my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 47275
: //
روس اور سعودی عرب ، اقتصادی ردو بدل سے لے کر ایک دوسرے کو سیاسی امتیاز نہ دینے تک

نیوزنور:روس اور سعودی عرب سنجیدہ سیاسی اختلافات کے باوجود جو ان کے مابین ہیں ، ان کی کچھ اقتصادی ضرورتیں ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں ، ایک امریکی مرکز نے اس موضوع کا تجزیہ کیا ہے ۔

روس اور سعودی عرب ، اقتصادی ردو بدل سے لے کر ایک دوسرے کو سیاسی امتیاز نہ دینے تک

نیوزنور:روس اور سعودی عرب سنجیدہ سیاسی اختلافات کے باوجود جو ان کے مابین ہیں ، ان کی کچھ اقتصادی ضرورتیں ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں ، ایک امریکی مرکز نے اس موضوع کا تجزیہ کیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیقاتی ادارے اسٹریٹفور [Stratfor]نے اپنی اطلاع رسانی کے مرکز میں اس عنوان سے ایک مضمون شایع کرکے کہ ، کیوں ملک سلمان روس کے دورے پر گیا ہے ، ایک سعودی بادشاہ کے  ماسکو کے حالیہ پہلے دورے کا جائزہ لیا ہے ۔

اس مضمون میں آیا ہے : سال ۲۰۱۷ کے لیے اسٹریٹفور کی سالانہ پیشین گوئیوں میں ہم نے کہا ہے کہ سعودی عرب سال ۲۰۱۸ میں اپنی تیل کی کمپنی آرامکو  کے کچھ سہام جنرل مارکیٹ میں بیچنے کی تیاری کر رہا ہے تا کہ اپنے سرمایہ گذاری کے بینک کو وسعت دے کر خارج میں اہم ترین سرمایہ گذاری کی بنیاد رکھ سکے ۔

مضمون نگار نے مزید لکھا ہے : ہم نے کہا کہ روس بھی کافی عرصے سے اقتصادی جمود  اور ٹھہراوسے دوچار ہے اور جب تک تیل کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوتا اسے اپنے محتاط بجٹ کا پابند رہنا پڑے گا ۔

آگے آیا ہے ، ماسکو کا ملک سلمان کا حالیہ دورہ اسی ماجرا کا ایک حصہ ہے ، سعودی عرب اور روس دونوں کمزور اقتصاد کے دور سے گذر رہے ہیں اور دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط روابط سے استفادہ کر رہے ہیں ۔

ملک سلمان کا ماسکو کا دورہ پہلے سعودی بادشاہ کے عنوان سے تاریخ میں ثبت ہو چکا ہے ، سعودی عرب اور روس نے کبھی بھی کسی سلسلے میں بھی آپس میں تعاون نہیں کیا ، لیکن اب حالات ان کو ایک سمت میں اور ایک دوسرے کی جانب کھینچ لائے ہیں۔

ملک سلمان نے ماسکو میں چار دن کے قیام کے دوران میں اس ملک کے اعلی حکام منجملہ ولادیمیر  پوتین سے ملاقات کی ، اور ان کی بات چیت غالبا توانائی اور اقتصاد کے محور پر تھی ۔ لیکن دونوں فریق یہ کوشش بھی کریں گے  کہ دوسرے اختلافی مسائل کے بارے میں ایک مناسب پلیٹ فارم ایجاد کریں کہ جن میں سے ایک روس  کاعلاقائی چپقلش میں شامل ہونا  ہے اور دوسرا سعودی عرب کے روس میں اسلامی علاقوں کے ساتھ روابط ہیں ۔

ایک دوسرے کی پریشانیاں ،

سعودی عرب نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین سے اپنے روابط منقطع کر رکھے تھے ، اور اس زمانے سے دونوں ملکوں کے روابط ایک دوسرے کی مراد کے مطابق نہیں تھے ،ماسکو سعودی عرب پر الزام عاید کرتا ہے کہ اس نے نوے کی  دہائی میں روس سے جدائی کا مطالبہ کرنے والے اسلامی علاقوں کی مالی امداد کی تھی جس کی وجہ سے قفقاز کے شمال میں تباہ کن جنگ ہوئی تھی ، اس بنا پر روس پر روس میں سعودی عرب کے جو مسلمان نشین علاقوں کے ساتھ روابط ہیں ان پر تشویش کے سلسلے میں اعتراض نہیں کیا جا سکتا ۔

کرملین اس بات کو لے کر  کہ اسلام پسندوں کی طرف سے جدائی طلبی کی باتیں پھر سے سننے کو مل رہی ہیں تشویش میں ہے چونکہ بہت سارے مسلمان نشین علاقوں منجملہ تاتارستان نے حال ہی میں روس پر تنقید کی ہے ، اور اس کے علاوہ جمہوریہء  چیچینیا جیسے خود مختار علاقوں میں اپنی مستقل اور طاقتور فوج بھی ہے ۔

تاتارستان اور چیچینیا نے حالیہ برسوں میں سعودی عربیہ سے سرمایہ گذاری اور مالی امداد کی امید لگا رکھی ہے ، لیکن ماسکو کو امید ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ رابطے کی لائن کھل جانے سے وہ اسلام پسندوں کی خفیہ امداد پر قابو پا لے گا اور روس میں اتھل پتھل نہیں پھیلنے دے گا ۔

یہ بھی ہے کہ علاقے کے بہت سارے مناقشات میں ایک نمایاں اور مضبوط طاقت شمار ہوتا ہے خاص کر شام ،یمن اور لیبیا کی جنگ میں کہ جن پر سعودی عرب کی توجہ مرکوز ہے ۔

بسا اوقات ان جھڑپوں میں روس اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مخالف محاذوں پر کھڑے نظر آتے ہیں ، لیکن کبھی کبھی ایک ہی میز پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھنا ان کے حق میں مفید ہوتا ہے ، اس وقت کہ جب سعودی عرب کا اصلی رقیب یعنی ایران روس کے ساتھ پیچیدہ روابط کے دور سے گذر رہا ہو  تو سعودی عرب اس حالت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔

گذشتہ چند سال روس کے ایران کے ساتھ بڑے تعاون کے باوجود ان کے مفادات  ہمیشہ ایک سمت میں  نہیں رہے ہیں اور سعودی عرب اس مسئلے سے اپنے حق میں فائدہ اٹھا سکتا ہے ، وہ بھی اس کوشش کے دائرے میں جو وہ ایران کے اس علاقے میں بڑھتے ہوئے نفوذ کو روکنے کے لیے کر رہا ہے ۔

جب مفادات کی بات درمیان میں آتی ہو،

اگر روس اور سعودی عرب کے اختلافات کو ایک طرف رکھیں تو جب بھی توانائی اور اقتصاد کی بات آتی ہے تو روس اور سعودی عرب کے مفادات دوسرے ہر دور سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں ، چنانچہ احتمال پایا جاتا ہے کہ ملک سلمان کے روس کے دورے کے نتائج بہت بڑے ہوں گے ۔

سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرامکو اور روس کے براہ راست سرمایہ گذاری کے بینک نے روس میں تیل کے امور کے پروجیکٹ کو وسعت دینے کے لیے ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کی خبر دی ہے ، اور یہ بینک ، ایک ارب ڈالر کی مالیت کا ایک بینک فنی امور  کے لیے تاسیس کرے گا ۔

توقع کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اوور ایشیا کمپنی میں ایک سو پچاس میلین ڈالر  سرمایہ گذاری کی خبر دے گا ۔

احتمال پایا جاتا ہے کہ سعودی عرب کی کمپنی آرامکو قطب شمالی میں نوواتک کمپنی سے متعلق طبیعی سیال گیس کے پروجیکٹ میں سرمایہ لگانے کے موضوع کا جائزہ لے رہی ہے ، اور سیبور کمپنی  کے ساتھ صنعتی لاسٹیک سازی کے کارخانے  کی تعمیر کے مشترکہ منصوبے  کی بات کرے گی اور اس سلسلے میں تعاون کے ایک منصوبے پر دستخط کیے جائیں گے ۔

اسی دوران سعودی عرب کے فوجی صنایع کی تنظیم نے روس سے بھاری مقدار میں ہتھیار اور سازو سامان  خریدنے کے امکان کے بارے میں مذاکرات شروع کیے جانے کے بارے میں اصولی موافقت کا اعلان کر دیا ہے ۔

دنیا میں تیل پیدا کرنے والے تین بڑے ملکوں میں سے دو ملکوں کے طور پر روس اور سعودی عرب کا فعال کردار ایک حیاتی موضوع شمار ہوتا ہے ، ۵ اکتوبر کو دونوں ملکوں کے توانائی کے وزیروں نے  تیل کے بازار ، اور دنیا میں تیل کی پیداوار کم کرنے کے سمجھوتے کی مدت میں تمدید کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا ۔

مذکورہ دونوں وزارتخانوں  میں سے کسی نے بھی تمدید کے سمجھوتے کے انعقاد کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی بات نہیں کہی ، لیکن یقینا دونوں ملک کوشش کریں گے کہ توانائی کے بازار پر آیندہ چند مہینوں میں قریب سے نظر رکھیں گےاور اگر ضروری ہوا تو دونوں مل کر تمدید کے لیے اقدام کریں گے ۔توانائی کے وزیروں کی بیٹھک سے ایک دن پہلے پوتین نے کہا : وہ سال ۲۰۱۸ کے آخر تک سمجھوتے کی مدت بڑھائے جانے کا خیر مقدم کرے گا لیکن آیندہ سال مارچ  تک کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا ۔ صاف طور پر معلوم ہے کہ دونوں میں سے کوئی ملک بھی بے ضابطہ طور پر سمجھوتے سے الگ ہو کر تیل کے بازار کو تباہی کی طرف نہیں لے جائے گا اور اگرسمجھوتے کی مدت بڑھانے کے لیے بات چیت نہ ہو تو سعودی عرب اور روس اس سے باہر نکلنے کا منصوبہ بنائیں گے۔

 ملک سلمان کے ماسکو کے دورے کے ایک دوسرے کے مفادات اس حقیقت کو روشن کریں گے ، کہ جس دورے کے بڑے حصے کا تعلق اقتصاد اور توانائی کے شعبے سے تھا ، سعودی عرب کے پاس خارجی کرنسی کے بہت بڑے ذخائر ہیں اور روس کو اپنے بے شمار پروجیکٹوں کے لیے اس کی ضرورت ہے ۔

دوسری طرف سعودی عرب کو توانائی کے میدان میں اپنے پروجیکٹوں کے لیے روس کی حمایت کی ضرورت ہے کہ جس کو سعودی عرب کے ۲۰۳۰ کے اقتصادی وژن  کی دستاویزمیں ایک حیاتی مسئلہ شمار کیا گیا ہے ۔

روس اور سعودی عرب کے باہمی تعاون کے پروجیکٹ جیسے لاسٹیک سازی کا کارخانہ جو سعودی عرب میں بنایا جائے گاوہ ۲۰۳۰ کے اقتصادی وژن کے مقاصد کے پورا کرنے میں مدد کرے گا ۔ اس سفر کے سیاسی مفادات زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوں گے ۔ لیکن واضح ہے کہ سعودی عرب اور روس کو سیاسی اور اقتصادی وجوہات کی بناپر ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط روابط رکھنے سے فائدہ ہو گا ۔        

 

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر