے بیت المال سے ناجائز فائدہ اُٹھانے پر اعتراض درج کئے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ  پوری امت اسلامی  میں وہ احتجاج دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔آخر کیوں صرف ان مسائل پہ صرف شیعہ احتجاج کررہے ہیں اہلسنت  بھائیوں کی طرف سے  کوئی بھی مظاہرے نہیں ہورہے کیوں! کیا اہلسنت امت اسلامیہ کا جز نہیں ہیں؟  وہ اسلامی تشخص اور مقدسات  کی توہین ہوتے دیکھ کر ایسا مذہبی جذبہ محسوس  نہیں کررہے ہیں! یہ  بڑا تکلیف دہ ہے کہ سنی دنیا سے  اس کے نسبت وہ کوئی احتجاج  دیکھنے کو نہیں ملتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی وی کے "آج ہدایت کے ساتھ" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام حاج سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے کے دوران "وہابیت تاریخ اسلام کے آئینے میں " کے عنوان کے تحت لئے گئے انٹرویو کہ جس کو مغربی ممالک میں خاص کر  لندن، بریکفد،جرمنی اور امریکہ سے آنلاین کالر نے حصہ لے کر موصوف سے سوالات پوچھے کو مندرجہ ذیل قارئين کے نذر کیا جا رہا ہے:

سوال: آپ کے ساتھ پہلے ہی ساری بات ہوئی تھی کہ   محمد بن سلمان  اب عراق نہیں جائیں گے اوروہ اقرار بھی کرچکے  وہابی ازم کا پوداامریکہ ،یورپ اورمغرب کے کہنے پر لگایا گیاتھا جبکہ مسالک یہ الزام لگاتے آرہے تھے ، اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے، یہ وہابی ازم  کا پودا کب لگایاگیا اوراسکا زہریلی شاخوں سے اسلام کو کتنا نقصان پہنچاہے؟

سیدہ اسوہ مقاومت حضرت زینب بنت علی علیہما السلام

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمين‏ ۔ اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِي بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِي التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِي لِلَّتِي هِيَ أَزْكَى۔

پہلے آج کی مناسبت سے آج 15 رجب وفات  سیدہ اسوہ مقاومت حضرت زینب سلام اللہ علیہا  کہ جو واقعہ کربلا کے صرف 18 مہینے بعد 56 سال کے عمر میں  15 رجب 62 ہجری کو وفات پاگئی۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا  کی وہ مجاہدت نہ ہوتی نہ عالم اسلام کی حقیقی تصویر موجود ہوتی نہ ہی اسلامی سیاست کا کوئی تصور باقی ہوتا اور نہ ہی دیانت کا اور نہ اہلبیتؑ کی تعلیمات کا اثر اور نہ ہی قرآن کی روح اپنی حالت میں باقی رہتی ، یہ ساری برکات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مجاہدت کی مرہون منت ہے۔ جو امام حسین علیہ السلام اوران کے سپاہیوں صلوات اللہ علیہم اجمعین نے جان دیکر اس اسلام کی حفاظت کی اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صرف اس واقعہ کربلا کے بعد 18 مہینے  جی کے اس کو پوری دنیا میں  ابھی تک قائم ودائم رکھا۔ اورجس کے آثار ہم آج  دیکھ رہے ہیں۔

 اب ہم اس کی تدفین کے بارے میں بحث کریں کہ جناب،حضرت  زینب سلام اللہ علیہا شام میں دفن ہے، مدینے میں دفن ہے، مصر میں دفن ہے، اس بارے میں اختلافات ہےسیرہ نگاروں نے یہ لکھا ہے وہ لکھا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ شام میں دفن ہے اوردنیا نے دیکھا کہ ابھی بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا  کی تعلیمات کیسی تازہ ہے اورحضرت زینب سلام علیہ کی سیاسی تعلیمات کس اوج کو پہنچی ہے، کس طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا  کے روضے کے دفاع کرنے کیلئے، حقیقی اسلام کے چاہنے والے میدان میں آئے اورجو اسلام دشمن طاقت ہمیشہ کی طرح  اسلام کا لباس اوڑھ کر اسلام کی بیخ کنی کرکے چلے جاتے ہیں ان کو ننگا کرنے میں میدان میں آئے اور یہ سبھی صدقہ ہے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تعلیمات کا۔آپ کے وفات کی مناسبت سے پرسہ دیں گے صاحب عزاء حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فروجہ الشریف اور آپ کے نائب خاص امام خامنہ ای اور جملہ مراجع عظام تقلید و مروجین دین مبین اسلام کی خدمت میں بالخصوص اور مومنین ومومنات کی خدمت میں بالعموم تسلیت عرض کرتا ہوں۔

شیعہ سیاسی بصیرت اور وہابیت

اس کے بعد آپ کے سوال پہ آجاتے ہیں، دیکھئے یہ بات بالکل سیاسی ہے، وہابیت اور انحرافی مکاتب کو سمجھنے کیلئے اسلامی سیاست کو سمجھنا لازمی ہے۔ اسلام میں اختلاف صرف سیاست پر رہا ہے  اوردرواقعہ شیعہ اسلام  کا سیاسی تفسیرہے جس میں دیانت اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ان میں  کوئی فرق نہیں ہے اسی لئے ہم ہمیشہ کامیاب رہے ہیں، جہاں کہی بھی کوئی بھی  کھیل کھیلا گیا وہاں پر اصلی کھلاڑی  کو پکڑتے ہیں، یہ اہلبیت علیہم السلام نے سکھایا ہے، حضرت زینب سلام اللہ  علیہانے سکھایا ہے، کربلا نے سکھایا ہےاور یہ ابھی اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔  بہت سارے ہمارے اہلسنت  بھائی بہن اس پہ اعتراض بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کوتو یزید نے قتل نہیں کیا تو پھر اب تک کیوں اتنا یزید کو کوستے ہو، تو وہاں پر بھی ہماری سیاسی بصیرت  کا اندازہ ہوتا ہے کہ  ہم نے شمر ،یزید اورعمر سعد کو نہیں پکڑا ہے  بلکہ جس کی فکر ، جس کے اغراض و مقاصد کی آبیاری ہوتی ہو وہ اصلی مجرم ہے ۔

وہابیت اسلام کے لبادے میں جابر و ظالم مسلمان حاکموں کے میراث کی کڑی

 اسی طرح  یہ جو اسلام کے لبادے میں بنی امیہ، بنی عباسی اور  جو بھی اسلام کے ٹھیکیدار آئیں ہیں، مکتب اہلبیتؑ  ان کی نشاندہی  کرتے رہے کہ یہ  کن اہداف کی پرورش کرتے ہیں ۔اورہمارے زمانے میں  وہابیت کی کڑی جو کہ اسلام کے لبادے میں ہیں جبکہ وہ اسلام کی بیخ کنی  کا بھیڑا اٹھائے ہیں اورہمیشہ سے مکتب اہلبیتؑ کے پیرو اس کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں  کہ یہ کہاں سے نشئت پاتے ہیں، ان کا منبع  کیا ہے، ان کا مادی منبع کیا ہے روحانی منبع کیا ہے، کس بنیاد  پہ چلتے ہیں۔ مگر اس سیاسی بصیرت کومسلکی رنگ وغیرہ دیکے بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا مگر اب جبکہ خود وہابی اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ ان کا منبع کیا رہا ہے،اس سے آل سعود کے نسبت نفرت کی لہر بڑ گئی ہے ۔

آل سعود ولیعہد کے خلاف عراق میں احتجاج

ہدیت ٹی وی :آپ کے ساتھ گفتگو کے دوران ہم یہ تصویریں بھی چلوارہے ہیں جو ہماری اسکرین کے اوپر  چل رہی ہیں ذرا ناظرین کو بتا دوکہ یہ وہی بینر ہیں جو محمد بن سلمان کے عراق کا رخ کرنے کی کوشش کے خلاف ہیں کہ نجف کے دروازے ان کے اوپر بند کردئےگئے  اور ان سےاظہار برات کرتے ہیں،ا اس کے وپر لکھاہوا تھا کہ آپ کے ہاتھ خون سے رنگیں ہوئے ہیں آپ نجف آنے کی زحمت نہ کریں، آپ کے لئے نجف کے دروازے بند ہیں۔  ہم نے اسی دن پروگرام کیاتھا اور تجزیہ پیش کیاتھا کہ لبنان  ، سیریا کے بعد اب عراق میں ان کی پالیسی  دم تھوڑنے جارہی ہے۔ اورآج ہم آپ کو دوبارہ دکھا رہے ہیں  کہ سعودیہ نے آفیشلی اعلان کیا کہ ولیعہدعراق کو رخ نہیں کریں گے۔

بالکل  صحیح بات ہے کہ وہاں پر  اگر آپ نے  بینر دیکھیں  ہیں، آپ نے سب سے بڑےبینر کو نہیں دیکھا کیا؟ جس پہ لکھاتھا "مثلی لا یبایع مثلہ" یہ جملہ امام حسین علیہ السلام کا ہے۔ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ تو وہاں پر پتہ چلا کہ اب عراق میں  سیاسی افق پر کون سی فکر  حاکم ہے ۔وہاں پر  کل صدام جیسا وہ اسلام دشمن شخص حاکم تھا جو اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کرتا تھا، آج وہ عراق ویسا عراق نہیں رہا ہے، آج کا عراق حسینی عراق ہے اس لئے وہاں ظالم اور جابر کا جس کے ہاتھ مظلوموں کے خون سے رنگیں ہو ئے ہوں، اس کا استقبال نہیں کیا  جائےگا اور اس حوالے سےہدایت ٹی کے پچھلے پروگرام کو بھی بڑا داد تحسین  دنیا پڑےگا کہ حقیقت میں آپ نے بروقت جو پروگرام کیا اورجو اس مباحثے میں بات سامنے آئی بالکل ایسا ہی عراق میں ہوا۔

 پروگرام میں آپ لوگوں نے صحیح کہاتھا  کہ سعودی ولیعہد کا عراق دورہ  دونوں طریقے سے سعودی عرب کی بڑی ہار  ہوگی اگر وہ آتا ہے پھر بھی ہار ہے نہیں آتا پھر بھی ہار ہے ۔اوریہ بڑی  ہار ثابت بھی ہوئی  جب عراق میں ایسی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی  کہ سعودی عرب کے خلاف بغداد میں  جس انداز میں احتجاج ہوا کہ جس کے بعد بلافاصلہ عراق نے بھی رسمی طورپر اعلان کیا کہ بن سلمان  نہیں آئےگا اورسعودی عرب نے بھی سرکاری طورپر اعلان کیا کہ نہیں جائے گا۔

سوال:  کیا کل جو وہ  بڑا احتجاج عراق بھر میں خاص کر بغداد میں ہوا اس نے اپنا اثر دکھایا؟

ج)جی، یہ سب سیاسی شعور کا مظاہرہ ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سیاسی شعور عوام میں دن بہ دن وسعت پارہا ہے ان  کو یہ سیاسی  کھیل سمجھ میں آرہا ہے کہ  جو عام انسانوں  کے افکار کو گمراہ  کرنے کیلئے جو کھیل کھیلا جاتا رہا ہے مثلاً  ایران میں جب پہلوی ظالم اورجابر حاکم  یہاں اپنا ہر کام  دین کے خلاف جو بھی  کام کرسکتا تھا  ، کرتا رہا  مگر وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئےدینی ضوابط کو ڈھال بناتا تھا، وہ مراجع عظام تقلید کی خدمت میں کبھی سال میں ایک بار حاضر ہو کر بڑی تعظیم کا مظاہرہ کرتا تھاتو لوگ  خوش ہوتے تھے ،ایکدوسرے سے کہتے کہ؛دیکھیں  بادشاہ مجتہد کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ تو ان کھیلوں سے اپنا استحصالی کام جاری رکھتے تھے کہ جو ان طاغوتوں کا ہتھکنڈا رہا ہے۔ مگر اسلامی انقلاب  کے بعد  امت  اسلامی کے رگوں میں جو نیا خون دوڑنے لگا، اس میں  وہی اہلبیتؑ کی تعلیم چھلکتی نظر آتی ہے، ہم سب  دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح  یہ  سیاسی شعوراپنا اثر دکھا رہا ہے  کہ لوگ اب مذہبی ضوابط کو ڈھال بنانے سے بیوقوف نہیں بنتے ۔ جیسے کہ بن سلمان آتے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید سیستانی  کی خدمت میں بڑے تواضع کےساتھ ،برادرانہ انداز میں پیش آتے،ایسے میں تصویریں اُٹھائے جاتے وغیرہ تو سبھی کہتے   کہ سب  کچھ ٹھیک ہے۔لیکن  اب اس طریقے سے بیوقوف نہیں بنایا جائےگا۔ جس طرح کہ مثلاً ہندوستان میں  مسلمانوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے ٹوپی سے،جسےٹوپی کی سیاست بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان ٹوپی پہن کر حاضر ہونے کی سیاست کہ وہ مسلمانوں کا بڑا حترام کرتا ہے وغیرہ۔  پاکستان میں اسی طرح سیاستدان کبھی  قرآن کی آیت کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ اکثر کوصحیح طریقے سے ادا کرنا بھی نہیں آتا ہے وغیرہ،یا دینی مقولہ کوٹ  کرکے  مسلمانوں کے جذبے کو بہکانے کی کوشش کی جاتی تاکہ اپنے سیاسی مفادات نکالیں ۔ مگر عراق کے عوام نے دکھایا کہ  ہم بیوقوف ہونے والے نہیں ہیں۔ آپ نیک نیتی کے  نام سے ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے ہیں، ہم دھوکے میں آنے والے نہیں ہے  ہم  قرآن کا اصول سمجھ گئے ہیں کہ جو کوئی"فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ"﴿البقرة، 256ہوگا اس کی بات قابل اعتماد ہے، جب تک اس کردار  کا حاکم نہیں ہوگا  ہم اس کا استقبال نہیں کریں گے۔سعودی ولیعہد کے سفر کی اگرچہ شام اور لبنان میں  جو   مخالفت ہوئی، اس  کی ایک نوعیت  کچھ اورتھی۔ مگر  جو عراق میں آنا تھا اور  جس عنوان سے حضرت آیت اللہ سید سیستانی سے ملاقات کی بات ہوئي تھی اس کے پیچھے بڑا کھیل تھا، جو لوگوں نے ناکام بنادیا۔

حرمین شریفین کی حفاظت سازش یا حقیقت

کالر :سعودی عرب نے اپنا نقاب اتار دیا کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہیں تو اسلامی ممالک کی فوجیں جن میں پاکستان کی دو برگیڈ بھی شامل ہیں،کیا یہ اسلام کے نام پر اسلام دشمنوں کی حفاظت ہو رہی ہے؟اور کیا حرمین کی حفاظت کے لئے  کوئی مشترکہ اسلامی کمیٹی کی تشکیل لازمی نہیں ہے؟  

ج) یہ ایک  ہی سوال  ہے دو پہلو کے ساتھ۔اس میں جو سب سے بڑی بات ہے  کہ ان مسائلوں کا  تبھی جاکے  حل سامنے آسکتا ہے  جب ان سے متعلق سیاسی بصیرت  پیدا ہوجائے ۔جس طرح میں نے پہلے عرض کیا کہ شیعوں میں اہلسنت  کے مقابلے میں سیاسی بصیرت زیادہ گہری رہی ہے لیکن اب اہلسنت میں اس سیاسی بصیرت کا پیغام سننے کو ملتا ہے جیسے کہ  ابھی لکھنو میں  ایک سنی عالم دین نے  ایک اجتماع میں زبردست جملہ کہا  کہ اگر مسلمانوں کو سعادت کا راستہ چننا ہے اوراپنے روشن مستقبل  کی طرف جانا ہے تو امام خامنہ ای  کے جھنڈے کے نیچے آنا ہوگا۔اس مقصد یہ نہیں کہ سنی کو شیعہ بننا  ہے یہ اس لئے ہے کہ  جسطرح شیعہ قیادت نے سیاسی مسائل کو لیکر، اجتماعی مسائل کو لیکر،اقتصادی مسائل کو لے کر اور سائنسی اور علمی مسائل کو لیکر چالیس سال میں بہترین نمونہ دکھایا  ہے وہ قابل تقلید ہے۔اس حوالے سے تعصب کی عینک اُتارنی ہوگی بلکہ میدانی صورتحال دیکھنا ہے  کہ ایران پر پوری دنیا نے پابندیاں لگائی مگر وہ اہلبیتؑ کے اصولوں پہ چلتے رہے، دیکھئے اللہ نے ان کو کتنی عزت دی ، دن بہ دن مضبوط تر اورطاقتور ترہوتے جارہے ہیں۔ تو  سیاسی طورپر انہیں بہر صورت ولایت فقیہ  کے نظرئے کو لے کے جو کہ اہلبیتؑ نے دکھایا ہے اپنانا چاہئے۔ مثلاً ابھی ترکی کے اردغان صاحب نے کہاتھا کہ  ہمیں چاہئے اسلامی فوج بنائيں۔ اس بات کو لے کر ترکی کے ایک میگزین  میں بہت زبردست مقالہ لکھاتھا کہ :"اگر اسلامی تعاون کونسل کے رکن ملک فوجی اعتبار سے متحد ہو جائیں تو دنیا کی سب سے جامع اور بڑی فوج بنا سکتے ہیں ۔ اس کے سرگرم سپاہیوں کی تعداد ۵۲ لاکھ ۶ہزار افراد ہو گی اور اس کا دفاعی بجٹ ۱۵۷ ہزار ارب ڈالر ہو گا "۔ اس مقالے کی مزید تفصیلات آپ نیوز نور پیج پہ پڑھ سکتے ہیں۔ مگر  میرا ماننا ہے کہ  یہ باتیں بھی اسی  طرح خیالی جب تک نہ  "فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ"﴿البقرة، 256  کاقرآنی اصول مسلمان حکاموں  کے درمیان نمایاں نظر نہیں آئے ،جب تک نہ وہ پہلے طاغوت کو سمجھیں  کہ  ہمیں طاغوت کا پیرو ہونا چاہئے یا طاغوت کا  کافر ہونا چاہئے ابھی تک نظر نہیں آرہا ہے۔

آل سعود اور وہابیت طاغوتی آلہ کار

سوال: ابھی تو خود ہی طاغوت نظر آرہا ہے، طاغوت کو سمجھیں گے کیا وہ ؟

ج)بالکل اصل بات یہی ہےکہ طاغوت سے خود کو الگ نہیں کررہے ہیں۔ تو اسی لئے میں عرض کررہاہوں کہ انہوں نے جو سوال کیا ہے یہ بڑا پیچیدہ ہے  جب تک نہ یہی سیاسی بصیرت  جس طرح عراقیوں نے دکھائی،  ہر ملک میں دیکھنے کو ملے طاغوت کے چنگل سے نہیں نکل سکتے ہیں۔ اگر فرض کریں حکومت طاغوت کے لئے میدان صاف کردے لیکن عوام اگر چاہئے ایسا نہیں ہونے دے گے۔ مثلا  ً  ابھی عراقی حکومت نے سعودی حکومت کو گرین سیگنل دی تھی  مگر عوام نے راستہ نہیں  دیا۔ اگر عوام رکاوٹ نہیں بنتے تو  بن سلمان کا منصوبہ کامیاب ہوا ہوتا، کیونکہ حکومت کیلئے کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا، اس کو سفارتی ضوابط کا احترام رکھنا تھا، مگر عوام  نے یہاں پر میدان میں آکر  اپنی بصیرت کا بھی مظاہرہ کیا اور حکومت کا کام بھی آسان کردیا۔ جب تک نہ عوامی سطح پر ہر ملک میں اس طرح کی اسلامی سیاست دیکھنے کو نہیں ملےگی عملی صورت میں مسلمان ممالک اپنے عوام کی مانگ کا جو مثبت جواب دینے کیلئے مجبورنہیں ہونگے ،تب جاکے ایک ساتھ بیٹھنے  کیلئے فیصلہ  لینے کیلئے متحد ہو جائيں گے۔

  ابھی دیکھیں گے کہ جو سوال آپ نے پہلے کیا تھا،چونکہ کئی سوالات اس کے بیچ میں آگئے ۔ بن سلمان کے  حالیہ بیان کا پوسٹ ماٹم اگر کریں، دیکھیں جومحمد بن سلمان بادشاہ کے بیٹے اور  سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع نے ایک امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہابیت کی طرف سے  مذہبی مدارس اور مساجد کے لیے سرمایہ گذاری  کی جڑیں سرد جنگ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ کیا یہ بات عوام کو سمجھ میں آگئی کہ بات کیا ہے؟  جو یہ بن سلمان نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب کے مغربی اتحادیوں نے اس ملک  سےمطالبہ کیا کہ اپنے ذرایعے کو استعمال کرکے اسلامی ممالک  میں سویت یونین کے اثر ورسوخ کو  پیدا کرنے سے روکے اوروہابیت  کو پھیلانے کی کوشش کریں۔  اسے کیا بات واضح ہوگئی،  ہندوستان کیلئے کیا بات واضح ہوگئی ،مصر کیلئے کیا بات واضح ہوگئی ،عراق کیلئے کیا بات واضح ہوگئی،  افغانستان کیلئے کیا بات واضح ہوگئی وغیرہ ۔مثلا ً اتنا بڑا پیچیدہ  مسئلہ اگر میں اس کو اورکھول دوں  تو کہنا پڑے گا کہ بن سلمان کا آج کا بیان نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلےعراق اور افغانستان میں رہ چکے امریکی سفیر "زلمای خلیل زاد"نے"پالیٹیکو"جریدے میں اپنے ایک مراسلے لکھا  ہے کہ : سعودی عرب کی انتہاپسندوں کی حمایت  کا سلسلہ 1960ء  کی دہائی سے شروع ہوئی اور اس کا مقصد نیشنلزم  یعنی جمال عبدالناصر کی سیاسی اجتماعی تفکرات  سے محفوظ آئیڈیولاجی  کا مقابلہ کرنا تھا  کہ جسے سعودی عرب کیلئے  خطرہ سمجھا جاتا تھا  کہ جسے یمن کے سرحد وں پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ،چونکہ ناصر ازم کو مہار کرنے کیلئے یہ ٹیکٹک کامیاب نسخہ  ثابت ہوا سعودیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس انتہاپسندی کی حمایت  جاری رہے کیونکہ  یہ بڑے مقاصد کو حاصل کرنے  کیلئے طاقتور وسیلہ ثابت ہوسکتا ہے۔اورہوا بھی۔ یہ میں نہیں کہہ رہاہوں یہ زلمای خلیل زاد کہہ رہا ہے اوریہ سفیر بھی رہا ہے افغٖانستان اورعراق میں۔

سعودی عرب میں وہابیت کا زوال ہوتے ہی امت اسلامی میں اسلامی جمہوری نظام ہر سو حاکم ہوگا

سوال: انہوں نےوہابیت کے پودے کو بڑھانےسےکیا  فوائد حاصل  کئے ؟

ج) آپ کے اس پروگرام میں  بحث ہوگئی تھی  کہ جو اسلامی جمہوریہ کے نام سے تاریخ میں جو پہلا ملک وجود میں آیا اور یہ نعرہ لگایا وہ پاکستان ہے پھر اس کے بعد وہی نعرہ ایک افریقی ملک موریتانیہ نے دیا، اس نے بھی کہاکہ ہماری حکومت یہاں اسلامی جمہوریہ  ہے۔ اس کے 19 سال بعد ایران نے کہاکہ  یہاں اسلامی جمہوریہ ہے پھر اس کے بعد افغانستان نے  کہاکہ ہمارا ملک  اسلامی جمہوریہ ہے اور پھر گامبیا نے کہاکہ ہمارا ملک  اسلامی جمہوریہ ہے۔ تو جو اسلامی جمہوریہ کا خاکہ پاکستان نے پیش کیا ،شاید جس نے جمہوری اسلامی کا نعرہ دیا اس کو خود کو بھی پتہ نہیں تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔کیونکہ اگر پتہ ہوتا تو اسے عملا سکتا تھا ،جو  کسی خفیہ  ایجنڈے پر کام  کرتا ہے اسے آگے کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔مگر جب ایران  نے اسلامی جمہوریہ کا نعرہ دیا،یہ نعرہ کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا،  یہ نعرہ فقیہ نے دیا، مجتہد جامع الشرایط نے دیا ۔اتفاقاً آج  وہی دن ہے کہ ایران  میں پہلی اپریل کو جو ریفرنڈم ہوا ،امام خمینیؒ نے کہاکہ:"ریفرنڈم کرایا جائے،جس میں سبھی لوگ  اپنی اپنی رائے دیں کہ کیا وہ شہنشاہی حکومت چاہتے ہیں،  کیا وہ نیشنل  ازم حکومت چاہتے ہیں، ڈیموکریٹک چاہتے ہیں، جو بھی  چاہتے ہوں  مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ  اسلامی جمہوریہ  نہ ایک لفظ زیادہ نہ ایک لفظ کم"۔ تو اس طرح تاریخ رقم ہوئی  کہ98.2فیصد ریفرنڈم ہوا اور لوگوں نے جمہوریہ اسلامی  کو ووٹ دیا۔ اورآج چالیس سال کے بعد  دیکھئے کہ اس اسلامی جمہوریہ کا اوٹ پٹ کیا نکلا، جس  امریکہ کا گھر ایران تھا  وہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن  بنا، جس  اسرائیل کا بہشت ایران  تھا وہ اسرائیل کو نابود کرنے کا گڑھ یہی ایران بنا۔  یہ ہوگیا اسلامی جمہوریہ  جس سے"فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ" عیاں ہے کہ اس وجود سے  فائدہ کس کو ہوا ہے  اور  نقصان کس کو ہے ۔اور وہابیت کو تنو مند درخت بنانے کا مقصد اس قسم کے اسلامی جمہوریہ کو روکنے کے لئے  رہا ہے جو کہ الٹا نتیجہ دے گیا ہے ۔

خلیج فارس ممالک حکام کی خواب غفلت

اورایک کالر:یہ جو پانچواں بحری بیڈ بحرین کے ساحل پر کئی سالوں سے لنگر لگائے کھڑا ہےاور امریکہ کہہ رہا ہے کہ بحرین ہمارا دوسرا گھر ہے کیا یہ ممالک ان بحری بیڈوں پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ؟

ج)ان شاءاللہ یہ جو خواب غفلت میں سوئے ہوئے  ہیں وہ بیدار ہو جائيں،کیونکہ ایسے نتیجے سامنے آرہے ہیں،بیداری یقینی ہے۔  ابھی آج کی ہی بات ہے آج فارئن پالیسی نے لکھاتھا کہ  امریکہ نے سعودی عرب کو  ناکارہ میزائل سسٹم فروخت  کیا ہے۔اب امریکی  خود کہہ رہے ہیں۔امریکی نشریہء فارین پالیسی لکھاہے کہ؛ پیٹریاٹ ڈیفینس سسٹم  کے یمن کی انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب پر  داغے گئے میزائلوں کو نشانہ بنانے میں ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئےلکھا ہے : شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ میزائل کے دفاعی سسٹم کہ جس پر امریکہ اور اس کے اتحادی جن پر اعتماد کرتے تھے وہ ناکارہ  ہیں ۔

سوال: ناکارہ دیے گئے تھے کہ وہ چلانہیں پائے ؟

ج) یہ تو امریکی جرنلسٹ کہہ رہا ہے کہ امریکہ نےان لیڈروں کو ناکارہ سسٹم ہی دیاہے۔ امریکہ اورامریکہ کے اتحادیوں کو جس  دفاعی سسٹم پر بڑا ناز ہے۔جس طرح محترم کالر نے کہاکہ بحری بیڑے تیار ہیں  ان پہ ناز ہے، وہ سارے پوسیدہ  ہیں وہ عملی طورپر اس انصاراللہ کا مقابلہ نہیں کرپار ہے ہیں حقیقی طاقتوں سے کیا مقابلہ کریں گے،مگر  پھر بھی ان کا اللہ سے زیادہ  اسی امریکہ کے فوجی دفاعی نظام کہ خود امریکی اسے ناکارہ نظام اورناکارہ بتا رہے ہیں پھر بھی ان پہ بھروسہ ہے۔

 مگر الحمداللہ جس بات کو ہم  کھولنے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ  بات یہ ہے کہ جو امت میں سیاسی بیداری، اسلامی انقلاب کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے اس سے نقصان کس کو ہوا ہے؟ نقصان صرف امریکہ کا ہوا ہے ، جو پورے کائنات کا  اپنے آپ کو صاحب ہونے کا دعویٰ کررہا تھا اور جو اس کا  ناجائز اولاد  ہے جس نے خطے میں تمام مسلمان ممالک پر لگام کس کے رکھی تھی۔ اس ناجائز اولاد کو یہاں آزاد چھوڑدیاگیا ہے  جس کو اسرائیل کہتے ہیں اس کا  نقصان ہوا ہے۔ایسے میں خود کو اس حالت سے بچانے کیلئے ان کے پاس صرف  ایک ہتھیار ہے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے اوراسی لئے وہابیت کو پروان چڑایا گیا ہے۔

آپ دیکھئے مسلمانوں میں وہ بھی ایک  مسلک ملے جو مسلمان تو ہے مگر نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے، ایسے بھی مسلمان ہیں  جو کہتے ہیں کہ جناب پردہ /حجاب کرو، یہ کرو، وہ کروہ کیا رٹ لگاتے ہیں  نظریں پاک ہونی چاہئے، اسلام  نے سلامتی کا دعوت دیا ہے وغیرہ۔ اگر ان فرقوں کے پیچھے بڑی  اینوسمنٹ ہوگی تو یہ مسلک دنوں طرفدار  پیدا کریں گے،جس طرح احمدی فرقہ نکلا ہوا ہے،  ان کے پاس کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے چونکہ ان کےپیچھے ایک طاقت ہے فرقہ بن گیا،اسی طرح  بہت سارے  ایسے مسالک  اسلام  کے اندر ہیں جن کو ان اسلام دشمن طاقتوں نے  اپنے مفاد کیلئے استعمال  میں لایا ہے اورجن میں زیادہ موثر رول  وہابیت نے ادا کیا ہے اور وہابیت نے جس شدت کےساتھ اور بڑے موثر انداز میں اس کو امپلی منٹ کیا وہ آج دنیا بھر میں عیاں ہے۔ کل جب کہتے تھے  کہ وہابیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسلام دشمن کا بنایا ہوا فرقہ ہے،کہتے تھے یہ مسلکی تعصب کہلاتا ہے ، پھر فلاں سفیر نے بھی اعتراف کیا لیکن اندیکھی کی گئی  مگر آج  سعودی عرب رسمی طورپر کہہ رہا ہے کہ  ہم نے وہابیت کو امریکہ کے کہنے فروغ دیا ۔جبکہ لوگوں  کو کہا کہ آپ اسلامی جہاد شروع کریں ۔جس طرح ا بھی بھی  پاکستان میں بیچارے ضیاءالحق صاحب کو بہت سارے لوگ کوستے رہتے ہیں کہ اس نے دہشتگردی کوجنم دیا،جبکہ اس بیچارے کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کوئی جہاد نہیں بلکہ امریکہ کا مشن تھا۔

اب نام نہاد جہادی تنظیموں سے پوچھا جانا  چاہئے کہ کیا اب وہ ہوش کے ناخن لینے کی لئے تیار ہیں۔ عسکری تنظیمیں اسلام کے نام پر قائم کرنے کیلئے جو کہاگیا تھاایجنڈا کس کا تھا؟ افغانستان میں سویت یونین کے خلاف حکمت عملی کس نے بنائی تھی؟جو آپ نے طالبان بنائی، جو آپ نے القاعدہ بنائی، جو آپ آئے دن مذہبی عنوان کے ساتھ، اسلام کے نام پر ،پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے نام پر اتنی سارے تنظیمیں بنائی گئي ہیں ان کو فنڈینگ کون کررہا ہے؟ سعودیہ کہہ رہا ہے کہ ان کو فنڈینگ مغرب کررہا ہے۔امت اس پہ ان کو سوال کریں کہ ان نام نہاد جہادی تنظیموں کا منبع  کیا ہے؟۔ مسلمہ شواہد کے رو سے تومغرب اور اسرائیل ہے۔ ان ہی کے فواید کے لئےاستعمال کیاگیاہے، سویت یونین کوتوڑنے کیلئے انہیں استعمال کیا گیا ہے۔ان تنظیموں نے ابھی تک امریکہ کی مدد کی ہے اور اس بیچ امت اسلامی کو توڑنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔یہ لوگ ابھی تک صرف مسلمانوں کو قتل کرنے میں کامیاب  ہوئے ہیں، اسلام کی خدمت کرنے میں کوئي بھی مثال پیش نہیں کر سکتے ہیں۔ حقیقت  میں کوئی بھی ایک کارنامہ نہیں ہے ان کے پورے ریکارڈ میں ایسا کوئی کام نہیں پایا جاتا کہ جسے کہاجائےگا  کہ انہوں نے اسلام کی خدمت کی ہے۔

 اب دیکھنا یہ ہے کہ بن سلمان کی  ان باتوں سے اور ان حقائق کےسامنے آنے سے انتہا پسندی کا کیا رد عمل ہوگا۔ اگرچہ امام خمینیؒ نے اُسی دن اس بات کا انکشاف کیا ہے  کہ آپ اپنے  بظاہر دشمن کو پہچاننے کے بجائے اصلی دشمن کو پہچانیں۔ امام خمینیؒ نے وہی کچھ بتایا کہ جو امام خمینیؒ نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے سیکھاتھا،  جو کربلا سے سیکھا کہ اصلی گیم پلان رکھنے والے کو رسوا کرنا ہے۔اسی لئے یزیدکو پکڑتے ہیں ،ہم شمر کو نہیں پکڑتے، تو ایران کا انقلاب اسی  لئے کامیاب ہوگیا جب یہ اصلی دشمن کو سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ،جس کو  دینی بصیرت کہتے ہیں، جس طرح صبح کی دعا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ:" اےاللہ ہمیں آنکھوں میں، روشنی  اوردین میں بصیرت دے"۔[[1]]۔

تو یہ تبھی ممکن ہے  جب ہم ان چیزوں کو ا یک ساتھ ،ایک آرڈر میں، سامنے رکھیں کہ جب سے سویت یونین کو توڑنے کیلئے  امریکہ نے مسلمانوں کو فول بنایا، تب کے بعد مسلمان ممالک میں  کیا ہوا۔  کیا کچھ مسلمانوں کے مفاد میں  ہو ا۔  مسلمانوں نے کیا کھویا کیا پایا۔

امت اسلامی میں نظم و ضبط میں اصلاح کی ضرورت

 ایک خاتون کالر :امت اسلامی کو نظم وضبط کی ضرورت ہے،محمد و آل محمد کی پیروی کی ضرورت ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔

ج)بالکل ایسا ہی ہے۔اس حوالے سےمیں  جس بات کو  بار بار عرض کرنے کی کوشش کرہاہوں وہ عوام میں سیاسی شعور پیدا ہونا ہےوہ صحیح اورغلط کے درمیان فرق کرنے کے علاوہ دو غلط اوردوصحیح  میں تشخیص دینے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اگر لیڈر کتنا بھی صالح ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) جیسا لیڈر ہوہی نہیں سکتا مگر ان کے  پیروکار جب منظم نہ  نکلے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شکست کھاگئے ،جنگ احد میں، جو ہمارے سامنے بڑی عبرت ہے۔اس کےبعد اہلبیتؑ  کے ہوتے ہوئے وہ کچھ نہ کرسکے کیوں، کیونکہ عوام میں وہ سیاسی شعور نہیں تھا۔ ابھی چونکہ میڈیا کا دور ہے ، حقائق جلدی سمجھنے کیلئے، ان کا تجزیہ و تحلیل کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس لئے اگر اس دور میں، جب اسلامی انقلاب  کے اقتدار کا دورگذررہا ہے اورعملی طورپر وہ نقشہ راہ دکھا رہا ہے جس میں امت اسلامی کے روشن مستقبل کی راہ عیاں ہے اگر ہم اس میں بہک جائیں تو  اللہ کی طرف سے ہمیں  بہت بڑی سزا ملےگی۔ اوراس تحریک میں ہماری ذمہ داری باقی مسلمانوں سے زیادہ بنتی ہے  کیونکہ ہمارا دعویٰ رہا ہے کہ  ہم اہلبیتؑ کے پیرو ہیں ۔

وہابیت زوال کی دہلیز پر اب مغرب کا اگلا مہرہ کون

سوال:اب وہابیت کے پیر اکھڑ رہے ہیں، اب مغرب کی دوسری چوئس کیا ہوگی  ، بن سلمان نے سارے راز فاش کردیے ؟

ج)میں پہلے آپ کے سوال کو تکمیل کروں، دوسری نہیں بلکہ چوتھی چوئس کیا ہوگی؟وہابیت کے بعد دوسری چوئس طالبان تھی اور پھر تیسری چوئس داعش تھی،گویا اب جو بھی  چوئس ہو اس کا اٹھنے سے پہلے ہی کچلا جائے گا۔کیوں؟ کیونکہ اب بصیر ت کی تحریک ـ چل پڑی ہے، جو انقلاب اسلامی کی شکل میں وجود میں آئی  ہے  جو کہ اب کسی بھی شیطانی تحریک کو اُبھرنے نہیں دیں گے۔چونکہ بصیر افراد اورعلمای ربانی اس سے پہلے یا وہ خود سیاست سے دور رہے ہیں  یاشرائط مناسب نہیں تھے  مگریہ زمانہ وہ زمانہ ہے کہ اب عوام میں وہ بصیرت  بھی ہے اورقیادت کا بھی فقدان نہیں ہے یقینی طورپر  اب مقاومتی اسلامی تحریک سامنے آگئي ہیں اب مستقبل ان کا ہےمغرب کا دور ختم ہونے جارہا ہے  ۔

مقاومتی نظریے اور وہابیت کی بیزاری میں اکثر شیعہ سنی مسلمان یک زبان

سوال : لکھنو میں جو کانفرنس ہوئی ،جس میں جو اہلسنت علما آئے تھے انہوں نے جو کمال تقریریں کی اس سے اندازہ ہوتا ہے  مسلمانوں میں بیداری کی لہر  اپنے اوج کی طرف جاری ہے؟

ج)بالکل، یہ آپ کی اورمیری بات نہیں ہے اب سنی علما میں اس سے کئی گنا بڑھ کر جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے جو حقیقی طور ایمان کے ساتھ بات سامنے  رکھتے ہیں اور کہتے ہیں  کہ؛ ہمیں اگر ترقی کرنی ہے، اگر ہمیں مستقبل سنوارنا ہے تو ہمیں اس ولی فقیہ امام خامنہ ای کی قیادت میں  چلنا ہوگا ،صرف اسی طریقے سے ممکن ہے، اس جھنڈے سے ہٹ کر ہم  کسی بھی جھنڈے تلے  جائیں گے تو ہمارا نقصان ہے ۔ دیکھیں،یہ اہلسنت کی سیاسی بیداری  کی ایک عمدہ مثال ہے۔ وہابیت پر انگریزوں نے تقریباً تین سو سال سے اینوسمنٹ کرتے رہے اورآج آخر کار خود اپنی ہار تسلیم  کررہے ہیں۔ اب  بات اتنی ہی نہیں کہ جو ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ ہم نےہی ان تکفیریوں کو بنایا بلکہ اب یہ خود بھی کہہ رہے ہیں  ہمیں الو بنایا گیا۔

 یہ آج کی بات نہیں عبدالوہاب  نے سال 1741ء  میں جو کام شروع کی تھی کہ وہابیت کے حوالے سے اورپھر جاکے اس کو 1930ء میں اوج ملی جب  امریکی صدر "ریزولٹ" اور "عبدالعزیز"کے درمیان جو معاہدہ ہوا تب سے وہابیت مضبوط ہوئی اور اسی کو آپ دیکھئے جو یہ 1930ء میں معاہدہ  ہوا تیل کا اسی قیمت پہ آج تک  امریکہ سعودی عرب سے تیل  لے رہا ہے ۔اورجس طرح ٹرمپ نے کہاتھا کہ  یہ سعودیہ والے دودھ دینے والی گائے  ہے جب تک دودھ دےگی دودھ لیں گے جب دود ھ دینا بند کریں گے اس کا گوشت کھائیں گے ۔اور اب اسی گوشت کھانے کے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ٹرمپ  نے حال ہی میں  کہاکہ شام میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا،  ہمارے ہاتھ تیل نہیں آیا۔ تو ان کی زبان سے جو یہ چونک ہوتی ہے،  مسلسل کسی نہ کسی زبان سے یہ حقائق اگل رہے ہیں۔اس سے بھی  حقائق اجاگر ہو رہے ہیں۔ کسی حد تک اہلسنت برادری میں  جو کہ اکثریت میں ہیں جو کہ غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے فیصلے کرنے میں چونک جاتے تھے،انہیں ان باتوں سے بہت سیکھ ملتی ہے،ان کو حقائق سمجھنے میں بڑی آسانی  ہوجاتی ہے کہ  ہمیں بیوقوف  بنایا جاتا رہا ہے، کبھی جہاد کے نام پر ، کبھی مسلکی  نام پر،اب جب اہلسنت کے درمیان پروپگنڈا کیا جاتا ہے اس کے جواب میں یہ اہلسنت  جو باشعور طبقہ ہے  وضاحت کرتے ہیں کہ ہم نے مسلک  نہیں بدلنا ہے مگر سیاسی  خطوں پہ ہمیں شیعہ قیادت کے پیچھے چلنا ہے کیونکہ سیاسی طورپر شیعہ ابھی تک  ہمیں بکنے والے نظر نہیں آئے  ہیں خاصکر جو تصویر اسلامی انقلاب نے سامنے رکھی ہے ۔

سوال: سیاسی طورسے جو بات کریں گے جیسے کہ جمال عبدالناصر  کی تحریک تھی اوراسکے بعد انہوں نے فوراً اس کو کونٹر کرنے کیلئے وہابیت کو سامنے لے  آئے اور انقلاب اسلامی نے بتادیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں،اب اس کو بیداری کو روکنے کیلئے دشمن کا کیا منصوبہ ہے۔؟

ج) آپ دیکھ رہے ہیں کہ شیعوں کے اندر نفرت پھیلانے والے گروہ دن بہ دن مضبوط ہوتے جارہےہیں،  سنیوں کے درمیان بھی اسی طرح ، مگر الحمد اللہ  اب وہ  کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔اس حوالے سےاس وہابیت کی  جو بڑی مثال ہے جس نے اتنے بڑے اقتدار میں  دو تین سو سال نکا ل لئے، خاصکر پچھلا ایک سو سال اقتدار کی چوٹی پر رہے تو جب اس کی یہ درگت  ہو رہی ہے کہ آج وہ  اپنی موت خود مررہا ہے۔

یہ اب  اپنے امیر ترین لوگوں  کو پہلے قید کرکے  پھر ایک  کو تیس ملین ڈالر ماہانہ جرمانہ دینے کا کے معاہدے کے ساتھ اس کو آزاد چھوڑتا ہے ،اس قسم کے غیر سنجیدہ فیصلوں سے نہ خود مشکل سے نکلنے کا راستہ تراشتا ہے بلکہ اپنے دشمن  زیادہ بنارہا ہے اسی طرح  سیاسی طورپر ،اقتصادی طورپر، اجتماعی طورپر ایسے فیصلہ لے رہا ہے جس سے یہ اپنے موت کے سامان  خود تیار کررہے ہیں ۔

سعودی عرب دوسرا ایران بننے جارہا ہے

سوال: لبنان میں  سعد حریری  سعودیہ کا مضبوط مہرا تھا اس کے ساتھ وہ  ہتک آمیز سلوک کیاگیا جبکہ وہ  ایک ملک کا وزیر اعظم ہے تو کیا اس طرح سعودیہ  اپنے دوستوں کو کھو رہا ہے۔ایسے میں سعودیہ کا مستقبل کیا ہوگا؟

ج)ٹھیک جس طرح ایران میں ہوا تھا وہی سعودیہ میں ہونے جارہا ہے، ایران میں بالکل اسی طرح  کے حالات تھے اور انقلاب کا کوئی مؤثر امکان نظر نہیں آ رہا  تھا کہ یہاں کوئی تبدیلی آنے والی ہے ،لیکن ایک دن لاوا پھوٹا اور انقلاب کامیاب ہوا ،ایسا ہی سعودیہ میں ہونے جارہا ہے۔

 اس سے پہلے جو اشارہ کیاتھا، شیعوں کے سیاسی شعور کے بارے میں ،اس کی تائيد میں اہلسنت  عقیدہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ یہی  لبنان کی مثال کی بات کرتے ہیں جو آپ نے دی  میں اس کو  تکمیل کررہا ہوں  کہ سعد حریری کو جب  سعودی عرب نےیرغمال بناکر، اس کو رسمی طور استعفیٰ دینے کو  کہااور اس نے استعفیٰ دیا۔مگر وہاں پر جو اس کا حریف تھا، جو بظاہر حریف کہلاتا،اس پر تاپڑتوڑ  حملہ کرتارہتاتھا یعنی حزب اللہ اور سید حسن نصراللہ کو اپنا دشمن قراردیتا تھا مگر وہی سید حسن نصراللہ اس کی حمایت میں میدان میں آیا اور  کہا کہ ہم سعد حریری کی توہین  برداشت نہیں کریں گے ،یہ ہمارے وزیر اعظم ہے، ہم ان کی باعزت  واپسی چاہتے ہیں اور واپس ملک آکر اگر اس کو استعفیٰ دینا ہوگا تو یہاں آکر دے،مگر ایسے ہم ان کی توہین کو  اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی سعد حریری جیسے سعود ی نواز سنی سیاستدان کے سمجھ میں آگیا کہ  جو باسعادت سیاست  کرنے والے کون ہیں اورجو  مکارانہ سیاست کرنے والے ہیں وہ کون ہیں۔ وہ بھی ایک نمونہ رہا۔

 دوسرا یہ کہ جو میرا ماننا ہے کہ سعودی عرب  ایران بننے جارہا ہے۔ بالکل  ایران بننے جارہا ہے  یہاں ایران میں بھی کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے کہ بادشاہ کے ہاتھوں سے اقتدار چھن جائے گا۔ انقلاب  سے پہلے یہاں ایران میں سعودیہ کی طرح اتنی فحاشی تھی،  اتنی بدکاریاں  ہوتی تھی،  کیا کچھ گناہ نہیں ہو رہے تھے بلکہ سارے گناہوں کا گڑھ یہاں  ہوتے تھے جس طرح  ابھی ریاض میں ہے۔  ابھی ریاض شیطان کا گڑھ بنا پڑا ہے مگرد نیا کو پتہ  نہیں چل رہا ہے مگر لوگ جو وہاں رہ رہے ہیں وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، ان کو جب بھی فرصت ملے وہ اس سلطنت کا پاسا پلٹ کے رکھ دیں گے،جس کے لئے میدان فراہم ہورہا ہے۔

 اس میں  کوئی دو رائے نہیں کہ مستقبل قریب میں  سعودی عرب دوسرا ایران بننے جارہا ہے۔وہ یوں کہ اسوقت  جو اسکے سب سے زیادہ چہیتے  ہیں، سعودی عرب  ان کا سب سے زیادہ  دشمن  بنےگا،یعنی سعودی عرب  امریکہ کا دشمن بننے جارہا ہے اورضرور بنے گا، سعودی عرب اسرائیل کا دشمن بنے گا اور  ضرور بنے گا جب وہاں عوامی تحریک اُبھرگی  اوروہابیت کا خاتمہ ہوگا ۔

سعودیہ میں سفارتی زبان کا فقدان اور سیاسی حماقتیں

سوال: ایک ڈپلومیٹک زبان ہوتی ہے، سفارتی اہداف ہوتے ہیں ان کی پروا کئے بغیرکوئی سعودیہ ذمہ دار ایران کو کرایے کی میزائيلوں کی  دھمکی دے کے کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟

ج)یہ تو مزے والی بات ہے  کہ سعودیہ کا پورا دیوالیہ  نکل چکا ہے اور یہ سب کچھ عیاں ہورہا ہے۔  جو لوگ نہتے یمنیوں کا مقابلہ  نہیں کرسکتے وہ کرایے کے چار  میزائلوں کی دھمکی دے رہے ہیں! اورجس دفاعی نظام پر ان کو ناز  ہے پیٹرٹائک سسٹم کے بارے میں خود امریکی کہہ رہے ہیں کہ ان کو ناکارہ  دفاعی سسٹم دیا گیا ہے۔

سوال:کیا یہ پوچھ نہیں سکتےہیں کہ امریکہ نے ناکارہ کیوں دیا ہے ؟

ج) ناکارہ دینا یہ خود  امریکیوں کی تحلیل ہے۔  ایسا نہیں کہ کوئی اور اسطرح  کی تحلیل کررہا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ  امریکہ کا جو سب سے زیادہ کردار رہتا ہے وہ ہالی ووڈ سٹائل کا ہوتا ہے،خالی بندی۔ ہالی ووڈ میں جس طرح ایک ایمپریشن دیا جاتا ہے  کہ جب بھی پوری دنیا  کو خطرہ لاحق ہوگا صرف  امریکہ پوری دنیا کو بچائے گا۔ دنیا کے ذرے ذرے پہ  مکمل ہولڈ جس کا ہے وہ امریکہ ہے۔جبکہ حقیقت میں صرف  ایک پروپگنڈا اور دھوکہ بازی ہے ۔کیوں ؟ کیونکہ میدانی طورپر  حقیقت کچھ اور ہے جب مردمیدان،میدان میں آگئے ان کی سیاست  اور  ان کے دعوؤں کی پول کھل گئي۔اب یہ  ہالی ووڈ فلمی سٹائیل  نہیں چلے گا۔  اب دنیا نے دیکھا کہ افغانستان کا کیا ہورہا ہے، شام میں کیا ہورہا ہے اس کی پول کھلتی جارہی ہے یہ ہالی ووڈ فلم تھوڑی ہے کہ خیالبافی سے کام چلایا جائے ، میدانی صورتحال کچھ اور ہے۔

اسلامی ممالک کے حکام اور امت اسلامی میں اتحاد

ایک اورکالر :اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کیوں نہیں ہوتا ہے؟

ج( یہ سوال بہت ہی پچیدہ ہے کیونکہ اس کے  کئی زاویہ ہیں۔ آپ اس سے اتفاق بھی کرسکتے ہیں اوراتفاق نہیں بھی کرسکتے ہیں۔ دیکھئے ایک اسلامی اصول ہے جس کے رو سے حالات کے مطابق عمل کرنا ہوگا کہ  جس طرح حال ہی میں ایران کے وزیر خارجہ نے بھی  پاکستان میں کہاتھاکہ اگر سعودی عرب پہ حملہ ہوتا ہے تو  ہم ان کا دفاع کریں گے۔ تویہ وہ اسلامی اصول کی ترجمانی  ہے کہ جس کے رو سے جہاں پر مسلمانوں  پہ حملہ ہوگا توآپ کو ان  کے دفاع کرنے کیلئے سامنے آنا ہے۔اور اگر مشرک  اہل کتاب والوں پہ  حملہ کریں گے تو آپ کو اہل کتاب کی حمایت کرنا ہے۔اور اگر اہل کتاب جیسے یہودی دوسرے اہل کتاب جیسے عیسائیوں پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو عیسائیوں کی حمایت کرنی ہے۔اور اگر ملحد عیسائیوں اوریہودیوں پر حملہ کریں گے تو آپ کو اہل کتاب والوں کی حمایت کرنی ہے۔ یہ ایک پہلو ہے۔

 دوسرا یہ ہے آپ کس کے ایجنڈے  کو پورا کررہے ہو، کس کی خانہ پری کررہے  ہیں۔ عراق کے عوام نے آج یہ بتایا ہے کہ  جب دوستانہ ہاتھ بڑھانے کے عنوان سے ولی عہد نے آنا چاہا اس کو کہاکہ "مثلی لا یبایع مثلہ"۔یہ دوستی کا دعوی کسی بھی اعتبار سے دوستانہ نہیں ہے کیوں؟ کیونکہ تم اس وقت دشمن کے ایجنڈے پر  کام کررہے ہو ۔اس طرح ایسے لوگوں کا ساتھ  نہیں دینا ہے۔

 ان دوونوں مسائل کو لے کر دوپہلو سامنے آتے ہیں  ایک حکومتی سطح کا دوسرا عوامی سطح کا ۔حکومت  پر وہ ذمہ داری  بنتی ہے ایران جیسے  ملک اورپاکستان ،ترکی اور باقی ممالک جو  کسی حد تک  خود مختار بھی ہیں البتہ ان میں سب سے زیادہ ذمہ داری  ایران پر عائد ہوتی ہے کیونکہ جب تک اسلامی دعویٰ ہے تب تک  ایران پہ سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے  ۔وہ امت اسلامی کے اتحادکیلئے کام کریں اور  کربھی رہیں اور دوسرے اسلامی ممالک کو بھی کرنا چاہئے یہ حکومتی سطح کے مسائل ہیں جو ہمارے دائرے سے باہر ہے۔ مگر جو ہمارا کام ہے ،آپ کا ہےاورمیرا ہے وہ  بس یہی ہے کہ  ہم انسانیت سوز کاروائی کے خلاف اعتراض کرنا ہے۔  جہاں پر ہمارے حکام کچھ ڈیڑا کریں،  جہاں پر یہ سیاسی افراد اپنے دعوؤں سے مکر جائيں ان کے خلاف  جس حد تک ہو سکے اپنا احتجاج درج کریں، ہم گھر میں ان کی گھر میں بیٹھ کر تنقید کرسکتے ہیں، گھر میں تنقید کریں۔ ہم سوشل میڈیا پر  حقائق کو بیان کرسکتے ہیں سوشل میڈیا پر بات کریں،لکھاری ہیں تو  لکھ کر،مقرر ہیں تو کہہ کر اپنا احتجاج درج کریں اور اس طرح عوام کو سیاسی  مسائل میں کھل کے سامنے آنا ہوگا تب جاکے دشمن  کچھ نہیں کرسکے گا ۔

وہابیت اور آل سعود کا مستقبل

سوال: جہاں پر گفتگو چھوٹ گئی کہ  وہابیت کا جو پول کھل گیا اب آل سعود کا حشر کیا ہوگا؟

ج)آپ دیکھئں بن سلمان  کا نہ  کوئی تجربہ  ، نہ  سلیقہ ہے کہ جس کو دیکھ کے  انسان کہتا  کہ اس کا فیوچر روشن ہے۔ اس  نے اب تک جو کوئی بھی تیر چلایا، وہ غلط نشانے پہ بیٹھا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ یمن  کو چٹکی بھر میں زیر نگین کرونگا۔۔۔ کچھ نہیں بگارڈ سکا۔ کہاکہ سعودیہ  میں اکانومی ٹھیک کرونگا،  جنہوں نے لوٹ کھسوٹ کیاہے ان سے حساب لوں گا۔  پھر ہم نے دیکھا کہ  شہزادوں کےساتھ کیا کیا۔ اسطرح  جو بھی  بڑی کاروائی ڈھنگ سے  کی اس کا بالکل منفی اثرات سامنے آئے۔ یہی جس کی طرف آپ نے بھی صحیح اشارہ کیا کہ اگر  ایک تاجر کو ماہانہ ایک ملین ڈالر جرمانہ  دینا پڑےگا تو کیا وہ یہ نہیں چاہئے گا کہ اس کی جان ایسی بلا سے چھوٹ جائے۔غرض بن سلمان دوست بنانے کے بجائے اپنے لئے دشمن تراشی  کررہا ہے۔اور جب تک  نہ آل سعود قطر کی طرح  اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا فیصلہ نہیں کرتے، تو ان کا بوریا بستر گو ل ہونے جارہا ہے ۔

ترکی کا  کردار قابل تامل

سوال: ترکی بھی تو اب سعودیہ کا  دشمن بن گیا ہے سعودیہ نے کھل کے ترکی کو شیطانی محور قرار دیا؟

ج)زبانی طورپر  تو اب ترکی وہی بات کررہا ہے کہ جو ایران کا موقف  ہے، جو اسلامی موقف ہے مگر درواقع میدانی طورپر ابھی کچھ نہیں کر رہا ہے۔جس طرح کل اردوغان صاحب نے  بڑے زوردار طریقے سے  فلسطین میں قتل وغارت  کے حوالے احتجاج بلند اور نیتن یاہو کو دہشتگرد کہہ دیا اور وہ بھی  افیشل بیان میں بڑے اچھے ہی انداز میں،  مسلمانانہ انداز میں بیان دیا،  مگر میدانی طورپر ابھی ترکی نے اسرائیل کےساتھ رابطے توڑنے میں  کوئی عملی  قدم نہیں اُٹھایا   ہے۔جب تک سفارتی تعلقات  قائم ہیں ترکی اور اسرائیل کے درمیان  تب تک شک کے نظروں سے دیکھنا جائز بنتا ہے ۔

سوال : مگر ترکی ابھی امریکہ کے خلاف جا رہا ہے اور کردوں کے معاملے میں امریکہ  ترکی کے خلاف کردوں کی حمایت کررہا ہے، فتح اللہ گولان کی جو تحریک  ہے اس کی حمایت کررہا ہے؟

ج)حقیقت ہے، اگر جو کچھ کہہ رہا ہے ، خاصکر ان دنوں جو اردوغان صاحب کے بیانات آتے ہیں، واقعاً طبیعت خوش ہوجاتی ہےاور لگتا ہے  کوئی مسلمان حاکم بیان دےرہا ہے، مگر عملی طورپر وہ کچھ نظرنہیں آرہا ہے جس کی توقع کی جاسکتی ہے، جس طرح  پہلے بھی کہاکہ ،یہ جو سعودی  ولی عہد عراق میں  کرنے جارہا تھا یہ وہی ڈرامہ تھا  جو ایران میں یہاں بادشاہ کررہا تھا، مذہبی سنٹی منٹ کو ایڈرس کرنے کیلئے کھیل کھیلتے رہے۔ اور اردوغان صاحب بھی وہی کچھ کررہے ہیں، میدانی طورپر، عملی طورپر  ویسا کچھ نہیں کررہے ہیں۔ جس طرح  بیچ میں یہ بات بھی آئی کہ اردوغان صاحب نے کہا کہ اسلامی فوج بنائی جائے۔ یہ اچھی بات ہے  مگر عملی طورپر اس حوالے سے کوئی  بھی کام نہیں کررہے ہیں جبکہ صرف   کہہ رہے ہیں کہ اسلام اورمسلمانوں  کا کام کرنے جارہے ہیں۔

سوال: ہوسکتا ہے کہ ترکی کسی وقت کا انتظار کررہا ہے، امریکہ سے ڈر رہاہے۔مسلمان حکام نے غالبا طاغوت  کی کبھی کھل کے مخالفت نہیں کی ہے،اکثر اسلامی تاریخ یہی رہی ہے کہ  مسلمانوں نے حکمرانوں کی پیروی  کی ہے اور سرکاری دین کے اوپر چلے ہیں،تو ایسے میں مسلمانوں کی کامیابی کیسے حاصل ہوگی؟

ج)اس کے لئے اہلسنت لیڈروں کو ہندوستانی سنی علما کی بات کو سننا پڑےگا جنہوں نے کہا کہ اگر کچھ کرنا ہے تو امام خامنہ ای  کے پرچم تلے آجائيں،  ان کی قیادت کے تلے آجائیں تو پھر آپ کی کامیابی یقینی ہے ۔

عراق اب سعودیہ کی پکڑ سے باہر

سوال: اچھا یہ جو سعودی ولیعہدبن سلمان کے دورے کا منصوبہ ناکام ہوا کیا اب اس کا جواب عراق میں خود کش بموں اور دھماکوں سے دیا جائے گا؟

ج)ظاہر سی بات ہے کچھ نہ کچھ تو کرنے کی کوشش ضرور کریں گے لیکن اب بغدار میں  دھماکوں کی صورت  جواب دینے کوئي گنجائش باقی نہیں رہے ،خاص کر اسلئے کہ جو واقعاً بغداد میں بڑے تاریخی مظاہرے ہوئے  بغداد میں سعودی عرب کے خلاف،اس قسم کے مظاہرے ہو نا ، واقعاً بڑی مثال تھی کہ اب ڈرانے دھمکانے کا زمانہ نہیں رہا،اگرچہ دھماکے وغیرہ کے ذریعے سے اپنا غصہ دکھانا چائیں گے لیکن میدانی صورتحال بدلنے  جارہی ہے۔اب سعودیہ عراق میں ایسا کچھ نہیں کرپائیں گے ۔

سوال :جو سعودیہ کے ایران مخالف سیلز کام کررہے تھے، اربیل  کے اندر ا اورربیل سے حرات تک  لیکن اب وہ سارے سیلز عراق کے اندر حشد الشعبی نے تباہ کردئے ہیں، داعش کو باقاعدہ زمین کے اندرزندہ دفن کردیا تو اب کس طریقے سے اگر یہ چائیں گے بھی تو کیا پھر بھی آپریٹ کرسکیں گے؟

ج) نہیں کرپائیں گے۔  کیونکہ اب ان کی  بنیاد ہی  ہل گئی ہے اور  سنبھال نہیں پارہے ہیں،جس مسئلے پر ہاتھ رکھ دیں وہ الٹا نتیجہ دے رہا ہے اور ابھی تک ان کی طرف سےہم نے  ایسا کوئی قدم نہیں دیکھا جو سنجیدہ نظر آئے،  جومعقول نظر آئے،  جسے پتہ چلے کہ  یہ کسی  منظم منصوبے کو  فالو کررہے ہیں۔  یہ اپنی جان چھڑانے کے لئے ہاتھ پیر ماررہے ہیں ،البتہ  بڑے انداز میں، سٹائل میں  اپنی جان چھڑانے کی کوشش  کررہے ہیں ۔ کیا یمن میں ان کا حشر نہیں دیکھ رہے ہیں جس  نے سب زیادہ ان کی  حالت خراب کردی ہے۔اسطرح  ان کو کوئی  راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔صرف آئے روز بڑ اجوا کھیل رہے ہیں  کہ کوئی نہ کوئی  تیر نشانے پہ بیٹھ جائے ۔

یمن آل سعود کے زوال کی گھنٹی

سوال: جو سعودیہ نے اپنی پوری  دولت  یمن کے  جنگ  پرداو پر لگائی ہوئی ہے اور میں شہزادوں کو مار پیٹ جاری رکھی ہے کسی کو تیس تیس ملین ڈالر ماہانہ دینے پر رہا کیاگویا اندر اور باہر سے صرف اپنے لئے دشمن تراش رہا ہے تو ایسے میں یمن سے کس طرح جان چھوڑاپائے گا؟

ج)وہاں یمن سےبھی باعزت نکلنے کے چانسز نہیں ہیں۔  اب تک جس کا چہرہ سامنے  نہیں آرہا تھا جو یمن میں اصلی کھیل کھیل رہا ہے یعنی امریکہ کا چہرہ وہ بھی اب صاف نظر آگیا ہے۔ جس کے بارے میں نے بہت پہلے آپ کے ایک پروگرام میں اتھنٹک سورسز کے حوالے سے کہا تھا کہ جو یمن  کی جنگ ہے وہ  دراصل اسرائیل کی بقا کی جنگ ہے۔ اس وقت  شائد بعض لوگوں کو صحیح تجزیہ نظر نہیں آیا ہوگا مگر آج کل تو سمجھ رہے ہونگے کہ یمن کا اصل ماجرا کیا ہے۔  جس طریقے سے یمن کے حوالے سے امریکہ ہاتھ پیر ماررہا ہے جس سے امریکیوں کی تکلیف  کا اندازہ ہوتا ہے کہ  امریکہ کو یمن کی کیاضرورت ہے  تو وہاں پر بھی امریکہ  کا چہرہ بالکل سامنے آیا  ہے۔ اب یمن ہی ان شاءاللہ امریکہ کوسعودی عرب کے ساتھ لے ڈوبےگا ۔

مغرب کی مسلسل ناکامیاں

سوال: ابھی جو مغربی اہداف کو شکست کے بعد شکست مل رہی ہے پہلے لبنان میں پھر عراق،پھر شام وغیرہ میں  اب کون سا  کارڈ کھیلنے جا رہے ہیں؟

ج)ٹرمپ نے جو بڑاکارڈ کھیلا ہے  اب سبھی اسی پہ ڈیپنڈ کرتا ہے۔ اگر قدس کے حوالے سے عملی طورپر دارالحکومت کو شیفٹ کرنے میں امریکہ  کامیاب ہو جائےاوراس وقت  مسلم امہ نے وہ کردار  ادانہیں  کیا جو کرنا چاہئے  پھر پتہ چلے گا کہ امریکہ اپنے منصوبے میں کامیاب  ہے کہ نہیں ۔اگروہ  کامیاب نہیں ہوا  کہ ان شاءاللہ نہیں ہوگا، تو یقیناً یہ امریکہ کے سارے پیٹھوں کے بینڈبجنے کے لئے کافی ہے۔جس سے  ایک نئی انقلابی تحریک شروع ہوگی  اور ہر ایک اس کا مشاہد کرے گا۔ جس طرح یہاں ایران میں  1970 ء میں کوئی تصور نہیں کر سکتاتھا کہ  ایران میں اسلامی انقلاب آئےگا کیونکہ ایران امریکہ کا بڑا اتحادی تھا مگر امریکہ کا سب سے بڑا دشمن بن کر ابھر گیا، ٹھیک اسی طرح ان تمام  امریکی اتحادیوں کے اندر، تمام ملکوں میں جمہوری اورعوامی  حکومت حاکم ہوگی اورنئی مقاومتی لہر اپنے اوج کو پہنچے گی۔جس طرح قطر نے سراُٹھا کے دکھایا کہ امریکہ کو آنکھیں دکھاسکتا ہے تو اسی طرح باقی عرب ممالک بھی ایسا کریں گے۔

مسلمان ممالک پرمغربی غلامی کی زنجیر زنگ زدہ

سوال: مگر پھرقطر  اسلحہ امریکہ سے ہی کیوں خرید رہا ہے ؟

ج)ترکی بھی ایسا کرہا ہے، جو لفظ مجھے بار ،بار استعمال  کرنا ٹھیک نہیں لگ رہا ہے کہ مسلمانوں کو شیعہ اور سنی کے عنوان سے الگ الگ ذکر کرنا ،مگر بعض مسائل کی وضاحت کے لئے مجبور ہوجاتا ہوں وہ یہ کہ شیعہ کے مقابلے میں اکثر سنی حکمرانوں کی سیاست دوغلی رہی ہے اور یہ اسی ڈیول پالیسی  کا حصہ ہے ۔ مگر الحمدللہ ان شاءاللہ  جو صاف وشفاف اورالہی  اورقرآنی سیاست  ہے  "فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ"﴿البقرة، 256   والی سیات ہے جس کو اسلامی جمہوریہ ایران نے عملاکےدکھایا ہے اور دیگر اسلامی ممالک میں اور علماء میں بھی اب یہ سیاست نمایاں ہونے کی امید ظاہر ہو رہی ہے کہ  جس طرح ہندوستانی علما  کی بھی مثال سامنے آئي ہے کہ  جو کھل کے بات کررہے ہیں،  جس شیعہ کو، جس اہلبیتؑ کے پیرو کو اہلسنت کا دشمن قراردیاجاتا تھا اب اہلسنت ہی سمجھ گئے ہیں کہ  نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ شیعہ ہمیشہ سنی کا خیرخواہ رہا ہے اور آگے بڑنے کیلئے:"وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَ لاَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ﴿المائدة، 2قرآن کے  اس اصول پہ عمل کرکے نیک کاموں میں آپس میں ساتھ دینا ہے اوربرُے کاموں  میں آپس میں ساتھ نہیں دینا ہے۔اس سیاست کو ہمیشہ شیعوں  نے اپنا کردار بنا یا ہے اور پوری تاریخ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ  اگر کبھی بھی شیعہ پہ اعتماد کیا جائے وہ کبھی یقینی طورپر  یہ پیٹھ پیچھے چھرا گونپنے والے نہیں ہیں، یہ قابل اعتماد ہیں کیونکہ یہ تو اللہ سے ڈرتے ہیں  اور معصوم اماموں کو اپنا امام مانتے ہیں تو اس سیاست کا عملی مظاہرہ کرنے کا وقت انقلاب اسلامی ایران سے میسر ہوا اور میدانی طورپر آہستہ آہستہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ شیعوں کے خلاف زہریلےپروپگنڈے کی پول کھل رہی ہے اورسنی شیعہ مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور رواداری کی مثبت فضا دن بہ دن وسیع  ترہوتی نظر آجاتی ہے جس سے اسلام دشم طاقتیں پریشان ہیں ۔

اورایک کالر ہمارے ساتھ :مسلمان "أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ"﴿الفتح‏، 29پر عمل کیوں نہیں کرتے؟

ج)یہ سوال ایران پہ آتا ہے،کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ ملک  اسلامی ہے، جمہوری ہے ۔الحمداللہ  ابھی تک  ایسا کوئی رول نظرنہیں آرہا ہے ایران نے"أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ"﴿الفتح‏، 29 کو حاکم بناکے عمل نہیں کررہا ہے۔اسی لئے، اس آیت کی روشنی میں ایران ، فلسطین کے دفاع کیلئے، فلسطینی مظلوم عوام  کیلئے اپنی جان کی بازی لگائے بیٹھا ہے ۔ایران واحد ملک ہے جس نے انقلاب آتے ہی اسی آیت کے روشنی میں پہلے ہی دن  اسرائیل کےساتھ سفارتی تعلقات توڑ کر ،اسرائیلی سفارتخانہ جو  ایران میں تھا اس کو فلسطینی سفارتخانے میں تبدیل کیا۔ تو باقی مسلمان حکام سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ  وہ بھی اسی قرآنی اصول کو حاکم بنائیں۔جزاک اللہ آپ کے جذبے کو۔

سوال:بات اس پر ہو رہی تھی کہ وہابیت کا پودا کیوں  لگایاگیا تھا، اس کی سرد جنگ میں اس کے لئے مغرب کو فائدہ پہچانے کیلئے کیا کردار چنا گیا تھا۔؟

ایک اورکالر: سعودی عرب تو ٹھیکہ دار نہیں ہے اسلام کا ،اسی سعودیہ کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے فلسطین میں کیا ہو رہا ہے،یہ دیوبندی شیعہ سنی انہوں نے بنائے ،اسلام میں یہ سب نہیں ہے سب مسلمانوں کو اکٹھا ہونا چاہئے نااور مل کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہئے؟

ج)دیکھئے مسلمانوں کےد رمیان  نہ دیوبندیوں کو حوزہ علمیہ قم و نجف سے جنگ ہے  نہ حوزہ علمیہ قم و نجف  کو دیوبندیوں سے جنگ ہےنہ بریلوی شریف کو نہ ہی الازہر کو کسی بھی مسلک کو آپس میں کسی بھی فرقے کے ساتھ اقتدار کی جنگ ہے۔مسلمانوں کے اندر آپس میں ایسا کوئی اختلاف نہیں ہے یہ میری سیٹ  کھاگیا، یہ میری یہ تیری ہے وغیرہ کی جنگ نہیں ہے۔جو اختلافات  ہیں وہ علمی ہیں، فقہی ہیں، جس کو اسلام کی زینت سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں اتنی علمی خوبصورتی  ہے اتنی وسعت ہے  کہ کتنے زوایوں سے اسلام کی تحلیل ہوتی ہے۔ مگر جہاں پر جو اختلاف ہے وہ سیاسی ہے ،مفادات کی جنگ ہے جس کو سمجھنا لازمی ہے۔

آپ نے اگر سنا ہوگا کہ  1930ء کا خیال کریں 1930ء میں معاہدہ کیاگیا سعودی عرب  سے تیل خریدیں گے جس قیمت پہ امریکہ نے 1930ء میں سودا کیا تھا ابھی تک اسی حساب سے لوٹ رہے ہیں۔  امریکہ تو آپ  کے خزانوں کولوٹ رہا ہے۔ جوسیاسی مقاصد ہیں وہ یہ ہیں  کہ اگر آپ اپنے خزانے اپنے اختیار میں  رکھیں تو آپ کے دشمن ہیں اور اگر آپ اپنے خزانے حوالے کرتے ہیں آپ کے دوست ہیں۔ اب کچھ مسلمان حکام اس سیاست کو سمجھیں گئے ہیں اسلئے آپ کا دیکھیں گے کہ مستقبل میں مسلمانوں کا اقتدار اورمستقبل کتنا روشن ،آسائش بھرااورخوشگوارہوگا۔

ایک اورکالر:سعودیہ میں تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے وہاں نائٹ کلب  بنا رہے ہیں ،یہ کیا ماجرا ہے؟

ج)اس پہ یہ خاموشی توڑنی ہے، محترم کالر نے عمدہ سوال کیا۔ آپ کے جذبے کو ہزاروں سلام کہ  یہی ضرورت ہے کہ  جو اپنے آپ کو خادمین حرمین شریفین  کا ٹائٹل دے رہا  ہے کہ جس نام کیلئے اس عہدے کی قداست پر ہم جان  دینے کیلئے تیار ہیں، مگر کیا یہ خادمین کہلانے والے خدمت کرتے ہیں حرمین شریفین کی  کہ وہ امریکہ اوراسرائیل  کی خدمت کررہے ہیں؟ دنیا بھر کے گناہوں کا مرکز "ریاض" میں قائم کئے جا رہے ہیں۔کس کس قسم کے اڈے وہان نہیں قائم کرکے ان کو فروغ نہیں دیا جارہا ہے اور اس پر دوسروں کو کہاجاتا ہے کہ آپ کافر ہو، آپ دین سے خارج ہو، تو وہاں خود سعودیہ میں دینی رنگ   حاکم نہیں ہے  یہ ہمیشہ ہمار اگلا بھی رہا ہے اور اب سب کو اس پر خاموشی توڑنی چاہئے ۔

سوال: اب تو کھل کے نائٹ کلب کھل رہے ہیں ، یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، وہاں فیشن شو کروائے گئے، کیٹ واک کروایا گيا اور نیم عریان عورتیں نچوادی گئي،  سب کچھ تو کیا گیا، پھر  اس پر اس قدر سخت انٹلی جنس ہے جس کا عوام پر اتنا پریشر ہے کہ دو سگے بھائی ایک دوسرے کےسامنے سیاسی گفتگو نہیں کرتے۔

ج)مگر،ان باتوں پہ تو ایک طبقہ ہے جو خوش ہوا ہے، جوانوں کو کہاگیا ہے کہ آزادی ہے وغیرہ ۔جبکہ اس سے پہلے ہی  سب منکر کام وہاں پر  ہورہے تھے، فحشا اورمنکرات کے سارے مراکز وہاں  موجود  تھے اب  بس صرف اتنا ہوا کہ ان کو اب سرکاری حمایت حاصل ہو گئ ہے جس پہ عوامی اعتراض سامنے آنا چاہئے جو کہ نہیں آرہا ہے۔ ہر طرف سے سعودی عرب سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ آئے دن مسلمانوں کا سر شرم سے کیوں جھکاتے ہو، کیوں اپنے آپ کو  کنارہ کش نہیں  کرتے ہو اورعالم اسلام کے مقتدر علما اورتمام مسالک کے علماء  کو لیکر اس کی ذمہ داری سنبھال لیتے۔

سوال: کون مقتدر پوچھے کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے سوا ئے ایران کے اندر اور  پوری امت مسلمہ کے درمیان صرف تشیع کے علاوہ کسی کے پاس خود مختار سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے  پوچھے گا کون ؟

ض)یہ تو المیہ ہے ،یہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے، جس طرح  کئی بار اشارہ بھی کیا اور اچھا بھی لگتا ہے کہ ہندوستانی علماء کی لاج  رکھی تھی ان اہلسنت علماء نے وہ بصیرت بتائی،  ان کی باتیں سوشل میڈیا پہ آئی،  بہت سارے ایسے علما ہیں جو  کہ  یہی بات کررہے ہیں۔

سوال : اگروہ مسجد کے ممبروں سے بات  کریں گے  تو کون سنے گا، سیاسی پلیٹ فارم تو بنایا نہیں  کیونکہ انہوں نے سیاست کو مذہب سے جدا مانا ہے کیونکہ بنی امیہ کے طریقے پر  چلتے آئے ہیں،کسی کے ہاتھ میں سیاست تھما دی کہ جو جی میں آئے وہ کرلو خود مسجد میں بیٹھ کر نمازیں پڑھنے بیھٹے تو یہ سب خود بویا ہے اس کی تو سزا کاٹنی پڑے گی؟

ج)کئی سینکڑوں سالوں سے ان کیلئے یہی روش رہی ہے ۔البتہ  ہمیں کربلا کی برکت سے سیاست اوردیانت کو  ایک ساتھ سمجھنے میں کامیاب  ہوگئے ہیں۔ ہماری تربیت کربلا میں ہوتی ہے اورکربلا کی مجلسیں سن سن کے  ہم پروان چرھتے ہیں اورولادت سے شہادت تک ہم کربلاکے ساتھ ساتھ ہیں،اسلئے بھی خاموشی ہمارے ہی حلق سے ٹوٹنی چاہئے۔

امام خامنہ ای عالم اسلام کی اصلاح کے لئے اقدام اٹھائيں

ایک اورکالر:جو سعودیہ میں فحاشی کے اڈے بناے رہے ہیں وغیرہ اس سلسلے میں امام خامنہ ای صاحب کو چاہئے کہ عالم اسلام کے ذمہ داروں پر مشتمل کانفرنس بلائي جائے اور ایسے مسائل کا حل تلاش کریں۔

ج)بالکل ایسے موضوعات پہ کئی سالوں سے کام چلا ہے اسی کوششوں کی وجہ سے بین المجالس کا  ایک اتحاد بن چکا ہے یہ اسلامی ممالک  کے پارلیمنٹوں کا اتحاد ہے اوراسی طرح علمائے اسلام  کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنا ہے  جو مجمع جہانی تقریب بین المذاہب اسلامی  کے عنوان سے جانا جاتاہے دن رات ان مسائل پہ کام  کررہے ہیں، عوامی بیداری کےسلسلے میں وسیع پیمانے پر کام کیا جا رہا ہے۔اس بیچ اگر سعودی عرب اس بات کیلئے  تیار ہوجائےکہ  وہ بھی مل کر کام کرے جس سے  مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ حاصل ہو تو مثبت نتائج جلدی حاصل ہو سکتے ہیں۔اورالحمد للہ حکومتی سطح پر جو امام خامنہ ای کو کرنا چاہئے وہ کررہے ہیں مگر  جوہمیں عوام کو کرنا ہے کیا وہ ہم  کررہے ہیں؟ ہمارے لئے یہ بڑا سوال ہے ۔

ایک اورکالر:اب تو سعودیہ میں مندر بھی بننے لگے ہیں،اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

ج)سعودیہ کے بارے میں ابھی معلوم نہیں ہے کہ کیا وہاں ایسا کوئی کام ہوا ہے مگر ہاں دبئی  میں،امارات میں ایسا ہوا ہے وہاں پہ مندر بن رہے ہیں  جو کہ   بجائے خود ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں بلکہ  وہاں کے لوگ  خاص طورپر اس کا فیصلہ کرسکتے ہیں  کہ کیا وہ اس کام سے موافق ہیں ، کیا وہاں پر اتنے بت پرست آباد ہیں کہ جن کیلئے عبادت گاہ کا  ہونا  لازمی ہے، تو یہ  میرے دائرے سوال میں نہیں ہے کہ  میں اس کے بارے میں کوئی رائے دوں۔ جہاں تک میرا سوال ہے  مسلمانوں کے لئے اس امارات مندر کے موضوع سے  بڑھ کر " ریاض" میں جو فحشا کے اڈے جس طریقے سے اب منظر عام پر آنے لگے ہیں سنجیدہ موضوع ہے اسے دیکھ کے عوامی سطح پر وہ ریکشن کیوں نہیں آرہی  ہے ۔ جہاں پر ہمارا  کعبہ وقبلہ  وہاں ہے وہاں پر کیوں اس قسم  کے مراکز قائم کئے گئے،  کئی عدد ڈانس کلب کھولے گئے،جبکہ وہ آلریڈی وہاں تھے مگر آج ان کو بڑی رونق مل گئی ہے۔اس پر جو احتجاج ہونا چاہئے نہیں ہو رہا ہے۔ اس پہ یہ بھی کہتا چلوں "قطیف "اور"العوامیہ" سعودی عرب کے جو شیعہ نشین علاقے  ہیں جو اس ملک کے شمال مشرق میں واقع ہیں انہوں نے کئی بار آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے  اورشہزادوں کے سعودی عرب کے بیت المال سے ناجائز فائدہ اُٹھانے پر اعتراض درج کئے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ  پوری امت اسلامی  میں وہ احتجاج دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔آخر کیوں صرف ان مسائل پہ صرف شیعہ احتجاج کررہے ہیں اہلسنت  بھائیوں کی طرف سے  کوئی بھی مظاہرے نہیں ہورہے کیوں! کیا اہلسنت امت اسلامیہ کا جز نہیں ہیں؟  وہ اسلامی تشخص اور مقدسات  کی توہین ہوتے دیکھ کر ایسا مذہبی جذبہ محسوس  نہیں کررہے ہیں! یہ  بڑا تکلیف دہ ہے کہ سنی دنیا سے  اس کے نسبت وہ کوئی احتجاج  دیکھنے کو نہیں ملتا ہے ۔



[1] وَ اجْعَلِ النُّورَ فِي بَصَرِي وَ الْبَصِيرَةَ فِي دِينِي

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر