my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 47227
: //
گذشتہ سال 8 ہزار بچے قتل ہوئے ہیں یا شدید آزار و تکلیف کا شکار ہوئے ہیں

نیوزنور:اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے گذشتہ سال  میں ہونے والی جنگوں اور مسلحہ لڑائیوں کے باعث 8 ہزار سے زیادہ بچے یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا شدید آزار و پریشانی کا شکار ہوئے ہیں ۔

گذشتہ سال 8 ہزار بچے قتل ہوئے ہیں یا شدید آزار و تکلیف کا شکار ہوئے ہیں

نیوزنور:اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے گذشتہ سال  میں ہونے والی جنگوں اور مسلحہ لڑائیوں کے باعث 8 ہزار سے زیادہ بچے یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا شدید آزار و پریشانی کا شکار ہوئے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے گذشتہ سال  میں ہونے والی جنگوں اور مسلح لڑائیوں کے باعث 8 ہزار سے زیادہ بچے یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا شدید آزار و پریشانی کا شکار ہوئے ہیں ۔

خبر رساں  ایجنسی اے آر ڈی   کی اس سیاہ فہرست میں جن ملکوں کے نام پیش کئے گئے ہیں ان میں سعودی عرب  کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری  انٹونیو گوٹرچ نے اعلان کیا ہے  کہ بچوں پر ہونے والے حملے وحشتناک اور نا قابل قبول ہیں  اس نے جنگ میں درگیر اقوام سے مطالبہ  کیا ہے کہ نوجوانوں کو جنگوں میں شامل کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

اس طرح کے زیادہ تر حوادث افغانستان میں رونما  ہوئے ہیں کہ جہاں اس مدت میں ۳۵۱۲بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا ہے  یا انہیں مثلہ کیا گیا ہے ۔ یمن میں ایک ہزار تین سو چالیس  بچے اور شام میں ایک ہزار دو سو ننانوےبچے ان حوادث کا شکار ہوئے ہیں ۔

اسی طرح سینکڑوں بچے اسکولوں پر ہونے والے حملوں یا جنسی تجاوز کا شکار ہوئے ہیں  سعودی عرب  کے علاوہ  افغانستان ، افریقہ، عراق ، کنگو ، مالی ، میانمار ، سومالی ، سوڈان ، جنوبی سوڈان ، شام اور یمن کے دہشتگردوں اور فوجوں کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

 یمن میں  جنگ کے لئے  اتحادیہ تشکیل دینے میں سعودی عرب کا نام پہلی بار سامنے آیا ہے۔    انسانی حقوق  کی تنظیموں نے اس اقدام کا خیر مقدم   کیا ہے ۔ مثال کے طور پر انسانی حقوق  پر نظارت رکھنے والا ادارہ  ان اداروں میں سے ہے کہ جس نے گوٹرچ کے کام کی صحیح جانچ  کی ہے۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر