my title page contents
اسلامی مسلکی رواداری
شماره : 45487
: //
بین الاقوامی امور کے ایرانی ماہر:
علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دیکر ایران امریکی جارحانہ کاروائیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے

نیوز نور:بین الاقوامی امور کے ایک ایرانی ماہر نےکہاہےکہ  علاقے میں دوست ممالک کےساتھ تعاون کو فروغ  دیکر اورتعلقات کو مستحکم کرکے ایران امریکہ کی جارحانہ کاروائیوں اوردشمنیوں کو روک سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ایرانی ماہر:

علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دیکر ایران امریکی جارحانہ کاروائیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے

نیوز نور:بین الاقوامی امور کے ایک ایرانی ماہر نےکہاہےکہ  علاقے میں دوست ممالک کےساتھ تعاون کو فروغ  دیکر اورتعلقات کو مستحکم کرکے ایران امریکہ کی جارحانہ کاروائیوں اوردشمنیوں کو روک سکتا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں’’علی خرم‘‘نے کہاکہ علاقے میں دوست ممالک کےساتھ تعاون کو فروغ  دیکر اورتعلقات کو مستحکم کرکے ایران امریکہ کی جارحانہ کاروائیوں اوردشمنیوں کو روک سکتا ہے۔

انہوں نے  8 جون کو امریکی سینٹ میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے عبوری بل کی منظوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں جامع مشترکہ ایکشن پلان کی خلاف ورزی نہیں  ہے سابق صدر بارک اوبامہ کےدور صدرات میں امریکی سینٹ نے اسی طرح کی بل کی منظوری دی تھی تاہم اوبامہ نے اس کا ویٹو کردیاتھا۔

 انہوں نے کہاکہ صیہونی نواز امریکی ٹرمپ ایران کے خلاف حالیہ نئے سینٹ بل  کا ویٹو کریں گے ایسا نا ممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ایران پر جوہری پابندیوں کے خاتمے کے باوجود  امریکہ نے دہشتگردی کی حمایت کرنے اورانسانی حقوق کی پامالیوں کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات اورمیزائل پروگرام کے بہانے ایران پرنئی پابندیاں عائد کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ نئی پابندیوں کے ذریعے جامع مشترکہ ایکشن پلان  کی خلاف ورزی  ایک سیاسی مسئلہ ہے  جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو چھہ عالمی طاقتوں کے ساتھ  رابطہ کرکے انہیں نئی پابندیوں کے معاملے پر  امریکی صدر کے خلاف احتجاج پر قائل کرنا چاہئے۔

 انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کی مکمل پاسداری کی ہے اور اسے  یورپی ممالک کےساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کے ذریعے امریکہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنا چاہئے۔

انہوں نے امریکہ اورایران کی طرف سے قطر کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر علاقائی ممالک اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ تعاون کرتی ہیں پھر اسلامی جمہوریہ ایران امریکی دشمنیوں کو قابو کرسکتا ہے۔

 واضح رہےکہ امریکی سینٹ نے 8 جون کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں   کے عبوری بل کو منظور ی دے دی جس کی حتمی توثیق کی صورت میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی جبکہ  ایران نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے واشنگٹن حکومت کی تنگ نظری اورغلط پالیسیوں کا ثبوت قراردیا ہے۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر