my title page contents
استکباری دنیا
شماره : 47308
: //
ویٹرنز ٹو ڈے کے منیجنگ ایڈیٹر:
امریکہ شمالی کوریا کےساتھ جوہری تنازعے کو حل کرنے کا خواہاں نہیں ہے

نیوزنور: ویٹرنز ٹوڈے کے منیجنگ ایڈیٹر نے کہاہےکہ پونگ یانگ کےساتھ  جوہری تنازعے کو حل کرنے کیلئے امریکہ تیار نہیں ہے ۔

ویٹرنز ٹو ڈے کے منیجنگ ایڈیٹر:

امریکہ شمالی کوریا کےساتھ  جوہری تنازعے کو حل کرنے کا خواہاں نہیں ہے

نیوزنور: ویٹرنز ٹوڈے کے منیجنگ ایڈیٹر نے کہاہےکہ پونگ یانگ کےساتھ  جوہری تنازعے کو حل کرنے کیلئے امریکہ تیار نہیں ہے ۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ویٹرنز ٹوڈے کے منیجنگ ایڈیٹر ’’جم ڈبلیو ڈین ‘‘نے پریس ٹی وی کےساتھ انٹرویو  میں امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا کےساتھ جوہری تنازعے کو حل کرنے پر پونگ یانگ کے شبہات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ معاہدوں کو سبوتاژکرنا اور غداری ونمک حرامی اوراپنے وعدوں سے مکر جانا امریکہ کی پرانی تاریخ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ  ابتداء سے ہی دوسرے ممالک کےساتھ معاہدے اس لئے  طے کرتا آرہا ہے  تاکہ ان سے امریکی مفادات کی تکمیل ہوسکے  اورجب تک ان معاہدوں میں امریکی مفادات کی تکمیل ہوتی ہے تب تک امریکہ ان معاہدوں پر عمل کرتا ہے لیکن جب ان معاہدوں سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے تو وہ ان معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے امریکی میڈیا میں اس بات کا کبھی بھی ذکر نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہےکہ اس کے پاس ایک بڑی فوج ،نیٹو جیسے اتحادی اوریورپی یونین کا ساتھ ہے اوردنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ کو للکارنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔

موصوف مدیر نے کہاکہ اسی لئے شمالی کوریا کو امریکہ پر اعتماد نہیں ہے ۔

انہوں نے  لیبیا کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا لیبیا حاکم معمر قذافی کےساتھ امریکہ نے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے ایک معاہدہ  طے کیاتھا لیکن کچھ ہی سال گذرنے کے بعد امریکہ نے اس ملک میں حکومت تبدیلی کی غرض سے مداخت کرکے اس ملک کو معاشی اوراقتصادی طورپر تباہ وبرباد کردیا ۔

انہوں نے کہاکہ  امریکہ شمالی کوریا کے جوہری تنازعے کو بہانہ بناکر اصل میں چین اورروسی سرحدوں کے نزدیک  اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کی کوشش کررہاہے۔

جم ڈبلیو ڈین نے مزیدکہاکہ اگر واشنگٹن کا حتمی مقصد شمالی کوریا کےساتھ جوہری تنازعے کو حل کرنا ہوتا تو وہ جزیرہ نماکوریا میں اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ نہیں کرتا اوراگر امریکہ نے پونگ یانگ کےساتھ جوہری تنازعہ  حل کیا تو اسے کوریائی جزیرے سے اپنی فوجیوں کو واپس بلانا پڑےگا جوکہ امریکہ کبھی نہیں چاہئےگا۔

قابل ذکر ہےکہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن اورپونگ یانگ کےدرمیان کشیدگی عروج پر ہے ۔

واضح رہے کہ پونگ یانگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تب تک اپنے میزائل اورجوہری پروگرام کو بند نہیں کرےگا جب تک واشنگٹن پونگ یانگ کے تئیں اپنی دشمنانہ پالیسیاں بند نہیں کرےگا۔

©newsnoor.com2012 . all rights reserved
خبریں،مراسلات،مقالات،مکالمے،مسلکی رواداری،اتحاد،تقریب،دینی رواداری،اسلامی بیداری،عالم استکبار،ادھر ادھر