نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے


بین الاقوامی امور کے ایرانی ماہر:

نیوزنور12مئی/بین الاقوامی امور کے ایک ایرانی ماہر نے کہا ہے کہ شام کے مقبوضہ جولان علاقے میں قابض صیہونی افواج کے ٹھکانوں پر شام کی سرکاری فوج کے میزائیل حملے قدس کی غاصب رژیم کی بڑی شکست ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق’’اسداللہ زائری‘‘نے مقامی میڈیا کے ساتھ انٹریو میں کہا کہ شام کے مقبوضہ جولان علاقے میں قابض صیہونی افواج کے ٹھکانوں پر شام کی سرکاری فوج کے میزائیل حملے قدس کی غاصب رژیم کی بڑی شکست ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کی شاندار کامیابی ایک اسٹرٹیجک فتح ہے جسے خطے کا مستقبل ہی تبدیل ہونے والا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جولان پر شامی فوج کے حملے صیہونی رژیم ،اسکی بدنام زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور دفاعی امور کے ذمےدار اداروں کیلئے ایک ذلت آمیز شکست ہے ۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ شامی فوج کی اسطرح کی جوابی کاروائی سے اسرائیل کے تمام حلقوں میں خوف و ہراس چھا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ غاصب صیہونی وزیر اعظم نتین یاہونے جرمنی،برطانیہ،فرانس اور روس سے درخواست کی تھی کہ وہ مقبوضہ فلسطینی  علاقوں پر ٹی4فوجی اڈے پرحملے کا انتقام لینے کیلئے ایران کی جوابی کاروائی کو روکنے میں کردار ادا کریں ۔

علاقے میں مقاومتی فورسز کی بڑھتی طاقت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صیہونی رژیم اور اسکے انٹیلی جنس ادارے مقاومتی فورسز کی اصلی طاقت سے پوری طرح ناواقف ہیں ۔

شام میں ٹی4فوجی اڈے میں مقاومتی فورسز کی بڑھتی طاقت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صیہونی رژیم اور اسکے انٹیلی جنس ادارے مقاومتی فورسز کی اصلی طاقت سے پوری طرح ناواقف ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شام میں ٹی 4نامی فوجی بیس پر حملے کے دوران تمام صیہونی انٹلی جنس ادارے مقاومتی فورسز کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے لیکن وہ جولان میں قابض فورسز پر شامی فوج کے حملوں کو روکنے میں ناکام ہوئے۔

بین الاقوامی امور کے ایران ماہر نے مزید  کہا کہ مقبوضہ جولان پر شامی فوج کے حملے نہ صرف اسرائیل کی جارحانہ کاروائیوں کا جواب تھے بلکہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یوروشلم القدس منتقل کرنے کے اقدام کےا رد عمل بھی تھا ۔

اسرائیل

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی