my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 45377
: //
امریکی رپبلکن سینیٹر؛
امریکہ سعودی عرب کے بجائے ایران پر کیوں پابندیاں عائد کررہا ہے

نیوزنور:ریاست کینٹاکی کے ایک رپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایک مضمون میں امریکہ کی ایران اور سعودی عرب کے بارے میں دوغلی سیاست پر تنقید کی ہے ۔

امریکی رپبلکن سینیٹر؛

امریکہ سعودی عرب کے بجائے ایران پر کیوں پابندیاں عائد کررہا ہے

نیوزنور:ریاست کینٹاکی کے ایک رپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایک مضمون میں امریکہ کی ایران اور سعودی عرب کے بارے میں دوغلی سیاست پر تنقید کی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی نیشنل انٹر سیٹ کے حوالے سے  رپورٹ کے مطابق ، ریاست کینٹاکی کے ایک رپبلکن سینیٹر رینڈ پال کا عقیدہ ہے کہ کبھی اس ملک کے قانون گذار خارجی سیاست  میں ایسے کام کرتے ہیں کہ جن کے نتائج کو وہ اچھی طرح درک نہیں کیے ہوتے ۔ اس کی نظر میں یہ اشتباہات عراق کی جنگ سے لے کر ، شام کی حکومت کے مخالفین کو ہتھیار دینے تک بار بار دوہرائے گئے ہیں ۔

اس نے نیشنل انٹرسیٹ کی ویبسایٹ کے لیے ایک مضمون میں لکھا ہے : امریکی سینیٹ تیار ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرے ، الزام یہ ہے کہ ایران نے میزائل کا تجربہ کیا ہے اور وہ دہشت گردی کی مالی امداد کر رہا ہے ۔ یہ انتہائی اہم مسائل ہیں جن کے بارے میں بحث اور تبادلہء خیال ہونا چاہیے ۔ بے شک ایران مشکل کا ایک حصہ ہے ، لیکن ہمیں اس سے زیادہ کلی مسائل کے بارے میں بات کرنا چاہیے ۔ ہم اس وقت ایران کے ساتھ ایک جوہری سمجھوتے کے دور سے گذر رہے ہیں کہ ایران نے جس کی آج تک پابندی کی ہے ۔ پابندیوں کے دستور العمل میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا ہے وہ جوہری سمجھوتے میں ذکر نہیں ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جوہری سمجھوتے سے باہر کوئی بھی ایک طرفہ اقدام چاہے وہ جائز اور قانونی بھی کیوں نہ ہو اس کے بارے میں باریکی سے غور ہونا چاہیے ۔

رینڈ پال نے آگے لکھا ہے : ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہم اس  چیز کو  کہ جو تہران سوچتا ہے یا یہ کہ وہ پابندیوں کو جوہری سمجھوتے کے خلاف سمجھتا ہے  کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ ہمیں اس موضوع کے بارے میں تجزیہ کرنا چاہیے ؛ اگر ہم اہمیت نہیں دیتے کہ ایرانی حکام کیا سوچتے ہیں ، تو پھر ہم کیوں کوشش کرتے ہیں کہ ان کی رفتار کو کنٹرول کریں ؟ اگر ایران کا رد عمل جوہری سمجھوتے کو خیر باد کہنے کی صورت میں ہوا ، تو اس صورت میں وہ ہمارے لیے ایک انتہائی اہم اور نمایاں موضوع شمار ہو گا ۔

رینڈ پال نے اس کے بعد اعتراف کیا : جب میں ایران پر لگائی گئی نئی پابندیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ وہ تمام دلایل سعودی عرب پر بھی صادق آتے ہیں پس ہم کیوں سعودی عرب پر پابندیاں نہیں لگاتے ؟ مثال کے طور پر سعودی عرب کے پاس بھی ڈینگ فینگ تھری ایس میزائل موجود ہیں جن کو انہوں نے تہران اور تل ابیب کی طرف لگا کر رکھا ہوا ہے ۔

اس بنا پر حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ایران کی رفتار پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں تو اس چیز کو بھی کہ وہ کیا سوچتے ہیں اہمیت دیں ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ایک طرفہ پابندیاں بالکل اثر انداز نہیں ہوں گی ۔

اس جمہوریخواہ سینیٹر نے آگے لکھا ہے : اگر ہم ایران کے بیلیسٹیک میزائلوں کے مسئلے سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ علاقے کے کون سے ملک ان میزائلوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔ میری نظر میں بعید ہے کہ ایران کے بیلیسٹیک میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہوں ، اس لیے کہ ہمارے پاس اسی طرح کے ہزاروں میزائل ہیں ؛ لیکن شاید سعودی عرب یا خلیج فارس کے شیخ نشینوں کے لیے خطرہ ہوں لیکن ان ملکوں کے پاس بھی اس طرح کے سینکڑوں میزائل ہیں جو ایران کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ ملک اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔

پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایران پر پابندیاں واقعا نتیجہ خیز  ثابت ہوں تو ہمیں سعودی عرب پر بھی اسی طرح کی پابندیاں لگانا پڑیں گی ۔ چلیے ہم ایران اور سعودی عرب دونوں پر بیلیسٹیک میزائل رکھنے کی وجہ سے پابندیاں عاید کریں اور پابندیاں ہٹانے کی شرط یہ رکھیں کہ دونوں ملک میزائل کم کریں ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ جو ۳۵۰ ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی قرار داد ہے اس کو لغو کریں اور اعلان کریں کہ جب تک یہ ملک ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے سمجھوتے پر دستخط نہیں کرتا تب تک واشنگٹن اور ریاض کی یہ قرار داد معلق رہے گی ۔

میرے عقیدے میں ایران جب تک سعودی عرب اور علاقے کے باقی ملکوں کے ساتھ ہتھیاروں کی روک تھام کے ایک کلی سمجھوتے تک نہیں پہنچ جاتا وہ اپنے میزائل کے پروگرام کو وسعت دینے سے باز نہیں آئے گا ۔ اس بنا پر میرا عقیدہ ہے کہ اس ملک کے خلاف نئی پابندیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ حتی ممکن ہے کہ ایران پر اس کا الٹا اثر ہو اور وہ جوہری سمجھوتے کو لغو کر دے ۔ اگر ایران جوہری سمجھوتے کو رد کر دیتا ہے تو ہم نے جلد بازی میں جو قدم اٹھایا ہے اس پر پشیمان ہوں گے ۔ 

ایران پر پابندیوں کے سلسلے میں دوسرا نکتہ دہشت گردی کا موضوع ہے ۔ تو سعودی عرب کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط  اور ان کی حمایت کرنے کے ناقابل انکار دلایل کی بنا پر ریاض پر بھی اس سلسلے میں پابندیاں لگنی  چاہییں ۔ہیلری کلینٹن کے جان پوڈسٹا کے نام افشا شدہ ایمیل میں بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ سعودی عرب اور قطر پر  بھی کہ جو داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد کرتے ہیں  دباو ڈالیں ۔

 حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم حقیقت میں ایران کے میزائل کے تجربوں کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں خلیج فارس کے شیخوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر اور اہم مذاکرات کرنا چاہییں ۔ صرف اس وقت کہ جب ہم ایران اور اس کے علاقائی دشمنوں کو ایک نظر سے دیکھیں گے علاقے میں صلح کی راہ میں قدم بڑھا سکتے ہیں ۔ اس وقت تک میں ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی نئی پابندیوں کے خلاف ہوں ۔  

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر