my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 45471
: //
لبنانی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر:
امریکہ کو شام میں اپنی اسٹریٹیجی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے

نیوز نور : لبنان یونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر نے واشنگٹن کی طرف سے جدید راکٹ لانچروں کو اردن سے شامی علاقے الطنف منتقل کئے جانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعیناتی شامی فوج کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے جو علاقے کی موجودہ صورتحال کو مزید بحرانی اور پیچیدہ بننے کا موجب بن سکتی ہے۔

لبنانی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر:

امریکہ کو شام میں اپنی اسٹریٹیجی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے

نیوز نور : لبنان یونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر نے واشنگٹن کی طرف سے جدید راکٹ لانچروں کو اردن سے شامی علاقے الطنف منتقل کئے جانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعیناتی شامی فوج کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے جو علاقے کی موجودہ صورتحال کو مزید بحرانی اور پیچیدہ بننے کا موجب بن سکتی ہے۔

عالمی اردو خبر رساں ادارے ’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روسیا الیوم کے ساتھ انٹرویو میں ’’جمال وکیم‘‘ نے  واشنگٹن کی طرف سے جدید راکٹ لانچروں کو اردن سے شامی علاقے الطنف منتقل کئے جانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعیناتی شامی فوج کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے جو علاقے کی موجودہ صورتحال کو مزید بحرانی اور پیچیدہ بننے کا موجب بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں امریکہ داعش کو شکست دینے میں سنجیدہ نہیں بلکہ بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ابھی بھی اُس کا بنیادی ہدف و مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور ا سکے مغربی و علاقائی اتحادی بحران شام کے اصلی ذمہ دار ہیں کہ جس کا مقصد یوریشیا ممالک کی  بحیرہ روم تک رسائی روکنا تھا۔

موصوف تجزیہ کار نے کہا کہ میرے خیال میں جنوبی شام میں حکومت امریکہ اپنے زیر کنٹرول سیف زونز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بغداد اور دمشق کے درمیان کسی بھی طرح کے جیوپوولیٹیکل رابطے کو روکنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ کے کردار کو شام میں کمزور کر کے شامی فوج اور اس کے اتحادیوں پر نئے فضائی حملوں کی راہ ہموار ہوسکے۔

موصوف تجزیہ کار نے کہا کہ اب جب شامی فوج اور اس کے اتحادی عراقی سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں امریکہ کو اپنی اسٹریٹیجی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے اس لئے اُس نے الطنف جیسے اسٹریٹیجک علاقے میں میزائل تعینات کئے تاکہ وقت آنے پر شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جاسکے۔

انہوں نے پیشنگوئی کی کہ آئندہ مہینوں میں شام کی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے والی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بخوبی جانتے ہیں کہ اسد حکومت کے استحکام کا پورا انحصار دارالحکومت دمشق کے استحکام پر منحصر ہے۔  

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر