نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ آگوست ۱۸، ۱۱:۳۵ - موزیلاگ ..
    (:


کینیڈا کے معروف تجزیہ کار:

نیوز نور14 مئی /کینیڈا کے ایک معروف تجزیہ کار نے فلسطینی عوام کے خلاف تل ابیب رژیم کی بربریت کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کو  اسرائیلی عوام کی حمایت  نے ثابت کردیا ہے کہ  صیہونیت اصل میں نسل پرستی ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق    ایک انٹرویو میں ’’کن سٹون‘‘نے فلسطینی عوام کے خلاف تل ابیب رژیم کی برابریت کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کو  اسرائیلی عوام کی حمایت  نے ثابت کردیا ہے کہ  صیہونیت اصل میں نسل پرستی ہے۔

انہوں نے کہاکہ  صیہونی رژیم   جو مشرق وسطیٰ علاقے میں امریکہ کی آلہ کار ہےجو واشنگٹن حکومت کی پشت پناہی سے فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھی ہوئی ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں کے واپسی مارچ  پر فلسطینیوں کی شجاعت  کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ  اسرائیل جو خود کو ایک یہودی ریاست کہتا ہے یہودیت سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ  اسرائیل کی ناجائز ریاست  ایک سامراجی پروجیکٹ ہے  جس کا مقصد تمام فلسطینی علاقوں سے مسلمانوں کی نابودی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے ناپاک وجود سے قبل تاریخی فلسطین میں  مسلمان یہودی اورعیسائی امن کےساتھ زندگی گذاررہے تھے لیکن صیہونی تحریک   نے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی  اور امتیازی سلوک کو متعارف کیا کیونکہ  وہ تمام علاقوں سے فلسطینیوں کی نابودی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آج اسی لئے ہم اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں  آبادیہودی  غزہ کی عوام  پر ہورہے مظالم کی حمایت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ  اوراس کے نیٹو اتحادی اور  عرب رجعتی حکومتوں نے اسرائیل کو  فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت جاری رکھنے کا گرین سیگنل دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ غزہ کی سرحد پر صیہونی حکومت کے خلاف جد وجہد سامراج اوراستعمار کے خلاف ایک عالمی تحریک ہے ہمیں فلسطینیوں کی ہر سطح پر حمایت  جاری رکھنی چاہئے۔

انہوں نےمزید  کہاکہ   ہمیں یمن ،شام ،لبنان اورایران  کہ جن کو امریکی سامراجی  سازشوں کا نشانہ بنایا جارہے ہیں  کی حمایت بھی جاری رکھنی چاہئے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی