my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 45469
: //
مشرق وسطیٰ امور کے لبنانی ماہر :
الطنف میں حالیہ امریکی اقدامات کا مقصد علاقے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے

نیوز نور : مشرق وسطیٰ امور کے ایک لبنانی ماہر و سینئر صحافی نے امریکہ کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی بھاری کھیپ جنوبی شام میں اردن اور عراقی سرحد پر واقع الطنف شہر منتقل کئے جانے کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا ایران اور شام کے ساتھ تصادم کے امکانات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ 

مشرق وسطیٰ امور کے لبنانی ماہر :  

الطنف میں حالیہ امریکی اقدامات کا مقصد علاقے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے

نیوز نور : مشرق وسطیٰ امور کے ایک لبنانی ماہر و سینئر صحافی نے امریکہ کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی بھاری کھیپ جنوبی شام میں اردن اور عراقی سرحد پر واقع الطنف شہر منتقل کئے جانے کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا ایران اور شام کے ساتھ تصادم کے امکانات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔  

عالمی اردو خبر رساں ادارے ’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روسیا الیوم کے ساتھ انٹرویو میں ’’علی رزق‘‘صحافی نے امریکہ کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی بھاری کھیپ جنوبی شام میں اردن اور عراقی سرحد پر واقع الطنف شہر منتقل کئے جانے کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا ایران اور شام کے ساتھ تصادم کے امکانات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔  

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے حالیہ اقدامات کا مقصد خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی امریکہ کی پہلی ترجیح شیعہ کریسنٹ میں ایران سے لبنان تک زمینی راستے کی تخلیق کو روکنا ہے۔

موصوف تجزیہ کار نے وضاحت کی کہ آج ہم خطے میں امریکہ کی جس پالیسی کا مشاہدہ کررہے ہیں اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت میں بعض ممالک کے ایک گروپ نے علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ گذشتہ چند سالوں کے دوران وسیع کیا ہے۔

لبنانی تجزیہ کا رنے کہا کہ اسٹریٹیجک الطنف شہر میں امریکی میزائل بیٹریوں کی تعیناتی قابل فہم ہے کیونکہ دمشق، بغداد شاہراہ مذکورہ راستے سے گزرتی ہے جو بعد میں ایران کو اپنے ساتھ جوڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شامی فوج اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس صورت میں دمشق کے پاس شامی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں اور ایران میں اس کے اتحادیوں کے درمیان ایک براہ راست کاریڈور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ہونے کی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران دمشق کو براہ راست ہتھیار اور امداد پہنچا سکتا ہے اس لئے امریکہ اور ا سکے اتحادیوں کی حالیہ حرکات کا مقصد اس منظر نامے کو ہر حال میں روکنا ہے۔  

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر