my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 47293
: //
کینڈین تاریخدان:
داعش واشنگٹن گٹھ جوڑ شام کے خلاف امریکی پراکسی جنگ کا ثبوت ہے

نیوزنور: کینڈیا کے ایک معروف تاریخ دان نے کہاہےکہ  شام میں امریکہ اورتکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے درمیان گٹھ جوڑ سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہےکہ شام  میں جاری خانہ جنگی  امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ ایک پراکسی جنگ ہے۔

کینڈین  تاریخدان:

داعش واشنگٹن گٹھ جوڑ شام کے خلاف امریکی پراکسی جنگ کا ثبوت ہے

نیوزنور: کینڈیا کے ایک معروف تاریخ دان نے کہاہےکہ  شام میں امریکہ اورتکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے درمیان گٹھ جوڑ سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہےکہ شام  میں جاری خانہ جنگی  امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ ایک پراکسی جنگ ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق یورپی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں ’’مائیکل  کارلی ‘‘نےکہاکہ شام میں امریکہ اورتکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے درمیان گٹھ جوڑ سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہےکہ شام  میں جاری خانہ جنگی  امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ ایک پراکسی جنگ ہے۔

بدھ کے روز  روسی وزارت دفاع کے ترجمان  میجر جنرل ایگور کوناشنکوف  نے امریکہ سے مطالبہ کیاکہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ  کیوں وہ جنوبی شام میں سیف زون میں جبہت النصرہ سے منسلک دہشتگردوں کی امداد کررہاہے۔

اسی دن شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے امریکہ پر الزام لگایاکہ وہ  داعش کے بغیر شام میں ہر چیز کو تباہ  کررہا ہے۔

 کینیڈین  پروفیسر نے کہاہےکہ روس اورشام کی طرف سے امریکہ پر الزامات باعث حیرت نہیں ہیں کیونکہ  امریکی فوج اوربدنام زمانہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے شام میں تکفیری دہشتگردوں کی مالی، اسلحہ جاتی اورتربیتی  امداد فراہم کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ داعش اوردیگر تکفیری دہشتگرد گروہوں کےساتھ  امریکہ کا گٹھ جوڑ ایک طویل عرصے سے جاری ہے ۔

انہوں نےکہاکہ عرب جمہوریہ شام میں داعش مخالف امریکی مہم ایک فریب ہے  واشنگٹن کی زیر قیادت میں بین الاقوامی اتحاد داعش کے بجائے شام کی اسٹریٹجک تنصیبات اورشہری علاقوں کو نشا نہ بناکر داعش کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی عوام ابھی بھی واشنگٹن کا  داعش، جبہت النصرہ اوردیگر دہشتگر دگروہوں کے درمیان گہرے روابط سے انجان ہیں۔

 اس سوال کے جواب میں کہ داعش اوردیگر تکفیری دہشتگردوں کی واشنگٹن کی طرف سے حمایت کے پیچھے کون سے محرکات ہیں انہوں نے کہاکہ امریکہ شام میں افراتفری مچاکر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اوراس ملک کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

 انہوں نےمزید کہاکہ امریکہ اس عرب ملک میں روس کے بڑھتے اثرورسوخ  اوربشارالاسد کی حکومت کو گرانے کے منصوبے جسے روس نے ناکام کردیا ہے سے خفا ہے۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر