my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 45394
: //
مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ کا بیان ،؛
ایران کے خلاف عربی نیٹو کا کمانڈر اسرائیل ہے

نیوزنور:مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ نے روس کی نیوز ایجینسی اسپوٹنیک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے علاقے کے حالیہ حوادث اور اتھل پتھل منجملہ تہران پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے اور خلیج فارس کے  علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا ہے ۔

مصر  کے سابقہ نائب وزیر خارجہ کا بیان ،؛

ایران کے خلاف عربی نیٹو کا کمانڈر اسرائیل ہے

نیوزنور:مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ نے روس کی نیوز ایجینسی اسپوٹنیک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے علاقے کے حالیہ حوادث اور اتھل پتھل منجملہ تہران پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے اور خلیج فارس کے  علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، قطر اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے مابین کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور خلیج  فارس کے علاقے میں ایک فوجی تصادم کاامکان انتظار سے بعید نہیں ہے ۔

مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللہ الاشعل نے کہ جس کا ملک ، بحرین ،سعودی عرب اور امارات کے ساتھ مل کر قطر سے روابط توڑ چکا ہے اسپوٹنیک نیوز ایجینسی کے ساتھ ایک گفتگو میں اس کشیدگی اور کھینچا تا نی کا جائزہ لیا ہے ۔

دوحہ اور ریاض کے مابین رقابت ،

انہوں نے تصریح کی ہے کہ قطر پہلے سے ہی اس چیز کے پیچھے تھا کہ وہ سعودی کا خلیج فارس کے علاقے میں ہم پلہ بن جائے ۔ اس کے مقابلہ میں سعودی عرب نے بھی خلیج فارس تعاون کونسل بنا کر یہ چاہا کہ اسے اس کی کار کردگیوں کے لیے ایک طبیعی دائرہء عمل مل جائے ۔

اس مصری عہدیدار نے اپنی بات جاری رکھی کہ سعودی عرب سال ۱۹۶۷ سے کوشش کر رہا ہے  کہ وہ ایک بڑی عربی حکومت بن جائے ، اسی لیے دوحہ اور ریاض میں چند مسائل کو لے کر کشیدگی نمایاں ہو گئی ۔دوسری طرف امارات بھی اپنی جگہ کسی سے کم نہیں ہے بلکہ وہ بھی اس میں پارٹ پلے کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے وہ حالیہ بحران میں قطر کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ ہے ۔

صدی کا معمہ ، اور ایران کے خلاف امریکی ۔عربی ۔اسرائیلی نیٹو ،

انہوں نے یہ سوال پیش کرتے ہوئے کہ کیا سعودی عرب اپنے اس حالیہ اقدام کے ذریعے قطر کو بالکل مٹا دینا چاہتا ہے یا یہ کہ دباو ڈال کر دوبارہ اس ملک کو اپنا فرمانبردار بنانا چاہتا ہے ، اظہار کیا :

یہ سوال بہت اہم ہے اور براہ راست دو مسئلوں سے جڑا ہوا ہے ایک یہ کہ سعودی عرب آیندہ ماہ واشنگٹن کی بیٹھک میں شرکت کر سکتا ہے ۔

ڈونالڈ ٹرامپ نے سعودی عرب کو علاقے کا چوہدری نامزد کرنے کے بعد اس ملک کے حکام سے کہا کہ اس بیٹھک میں شرکت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور مصر دونوں مل کر صدی کا بڑا معاملہ انجام دیں گے ۔ صدی کے اس معاملے کا مطلب ہر طرف سے ایران کے ساتھ الجھنا اور ایران پر دباو ڈالنے اور اس کے  خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اسرائیل کی کمانڈر شپ میں اس کے خلاف عربی نیٹو تشکیل دینا ہے ۔

تہران پر دہشت گردانہ حملے نئے مرحلے کا مقدمہ ہیں ،

مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ نے آگے تہران میں دہشت گردانہ کاروائی کی جانب اشارہ کیا اور تصریح کی کہ یہ حملے نئے مرحلے کا مقدمہ ہیں کہ ٹرامپ نے ریاض کی بیٹھک میں جن کا افتتاح کر دیا تھا ، اور امریکہ نے علاقے کے لیے اس منصوبے کو پچھلے سال سے مد نظر رکھا ہے ۔

الاشعل نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا امریکہ کا یہ منصوبہ بہار عربی سے پہلے تھا یا بعد میں بنایا گیا ہے ، کہا : جب مصر میں ۲۵ جنوری کا انقلاب آیا تو امریکہ اور اسرائیل کو اس انقلاب سے سخت جھٹکا لگا ، اور اس وقت کی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن نے اپنے مضمون میں لکھا کہ مصر کے انقلاب اور اس ملک کی تبدیلیوں نے اس کو چونکا دیا ہے اور یہ کہ امریکہ کے صدر باراک اوباما کا موقف یہ تھا کہ وہ مسلسل مصر کی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔

مصر کے اس سابقہ عہدیدار نے قطر کے ساتھ کشیدگی کو حل کرنے میں سیاسی کوششوں کے کارآمد ثابت ہونے کے بارے میں بھی کہا کہ امیر کویت کی کوششیں اس سے کم ہیں کہ جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔ اس نے اس بحران کے بارے میں امریکہ کے موقف کے بارے میں اظہار خیال کیا کہ اس ملک نے ضد و نقیض موقف اختیار کر رکھے ہیں ، اور جو کچھ ٹرامپ ٹویٹر پر لکھتا ہے ، وہ  اس سے کہ جو کاخ سفید سے باہر آتا ہے الگ  ہے ۔

الاشعل کے بقول امریکہ کی اس رفتار کے دو احتمال ہو سکتے ہیں  یہ کہ قطر واقعا امریکہ کی منطق کو امریکی ہتھیاروں کے خریدنے کی ضرورت ، اور ایران کا مقابلہ کرنے  یا نہ کرنے کے لیے لشکر کشی کو نہیں مانتا ۔

اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا سعودی عرب کے لیے مہنگا ثابت ہو گا،

اس نے دعوی کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے ، لیکن آخر کار اسرائیل اور ایران خلیج فارس کے عرب ملکوں کو تقسیم کر دیں گے ، اور اگر سعودی عرب اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیتا ہے تو وہ علاقے میں اپنے اتحاد کو کھو سکتا ہے اور نقشے سے محو بھی ہو سکتا ہے ۔

مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ نے اپنی بات جاری رکھی : یہ وہی ٹرامپ کا منصوبہ ہے ۔ اس کا عقیدہ ہے کہ خلیج فارس کے عرب ملک ایسے گروہ ہیں کہ جو بیابان سے آئے ہیں اور یہ امریکہ تھا کہ جس نے ان کی مدد کی تا کہ وہ حکومت بنا سکیں ۔ چنانچہ اس علاقے میں ایک ایسا خلاء جسے صرف امریکہ ہی بھر سکتا ہے ۔

اسی وجہ سے خلیج فارس کے اعراب کے مال سے استفادہ کرنا امریکیوں کا حق ہے اور امریکہ کی حکومت چاہتی ہے کہ  واشنگٹن کی بیٹھک کے بعد اس مسئلے کو اسرائیل کے سپرد کر دے ۔

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اندر ہی اندر کشیدگی ،

اس نے اس کشیدگی میں ترکی کے کردار کے بارے میں  بھی کہا کہ آنکارا اور ریاض کے درمیان مخفیانہ کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

الاشعل نے آگے دعوی کیا کہ دنیائے عرب کے لیے ۳ منصوبے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے پر ہیں ؛پہلا منصوبہ ایران کا ہے کہ جو سال ۱۹۷۹ میں وجود میں آیا ہے ۔ دوسرا منصوبہ اسرائیل کا ہے کہ جو ۱۹۴۸ میں وجود میں آیا تھا ۔ اور تیسرا منصوبہ ترکی کا ہے جو رجب طیب اردوغان کے حکومت سنبھالنے سے وجود میں آیا ہے ۔ ان تینوں منصوبوں کے اپنے اپنے اغراض و مقاصد ہیں ۔

سعودی عرب کا عرب دنیا پر حکومت کرنے کا خواب ،

سعودی عرب بھی دنیائے عرب پر حکومت کرنے کے چکر میں ہے ، اور سعودیوں کی نظر میں یہ اسی وقت ممکن ہے  کہ جب ریاض کی رقیب ہر حکومت کمزور ہو ، اور سال ۱۹۶۷ کی رسوائی کے بعد کہ جب عربوںکو اسرائیل سے شکست ہوئی تھی ملک فیصل نے جو مصر کا دورہ کیا تھا وہ سعودی عرب کی رہبری کے مرحلے کا آغاز تھا ۔

 مصر کے اس سابقہ عہدیدار نے اس بحران میں امریکہ اور جرمنی کے کردار کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ دو ملک اس بحران کے پہلووں سے اچھی طرح واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ ریاض قطر پر دباو ڈال کر اور اس کے لیے حالات کو مشکل کر کے اس کو نابود کرنا چاہتا ہے اس لیے کہ علاقے کے حوادث میں خاص کر فلسطین کے مسئلے میں اور مقاومت کے بارے میں اس کے اپنے نظریات ہیں ۔

الاشعل نے تصریح کی ہے کہ سعودی عرب کے قطر پر الزامات  دوحہ کی طرف سے حماس اور اخوان المسلمین کی حمایت کرنا ہیں حالانکہ اخوان المسلمین ٹرامپ کے لیے مشکل نہیں ہیں اس وجہ سے کہ امریکہ کا صدر اس چیز کے در پے ہے کہ ان سے ماضی کی طرح امریکہ کی  خدمت کروائے ۔

اس کے بقول جو چیز ٹرامپ کے لیے اہم ہے وہ حماس ہے اور اس بحران میں اس کی مداخلت اس وجہ سے ہے کہ اس بحران کا مسئلہ جرمنی ،فرانس اور ترکی کی مداخلت سے امریکہ کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔ دوسری طرف روس کی طرف سے گذشتہ دو روز میں جو اشارے ملے ہیں انہوں نے ٹرامپ کو پریشان کر دیا ہے ۔

الاشعل نے قطر کے بحران میں ترکی کی تیزی کے ساتھ نقل و حرکت کو قطر پر حملے کو روکنے کے لیے اور ایران کے قطر میں داخلے کے راستے کو بند  کرنے کے لیے حفظ ما تقدم پر مبنی اقدام قرار دیا ۔

امریکہ ،ترکی اور سعودی عرب کو لڑنے کی اجازت نہیں دے گا ۔

انہوں نے آگے کہا کہ امریکہ کو قطر کی ضرورت ہے ، اور اگر ایران کے ساتھ اس کی جنگ ہوتی ہے تو وہ قطر میں موجود اپنے ہوائی اڈے کو استعمال کرے گا ۔

مصر کے سابقہ نائب وزیر خارجہ نے اس احتمال کے بارے میں کہ سعودی عرب قطر پر حملہ کرے گا کہا کہ اس حملے سے ترکی اور سعودی عرب میں جنگ ہو سکتی ہے جس کی امریکہ ہر گز اجازت نہیں دے گا ۔    

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر