my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 50102
: //
اسرائیلی ماہرین کا اعتراف ؛
تل ابیب نے اس سے پہلے کے انتفاضوں سے سبق نہیں سیکھا ہے

نیوزنور:صہیونی ماہرین اور تجزیہ نگار معتقد ہیں کہ صہیونی رہنما جس طرح غزہ کی پٹی کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں اور اس علاقے کے لوگوں کے حالیہ مظاہروں سے وہ جس طرح نمٹ رہے ہیں  وہ مناسب نہیں ہے ، بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ  گذشتہ جو انتفاضے ہوئے ہیں ان سے سبق حاصل کریں ۔

اسرائیلی ماہرین کا اعتراف ؛

تل ابیب نے اس سے پہلے کے انتفاضوں سے سبق نہیں سیکھا ہے

نیوزنور:صہیونی ماہرین اور تجزیہ نگار معتقد ہیں کہ صہیونی رہنما جس طرح غزہ کی پٹی کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں اور اس علاقے کے لوگوں کے حالیہ مظاہروں سے وہ جس طرح نمٹ رہے ہیں  وہ مناسب نہیں ہے ، بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ  گذشتہ جو انتفاضے ہوئے ہیں ان سے سبق حاصل کریں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے تمام ماہرین اور قلمکاروں کا عقیدہ ہے کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کی واپسی کے مظاہروں میں کہ جو گذشتہ مارچ کے مہینے میں شروع ہوئے تھے اور آنے والے مہینے مئی تک جاری رہیں گے ، اپنی جارحیت کو متوقف نہیں کیا ہے اس لیے کہ انہوں نے ماضی میں ہونے والے انتفاضوں سے درس عبرت نہیں لیا ہے کہ جنہوں نے فلسطینیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر فوجی راہ حل کو ناکام بنایا تھا ۔

اسرائیل ھایوم کے عبری زبان کے  روزنامہ نگار  نے کہا : اسرائیل کے منافع کا تقاضا ہے کہ غزہ کی پٹی کی ضرورتوں پر توجہ کی جائے اور اس بحران کے نتائج کو روکا جائے ، اس لیے کہ ہزاروں فلسطینی کہ جنہوں نے غزہ کی سر حد پر مظاہروں میں شرکت کی ہے وہ اپنی زندگی کے مشکلات سے سخت دکھی ہیں ۔ غزہ ایک بہت بڑی چھاونی میں تبدیل ہو گیا ہے کہ جس میں  رہنے والے رنج و مصیبت میں ہیں غزہ ایک فقیر اور دنیا سے کٹا ہوا علاقہ ہے لیکن اسرائیل کی سیاست فلسطینیوں کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیل سرنگوں ۔ میزائلوں کمانڈو فوج ، اور قتل کرنے والی کاروائیوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو پایا ہے چونکہ غزہ کے لوگ اچھی طرح  زندگی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔غزہ کے خلاف اسرائیل کی تین جنگیں بھی فلسطینیوں کو محاصرے کو ختم کرنے کی کوششوں سے منصرف نہیں کر سکیں ۔

ایک اور صہیونی قلمکار امیر روتم  نے بھی عبری زبان  کے ایک خبری چینل ، محادثہء محلیہ ، میں اسرائیل کی حکومت کو دعوت دی ہے کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف جو پابندیاں لگائی ہیں انہیں ختم کردے تاکہ وہ لوگ معمول کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔اس کے باوجود کہ اسرائیل والے چاہتے ہیں کہ غزہ کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے لیکن فلسطین والے اپنے حالیہ مظاہروں میں بین الاقوامی توجہ کو اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود کہ بہت سارے اسرائیلی ادارے ۲۰۱۴ کی جنگ کے بعد یہ مانتے تھے کہ غزہ کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے میں مدد کی جائے لیکن اسرائیلی حکومتوں نے اپنی خطر ناک سیاست جاری رکھی اور اس علاقے پر پابندیاں لگا دیں ۔

عبری زبان کے روزنامے کی تجزیہ نگار رویتا عمیرات نے بھی اس سلسلے میں کہا : فلسطینیوں کے پہلے انتفاضے کے ۳۱ سال کے بعد ابھی تک اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے ۔ تاریخی تجربے نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ مظاہرے کہ جن کی  ابتدا عوامی تحریکوں سے ہوئی ہے ، وہ تیزی سے جارحیت میں بدل جاتے ہیں ۔ پہلے انتفاضے اور موجودہ مظاہروں میں مشترکہ وجہ یہ ہے کہ دونوں کی رہبری ۳۰ سال سے کم عمر کے جوانوں کے ہاتھ میں ہے چونکہ اسرائیل نے ان کے حقوق کو پایمال کیا ہے ۔ ان مظاہروں نے بتا دیا ہے اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ابھی جاری ہے اور وہ غزہ کہ جو گذشتہ کئی سال سے اسرائیل کے محاصرے میں ہے وہ ایک بمب کی طرح اسرائیل کے مقابلے میں پھٹے گا ۔ اسرائیل کی حکومت غزہ کی پٹی کے حالیہ مظاہروں کے ساتھ عقلمندی سے  برتاو نہیں کر رہی ہے ۔ اور وہ ماضی کے تجربوں سے مستقبل میں فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی ۔      

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر