my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 47284
: //
ایرانی تجزیہ کار:
برزانی کی سازشوں پر خاموشی عراقی کردستان کو ایک اورشام میں بدل دےگی

نیوزنور: اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہاہےکہ عراقی کردستان کو  ایک اورشام بننے سے روکنے کیلئے  تہران اورانقرہ کو علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ایرانی تجزیہ  کار:

برزانی کی سازشوں پر خاموشی عراقی کردستان کو ایک اورشام میں بدل دےگی

نیوزنور: اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہاہےکہ عراقی کردستان کو  ایک اورشام بننے سے روکنے کیلئے  تہران اورانقرہ کو علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ایک مضمون میں ’’علی خرام ‘‘نے لکھاکہ عراقی کردستان کو  ایک اورشام بننے سے روکنے کیلئے  تہران اورانقرہ کو علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ کردستان کی عراق سے علیحدگی کی کوششوں کے حوالے سے ترکی اورایران کے درمیان کسی طرح کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ کسی بھی طرح کا شبہ عراقی کردستان کو ایک اورشام میں بدل دےگا۔

انہوں نے کہاکہ ایران ،ترکی اورروس کےد رمیان سہ فریقین مذاکرات شام میں امن واستحکام قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں اوراسطرح کے پلیٹ فارم کے ذریعے ایران اورترکی  دیگر مسائل کا حل نکالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پی کے کےساتھ امن معاہدے کا خاتمہ بھی  ترکی میں عدم استحکام کا باعث بنا۔

انہوں نے کہاکہ اگر آج کردو امریکی فورسز شام میں ترکی کی موجودگی کے خلاءکو بھر رہے ہیں یہ شام کے تئیں انقرہ کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہےتاہم انقرہ اب بھی اپنی ناکام پالیسیوں سے  سبق لے سکتی ہے۔

خرم نے شامی امن مذاکرات میں تہران وانقرہ کے درمیان ثمر آور  تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ  دونوں ممالک کو  کردستان ریفرنڈم کےمنفی اثرات کو روکنے کیلئے سیکورٹی تعاون کو مزید وسعت دینی ہوگی۔

قابل ذکر ہےکہ  شام میں جاری خانہ جنگی میں ایران اورترکی مدمقابل رہے ہیں اسلامی جمہوریہ ایران صدر بشارالاسد جبکہ  ان کا تختہ الٹنے کیلئے ترکی دہشتگردوں کی حمایت کرتی رہی ہے تاہم  ترکی کی اس پالیسی سے علاقے میں اس کا اثرورسوخ بہت حدتک ختم ہوگیا ۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر