my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 50164
: //
مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:
ترکی کو امریکہ کے ہاتھو ں کا کھلونا بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا چاہئے

نیوز نور17 اپریل/مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت کو عرب جمہوریہ شام پر امریکہ کی قیادت میں حالیہ حملوں پر رقص کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے دفاع پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔

مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:

ترکی کو امریکہ کے ہاتھو ں کا کھلونا بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا چاہئے

نیوز نور17 اپریل/مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت کو عرب جمہوریہ شام پر امریکہ کی قیادت میں حالیہ حملوں پر رقص کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے دفاع پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی ذرایع ابلاغ کے ساتھ انٹریو میں ’’یونس سونر‘‘ نے کہا کہ انقرہ حکومت کو عرب جمہوریہ شام پر امریکہ کی قیادت میں حالیہ حملوں پر رقص کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے دفاع پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ شمالی شام میں آزاد کرد ریاست کے قیام پر ایک طویل عرصے سے عمل پیرا ہے جو کہ ترکی کی سلامتی کیلئے ایک اہم خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ حکومت دمشق، ماسکو اور انقرہ کو دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے ذریعے ایک آزاد کرد ریاست کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ امریکہ شامی حکام سے نمٹنے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کو شام میں امریکہ کے ہاتھو ں کا کھلونا بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ شام میں کیمیائی حملہ کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بڑا مسئلہ اس عرب ملک کو تقسیم کرنے کی امریکی سازشیں ہیں ۔

ترک ماہر نے کہا کہ شام کی ارضی سالمیت کو بر قرار رکھنے کیلئے رجب طیب اردوگان کی حکومت کو شامی،روسی و ایرانی حکام سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر