my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 50161
: //
سابق امریکی عہدیدار:
ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کا ٹرمپ کا احمقانہ فیصلہ دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کی دہلیز پر کھڑا کر دے گا

نیوز نور17 اپریل/ایک امریکی پروفیسر اور قومی سلامتی کونسل کے سابق سنیئر عہدیدار نے ایران جوہری معاہدے کو ایک کامیاب معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا اس سمجھوتے سے نکلنے کا فیصلہ بیوقوفانہ ہوگا۔

سابق امریکی عہدیدار:

 ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کا ٹرمپ کا احمقانہ فیصلہ دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کی دہلیز پر کھڑا کر دے گا

نیوز نور17 اپریل/ایک امریکی پروفیسر اور قومی سلامتی کونسل کے سابق سنیئر عہدیدار نے ایران جوہری معاہدے کو ایک کامیاب معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا اس سمجھوتے سے نکلنے کا فیصلہ بیوقوفانہ ہوگا۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق سنیئر عہدیدار اورکولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ’’گیری سک‘‘ جو سابق امریکی صدور ریگن، فورڈ اور کارٹر کے دور حکومت میں قومی سلامتی کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں، نے غیر ملکی ذرایع ابلاغ کے ساتھ انٹریو میں ایران جوہری معاہدے کو ایک کامیاب معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا اس سمجھوتے سے نکلنے کا فیصلہ بیوقوفانہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے علحیٰدگی دنیا میں نئی جنگ کی وجہ بنے گی۔

سنیئرسابق امریکی عہدیدار نے مشرق وسطٰی بالخصوص ایران کے خلاف نئی جنگ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نئی جنگ کی مخالفت اور جوہری معاہدے کی حمایت میں ڈونالڈ ٹرمپ کو خصوصی مراسلہ بھیجا ہے کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کشیدگی کی طرف جانا چاہتےہیں۔

انہوں نے ٹرمپ کی کابینہ میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو کی شمولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب کو پتہ ہے کہ کابینہ کے دو نئے اراکین ماضی میں ایران کے خلاف جارحانہ مؤقف رکھتے تھے اور آج ایسا لگتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اعصابی جنگ اور دباو کی پالیسی پر چلنا چاہتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے جوہری معاہدے کے خلاف ٹرمپ کے منفی رویے سے متعلق یورپی ممالک کے مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ احتیاط سے قدم بڑھا رہا ہے کیونکہ وہ ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کا خواہاں ہے تاہم یورپ کی کوششوں کا زیادہ حصہ ایران پر انحصار کرتا ہے۔

انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی اوروائٹ ہاؤس کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ ٹرمپ کے بیانات متنازع ہیں کیونکہ وہ الیکشن مہم میں کچھ اور بیان دیتے رہے اور آج کچھ اور کرتے  ہیں۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات اور خطے میں ایران مخالف اتحاد کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نےکہا کہ امریکہ عربی اور صہیونیوں سے مل کر خطے میں اتحاد کی تشکیل چاہتا ہے جس کا واحد مقصد ایران کا مقابلہ کرنا ہے۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر