my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 50155
: //
واشنگٹن پوسٹ : شام پر حملے کی وجہ سے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے

نیوزنور:امریکی روز نامے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا  ہے کہ امریکی صدر شام پر حملے کے ذریعے اپنی قدرت کی رونمائی کرنا چاہتے تھے  لیکن اس کے بالکل بر عکس ہو گیا ۔

واشنگٹن پوسٹ : شام پر حملے کی وجہ سے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے

نیوزنور:امریکی روز نامے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا  ہے کہ امریکی صدر شام پر حملے کے ذریعے اپنی قدرت کی رونمائی کرنا چاہتے تھے  لیکن اس کے بالکل بر عکس ہو گیا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، امریکی روز نامے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں  اس ہفتے کے اوائل میں امریکی ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام کی جانب کئے جانے والے میزائیلی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  لکھا کہ  شام پر حملے سے امریکی صدر کا ھدف   قدرت نمائی تھا  کہ در حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہو گیا ہے ۔

 اس رپورٹ  نے اس حملے کے بارے کچھ یوں بیان کیا ہے : " جمعہ کی رات کو کئے جانے والا حملہ اس قدر قوی نہیں تھا کہ باعث شرمندگی نہ ہو " اور در نتیجہ بجائے اس کے کہ  اس (شامی صدر) کی حکومت کو نقصان پہنچاتے ،   بین الاقوامی سطح پر امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔

اس رپورٹ میں  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پر کئے گئے اس بے ثمر حملے کے متعلق بیان ہوا ہے کہ  امریکہ کی رہبری میں کئے جانے والے اس حملے کے متعلق  کہ جس   میں شام کا ایک جہاز  یا کوئی ہوائی اڈہ بھی تباہ نہیں ہوا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے ۔

روز نامہ واشنگٹن پوسٹ  نے مزید کہا  اس  حادثے سے کوئی بھی نقصان نہیں ہوا ہے اور یہ اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ  شامی حکومت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔

اس رپورٹ  کی بنا پر  شامی جانتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوئے ہیں  اور اسی کے متعقل واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے " دمشق کی سڑکوں پر ، جشن و خوشی کا ماحول ہے  کیونکہ حکومت کے حامی اس بات کو جانتے ہیں   کہ یہ حملہ ناکام ہو چکا ہے "

امریکی فوجی رئیس کے سابق  معاون جک کین کہ جو تازہ ریٹائر ہوئے ہیں  اس نے اس کے متعلق مزید کہا ہے  کہ شامیوں کے پاس جشن منانے کی محکم دلیل موجود ہے ۔ اس نے مزید کہا : میری نظر میں دوما پر ہونے والے کیمیائی حملے کے خلاف دیا جانے والا امریکی جواب بہت ضعیف تھا ۔   اس رد عمل کو محکم اور قابل توجہ ہونا چاہئے تھا ۔

اس امریکی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں شام پر واشنگٹن کے حملے کو بشار الاسد کو سبق سکھانے کے عنوان سے بتاتے ہوئے کہا " اسد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا  اور مسئلہ بالکل بر عکس ہو گیا  ہے ؛  ٹرمپ کی جانب سے کیا جانے والا حملہ بالکل ویسا ہی تھا کہ جیسا اسد نے پیش بینی کی تھی ۔  اور حالات  شامی حکومت کے حق میں ہیں ۔

 اس رپورٹ میں مزید ذکر ہوا ہے : شام پر امریکی حملے سے شمالی کوریا نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ  ٹرمپ کی حکومت کو آسانی کے ساتھ ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے  اور یہ حکومت مشکلات کو تحمل نہیں کر سکتی ۔

اس رپورٹ نے  شام پر واشنگٹن کے  بے ثمر حملے کو ماسکو کے لئے خطرہ بتاتے ہوئے کہا :  شمالی کوریا کے رئیس کم جونگ اون اس مسئلے سے واقف ہیں  اور اس حادثے سے جو سبق انہوں نے لیا ہے وہ یہ ہے کہ  ٹرمپ کی جانب سے شامی ہوائی اڈوں کو نشانہ نہ بنانے کی دلیل یہ ہے کہ   ٹرمپ روس کے رد عمل سے ہراساں ہے ؛ اس بنا پر قطعا ٹرمپ  ، کم جونگ اون کے ایٹمی پلانٹ اور بیلسٹک میزائیلوں کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کی جرائت نہیں کر سکتا  اور شمالی کوریا کے توپخانوں کو نشانہ بنانے کا ریسک نہیں اٹھا سکتا ۔

اس رپورٹ نے تاکید کرتے ہوئے کہا : امریکہ کی جانب سے جمعہ کے روز شام کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کے بعد ہماری ساکھ کو تقویت حاصل نہیں ہوئی بلکہ اسے نقصان پہنچا ہے ۔

امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے تمام موارد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ : تمام گذارشات ا س بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ  ٹرمپ ایک محکم رد عمل ظاہر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اسے امریکی وزیر دفاع جیمز میتس کی مقاومت کا سامنا کرنا پڑا ، اور اگر واقعا یہ بات سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ  امریکی وزیر دفاع نے  شام پر حملے کے امریکی صدر کی مطلوبہ خواہشات کو نقصان پہنچایا ہے ۔  ٹرمپ نے متیس کے پیش کردہ نقشے کے مطابق عمل کیا اور در نتیجہ  ٹرمپ ، کم جونگ اون کی نظر میں ایک ضعیف اور کمزور انسان  بن چکا ہے ۔

اس رپورٹ نے آخر میں نتیجہ پیش کیا ہے کہ اگر  ٹرمپ کوئی رد عمل نہ دکھاتا  تو حالات بد تر ہوتے  لیکن اتنے زیادہ نہ ہوتے کیونکہ  جب آپ نے حملہ کیا  اور وہ بھی ایسا  ہے کہ جو آپ کے لئے باعث شرمندگی بن چکا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی کمزوری عیاں کر دی ہے ۔          

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر