نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۱ ژانویه ۱۹، ۱۴:۱۱ - گروه مالی آموزشی برادران فرازی
    خیلی جالب بود


کہنہ مشق عرب تجزیہ کار:

نیوزنور06ستمبر/ایک کہنہ مشق عرب تجزیہ کار اور روز نامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ رہا ہے سب کچھ ختم ہونے والا ہے پر امن طریقے سے یا پھر جنگ سے شامی فوج ادلب پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہےاسے ایران اور روس کا تعاون حاصل ہے اس کے ساتھ ہی حزب اللہ بھی اس کی مدد کے لئے تیار ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق کہنہ مشق عرب تجزیہ کار اور روز نامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ ’’عبد الباری اطوان‘‘ نے اپنے ایک مقالے میں کہا ہے کہ بحیرہ روم میں روس کے 25 سے زائد جنگی بیڑے پہنچ چکے ہیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شام میں دہشتگردوں کے آخری ٹھکانے پر شامی فوج کی کاروائیوں کو روکنے کے لئے امریکہ کے ممکنہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لئے ہیں کیونکہ جس طرح سے بحیرہ روم اور خلیج فارس میں امریکہ اور روس کے جنگی بیڑوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس سے صاف محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا کی یہ دونوں بڑی طاقتیں، علاقائی اور عالمی تصادم کے لئے جنگی بیڑوں کی تعداد بڑھا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس نے چین کے ساتھ مل کر بحیرہ روم میں اتنی بڑی فوجی مشقیں کی جس کی مثال گزشتہ 40 برسوں میں نہیں ملتی اور اسی وجہ سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ امریکہ سے اس کا تصادم ممکن ہےدر اصل روسی قیادت نے حالات کو سمجھ لیا ہے اور وہ شام میں اپنی کامیابیوں کی قربانی کے لئے ہرگز تیار نہیں ہے۔ 

موصوف تجزیہ کار نے کہا کہ اگر چہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار اسد کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہئے اور اس انسانی المیے میں روسی اور ایرانیوں نے شرکت کی تو بہت بڑی غلطی ہوگی کیونکہ اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں تاہم امریکی صدر کے اس ٹویٹ سے جنگ کی آہٹ سنائی دے رہی ہے خاص طو پر اس لئے بھی کہ اس ٹویٹ کا جواب روسی صدر کے ترجمان نے دیا اور دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ ادلب میں مسلح افراد کی موجودگی کی وجہ سے شام میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی رہی ہیں اور وہ ادلب کو روس کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ نے غوطہ اور درعا کی آزادی کے لئے شامی فوج کی کاروائی کے وقت اس طرح کی دھمکی نہیں دی تھی بلکہ ان کی حکومت نے خاموشی اختیار کرکے ایک طرح سے موافقت ظاہر کی تھی تو پھر اس بار ٹرمپ نے کیوں اس طرح سے دھمکی دی؟

عرب تجزیہ نگار نے کہا کہ اس سوال کا جواب دو تجزیہ نگاروں نے دیا ہے جن میں ایک امریکی اور دوسرا برطانوی ہے ان دونوں نے ایک ہی بات کہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے ٹرمپ کو اس طرح کا رخ اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے کیونکہ یہ دونوں نہیں چاہتے کہ روس، ایران اور شام کے اتحاد کو کامیابی ملےکیونکہ اسرائیل، شام سے ایران کو باہر نکالنے میں ناکام رہا ہے اور روس پر دباؤ ڈالنے کا اس کا مطالبہ بھی مؤثر نہیں رہا ہے اس لئے اسے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ادلب کو لے کر امریکی حملہ اس کے لئے آخری موقع ہے اور ہمیں تو لگتا ہے کہ اس بارے میں جان بولٹن کے حالیہ اسرائیل دورے کے دوران گفتگو ہوئی ہوگی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ اس کی ایک علامت اسرائیلی وزیر جنگ کی دھمکی ہے جس میں انہوں نے ایرانی ٹھکانوں کو شام سے باہر بھی نشانہ بنائے جانے کی بات کہی ہے مزہ ائیرپورٹ پر حالیہ حملہ بھی اسرائیل کے اسی الم کو بیان کرتا ہے۔

روزنامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ کے مطابق آنے والا دن بہت اہم ہوگا اگر سیاسی سطح پر کوئی اتفاق نہیں ہو پایا تو یقینی طور پر جنگی ہوگی اور وہ تو بہت وسیع بھی ہو سکتی ہےاورجمعے کو تہران میں روس ، ترکی اور ایرانی کا اجلاس جنگ کا اجلاس بھی ہو سکتا ہے کیونکہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر سے شامی فوج ادلب میں کاروائی شروع کر سکتی ہے۔

عبد الباری اطوان نے مزید لکھا ہے کہ ہماری دعا ہے کہ کوئی بھی سیاسی حل برآمد ہو ہم دل پر ہاتھ رکھ کر حالات کا انتظار کر رہے ہیں آنے والے ایام شام کے لئے بہت اہم ہیں اور جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں اگلے کچھ دنوں میں مشرق وسطٰی کا مستقبل بھی تعین ہو سکتا ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی