my title page contents
اسلامی بیداری
شماره : 47286
: //
ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کا ہدایت ٹی وی کے ساتھ مکالمہ:
سلمان شاہ اپنے آپ کو شیطان کا بھائی زیادہ اور خادمین حرمین شریفین کم ثابت کرنے کے باوجود اکثر مسلمان امام حسین (ع)کی پکار سمجھنے سے قاصر

نیوزنور: سورہ اسراء کی  آيت 27 میں واضح طور پر سعودی کے بادشاہ کا پتہ بتایا گیا ہے اور اس پورے ٹولے کا کہ یہ شیطان کا بھائی ہے ۔ آپ دیکھئے کہ آپ نے جس طرح اشارہ کیا یہ المیہ ہے  مسلمانوں کو اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ دیکھئے کہ سعودی بادشاہ سلمان شاہ کا روس کا 5ارب ڈالر کی خریداری کرنے کے لئے تین دن کا دورہ کرنا اور ان تین دنوں کیلئے 1500 افراد پر مشتمل وفد ساتھ اٹھانا اورقریب 22  کروڑ روپیہ صرف 3دن کا ہوٹل کرایہ دینا ۔تین دن کا پکوان بنانے کیلئے400ٹن کا سازوسامان  اور 816کلو خوراک ، شہزادوں کیلئے125 شف الگ اور بادشاہ کیلئے 150 شف  الگ ساتھ اٹھانا اور حلال گوشت اور پھل ریاض سے لانے کیلئے روزانہ ایک جہاز کا ریاض کا چکر کاٹتے رہنا وغیرہ۔اس طرح فضول خرچی کرکے یہ وہابی بادشاہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔یہ کہ وہ خادمین حرمین شریفین ہے۔جبکہ اللہ واضح طور پر سورہ اسراء آيت 27 میں ارشاد فرماتا ہے کہ :"یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں" ۔اہلسنت اس پر عزاداری کیوں نہیں کرتے ۔کیا یہ شخص یزید زمان نہیں ہے کہ جس کا کردار و رفتار قرآن کے خلاف ہے۔

ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی:

سلمان شاہ اپنے آپ کو شیطان کا بھائی زیادہ اور خادمین حرمین شریفین کم ثابت کرنے کے باوجود اکثر مسلمان امام حسین (ع)کی پکار سمجھنے سے قاصر

نیوزنور: سورہ اسراء کی  آيت 27 میں واضح طور پر سعودی کے بادشاہ کا پتہ بتایا گیا ہے اور اس پورے ٹولے کا کہ یہ شیطان کا بھائی ہے ۔ آپ دیکھئے کہ آپ نے جس طرح اشارہ کیا یہ المیہ ہے  مسلمانوں کو اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ دیکھئے کہ سعودی بادشاہ سلمان شاہ کا روس کا 5ارب ڈالر کی خریداری کرنے کے لئے تین دن کا دورہ کرنا اور ان تین دنوں کیلئے 1500 افراد پر مشتمل وفد ساتھ اٹھانا اورقریب 22  کروڑ روپیہ صرف 3دن کا ہوٹل کرایہ دینا ۔تین دن کا پکوان بنانے کیلئے400ٹن کا سازوسامان  اور 816کلو خوراک ، شہزادوں کیلئے125 شف الگ اور بادشاہ کیلئے 150 شف  الگ ساتھ اٹھانا اور حلال گوشت اور پھل ریاض سے لانے کیلئے روزانہ ایک جہاز کا ریاض کا چکر کاٹتے رہنا وغیرہ۔اس طرح فضول خرچی کرکے یہ وہابی بادشاہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔یہ کہ وہ خادمین حرمین شریفین ہے۔جبکہ اللہ واضح طور پر سورہ اسراء آيت 27 میں ارشاد فرماتا ہے کہ :"یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں" ۔اہلسنت اس پر عزاداری کیوں نہیں کرتے ۔کیا یہ شخص یزید زمان نہیں ہے کہ جس کا کردار و رفتار قرآن کے خلاف ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی کے "صبح ہدایت" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے کے دوران " قیام امام حسین علیہ السلام " کے حوالے سے لیے گئے انٹرویو کو مندرجہ ذیل قارئين کے نذر کیا جا رہا ہے:

س) آج کا ہمارا موضوع وہی "قیام امام حسین ؑ "ہےاُسی کا تسلسل ہے اور اس میں ہم  ایک نئی جہت کے ساتھ کہ مسلمانوں کے جو اموال ہیں ، کروڑوں اربوں ڈالر کا جو ضیاع کیا جارہا ہے ۔ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یمن میں بچے بھوک سے مارے جارہے ہیں ، ایک بنیادی انفراسٹریکچر اُن کا تباہ کردیا گیا ہے ، دوسری طرف روہنگیا کے مسلمانوں کےساتھ بدترین تاریخ کا ظلم روا ہے اور اُسی اثنا میں ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی بادشاہ ماسکو کا دورہ کرتے ہیں جس میں 1500 لوگ اُن کے ساتھ جاتے ہیں جہاز بھر بھر کے روز اُن کیلئے کھانا تازہ جاتا ہے۔ اتنے پیسے خرچ کئے جارہے ہیں یہ آل سعود کی ذاتی ملکیت سے تو نہیں ہے؟ یہ تمام مسلمانوں کے اموال ہیں ۔ تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اکثر مسلمان اقوام شرق و غرب فلسفہ قیام امام حسین علیہ السلام کو صحیح سے درک نہیں کر پا رہے ہیں ورنہ اسطرح اپنے اموال ان جیسے لٹیروں کے ہاتھ میں نہیں دیتے ۔ میں چاہوں گا کہ اس حوالے سے گفتگو کا آغاز کریں؟

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِي بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِي التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِي لِلَّتِي هِيَ أَزْكَى۔

ایام عزا کی مناسبت سے صاحب عزا امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہٗ شریف کی خدمت میں بالخصوص اور آپ کے نائب امام خامنہ ای اور جملہ مراجع عظام تقلید اور عاشقان محمد و آل محمد ؑ کی خدمت میں بالعموم عرض تسلیت کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ ؛ یہ ایک واضح  حقیقت ہے کہ ابھی بھی قرآن مظلوم ہے ، اسلام مظلوم ہے کہ جس کیلئے امام حسین علیہ السلام نے قربانی دی۔اور ابھی تک اسلام کو بچانے کیلئے ابھی بھی مٹھی بھر مسلمان دنیا میں موجود ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے حقیقتاً قیام اسی لئے کیا کہ اسلام کو مسخ نہ کیا جائے۔ اسلام کی اپنی شکل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے پیش کی ہے وہ اپنی حالت میں باقی رہے۔

اور دورِ حاضر میں جس یزیدی رنگ کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں وہ  آل سعود کی نظر میں سامنے ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک انقلابی حرکت ہم نے پچھلے سال 25اگست کو روسی چیچنیا  کے شہر "گروزنی"میں"اہلسنت کون" نامی کانفرنس جو منعقد کر کے ہوا کہ  جس  میں عالم اسلام سے 200 ممتاز اہلسنت علماء خاص کر الازہر یونیورسٹی کے مفتی اعظم نے شرکت کی تھی چیچنیا کے صدر جمہوریہ "رمضان احمد قدیرف" کے خطاب سے شروع ہوئی  اور جس میں کوشش یہ رہی کہ "اہلسنت" کی جامع تعریف سامنے لائی جائے ؛ایسی تعریف کہ جس میں وہابیت اور تکفیری سلفی گری  کیلئے کوئی جگہ نہ ہو۔اسی لئے  اس کانفرنس میں سعودی اور قطر کے سلفی اور وہابی مفتیوں کو  شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ اور اختتامی بیان میں اہل سنت کی تعریف یوں کی گئی:"اہلسنت اعتقاد اورکلامی مذاہب کے اعتبار سے اشعری اور ماتریدی ہیں اور فقہی اعتبار سے وہی چار مسلک حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ہیں اور علمی، اخلاقی اور تزکیہ نفس کےاعتبار سے صوفی امام الجنید(جنید بغدادی) اور ایسے اہل تصوفِ پاک رکھنے والے ہیں...."

اس کانفرنس میں تاکیدی طور پر اظہار کیا گیا کہ وہابیت اور سلفیت امت اسلامی کے تفرقے اور اسلام کی بدنامی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ایسے میں وہابیت اور تکفیری جماعت کے بارے میں جہاں اہلسنت علماء نے واضح موقف اختیار کیا ہے خادمین حرمین شریفین کے منصب کے بارے میں بھی موقف واضح کرنا چاہئے کہ سعودی عرب کے خدا سے بے خبر بادشاہ  اور اس کے  شاہی ٹولے کے بارے میں بھی خاموشی توڑنی چاہئے۔جو حرمین شریفین کی خدمت کرنے کے بجائے حرمین شریفین اور بیت المال کو لوٹنے اور اسلام ومسلمین کے منفعت کے برخلاف خرچ کرنے میں آئے دن نئی تاریخ رقم کرتے ہیں اور اللہ  ایسے افراد کومسلمانوں کے سربراہ نہیں بلکہ شیطان کے بھائي کے عنوان سے یاد کرتا ہے:إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّياطِينِ وَكَانَ الشَّيطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔فضول خرچی کرنے والے یقیناً شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

اس سورہ اسراء کی  آيت 27 میں واضح طور پر سعودی کے بادشاہ کا پتہ بتایا گیا ہے اور اس پورے ٹولے کا کہ یہ شیطان کا بھائی ہے ۔ آپ دیکھئے کہ آپ نے جس طرح اشارہ کیا یہ المیہ ہے  مسلمانوں کو اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ دیکھئے کہ سعودی بادشاہ سلمان شاہ کا روس کا 5ارب ڈالر کی خریداری کرنے کے لئے تین دن کا دورہ کرنا اور ان تین دنوں کیلئے 1500 افراد پر مشتمل وفد ساتھ اٹھانا اورقریب 22  کروڑ روپیہ صرف 3دن کا ہوٹل کرایہ دینا ۔تین دن کا پکوان بنانے کیلئے400ٹن کا سازوسامان  اور 816کلو خوراک ، شہزادوں کیلئے125 شف الگ اور بادشاہ کیلئے 150 شف  الگ ساتھ اٹھانا اور حلال گوشت اور پھل ریاض سے لانے کیلئے روزانہ ایک جہاز کا ریاض کا چکر کاٹتے رہنا وغیرہ۔اس طرح فضول خرچی کرکے یہ وہابی بادشاہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔یہ کہ وہ خادمین حرمین شریفین ہے۔جبکہ اللہ واضح طور پر سورہ اسراء آيت 27 میں ارشاد فرماتا ہے کہ :"یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں" ۔اہلسنت اس پر عزاداری کیوں نہیں کرتے ۔کیا یہ شخص یزید زمان نہیں ہے کہ جس کا کردار و رفتار قرآن کے خلاف ہے۔

شیعہ عزاداری کرتے اسی لئے ہیں کہ مسلمانوں کی سربراہی کرنے کیلئے یزید جیسا انسان سربراہی کررہا تھا اور مسلمان عمل سے زبان سے یا خاموشی سے اس کی حمایت کرتے تھے۔اور امام حسین علیہ السلام فرماتے تھےمسلمانو! تم اندھے کیوں ہو گئے ہو:اَلا تَرَوْنَ اَنَّ الْحَقَّ لايُعْمَلُ بِهِ، وَ اَنَّ الْباطِلَ لايُتَناهي عَنْهُ۔کیا نہیں دیکھ پا رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل کی رکاوٹ نہیں ہو رہی ہے۔

میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے  یہ خادمین حرمین شریفین شاہ صاحب کو نہیں دکھ رہا ہے ۔ یمن میں مسلمانوں کا خود ہی خون بہاتے نہیں تھکتا، دنیا کو حلال گوش کی اہمیت بتاکر روزانہ ریاض سے حلال گوشت لا کر کھاتا ہے۔مسلمانی کو کہاں سے کہاں لے جا  یا  جا رہا  ہے۔

سعودی بادشاہ  اگر اللہ کی یاد کیا کرتا تو اسے اپنے ضمیر کے سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے ہر لمحہ کروڑوں روپیہ خرچ نہیں کرنے پڑتے ۔جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آل سعود نے اللہ پر کبھی ایمان لایا ہی نہیں تو دل کا سکون  کہاں اللہ کی یاد سے حاصل ہوگا۔ اللہ نے تو فرمایا ہے کہ:" جنہوں نے ایمان لایا ہے ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں ۔بے شک خدا کی یاد سے دلوں کو سکون ملتا ہے"۔

س: پھر مسلمانوں کی کیا مسئولیت بنتی ہے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

ج) یہی تو واضح طور پر ہمیں قرآن اس کا ایڈرس دے رہا ہے۔ دیکھئے  اس شاہ صاحب کو تسلی نہیں ملتی  ہے خدا کی یاد سے اسی لئے جو یہ فضول خرچیاں کرتا ہے ۔یہ اسلئے کرتا ہے کہ کیونکہ اس کا دل اللہ سے نہیں جڑا ہے، اصل میں اس کو پتہ ہی نہیں کہ اللہ کی یاد کیا ہے کیونکہ قرآن ایسا ہی کہتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد/28)

اور جو سربراہ خدا کی یاد سے غافل ہو، اس سربراہ کی عمل سے،یا کردار و گفتار و رفتار سے یا خاموشی اختیار کرکے حمایت کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔اللہ  کے ساتھ جنگ ہے۔ کیونکہ اللہ کا واضح حکم ہے کہ :وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا۔اور آپ اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیاہے اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔(الکهف/28) ۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ ولی فقیہ امام خامنہ ای  اور سعودیہ بادشاہ ،سلمان شاہ کے قول و فعل ، کردار ، گفتار و رفتار اور طرز زندگی کا موازنہ کریں اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے فلسفے کو سمجھیں۔ ہمیں عملی قرآنی مسلمان ہونا چاہئے نہ کہ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔(الکهف/28)۔

پچھلے زمانے میں  کبھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا کچھ ہورہا ہے مگر آج کل ایسا نہیں ہے البتہ پردہ پوشی کرنا ابھی بھی رائج ہے جس طرح  کہ آپ نے دیکھا کہ پوری دنیا کی مسلمان میڈیا  سعودی فضول خرچی پر خاموش رہی  ہے ۔ مقصد کیا تھا اس فضول خرچی کا ۔ یہ کہ صرف اپنی مرضی کی چائے پلانے کیلئے 125 نوکر ساتھ میں اٹھانا کہ ہمیں اپنی مرضی کی چائے پینی ہے۔  ہوٹل میں جس طرح لوگ رہتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے....۔ تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالم اسلام کس غفلت کی نیند میں ہے ۔ الحمد اللہ کربلا کی برکت سے شیعہ بیدار ہمیشہ رہے ہیں مگر اہلسنت بھائیوں کو جس طریقے سے دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹی خبریں دیتے ہیں، حقیقت سے دور رکھتے ہیں۔ اس بنیاد پر وہ بیچارے کہتے ہیں کہ جناب ولی امر ہے،  اس کی اطاعت واجب ہے؟۔کس  کی اطاعت واجب ہے جو ہر اعتبار سے شیطان صفت ہے ؟اور قرآن اسے شیطان کا بھائی کہتا ہے! اور ایسے افراد کی اطاعت سے منع کرتا ہے۔ اور امام حسین علیہ السلام اسی لئے کہتے ہیں کہ ’’مثلی لایبایع مثلہ‘‘ مجھ جیسا یزید جیسے انسان کی بیعت نہیں کرسکتا ہے۔ مگر افسوس کہ ابھی بھی  کیوں ایسے یزیدی کردار کے لوگوں کو خادمین حرمین شریفین کے اعزاز سے یاد کیا جاتا ہے۔

جزاک اللہ ، جزاک اللہ قبلہ بہت مشکور ہیں ، بہت شکر گزار ہیں کہ آپ نے اس بہترین موضوع کے اوپر جو استدلال دئے وقت بہت کم ہوتا ہے اور موضوعات کے اندر بہت گہرائی ہوتی ہےاور جہاں پر قیام امام حسین ؑ کے فلسفے کی بات آئے تو جتنی بات کی جائے وہ کم ہے بہر حال ہم بہت مشکور و ممنون ہیں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہم کو دیا۔ جزاک اللہ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔   

 


©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر