نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر آثار قدیمہ و سیاحت:

 نیوزنور13ستمبر/فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر آثار قدیمہ و سیاحت نے صحن براق کی توسیعی منصوبے کوسب سے بڑا اور انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ پچھلے پانچ سال سے اسرائیلی وزیراعظم کے دفترمیں زیرغور رہا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر آثار قدیمہ و سیاحت’’ یوسف النتشہ‘‘نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ کو مٹانے اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے لیے صہیونی ریاست کے ان گنت خطرناک منصوبوں میں ایک منصوبہ صحن براق کی توسیع کا بھی ہےاور اس منصوبے کی منظوری حال ہی میں اسرائیلی بلدیہ نے دی اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے اس کی توثیق کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت دیوار براق کی مغربی سمت میں اس کے صحن کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ وہاں پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہودی جمع ہو کر تلمودی تعلیمات کے مطابق رسومات ادا کرسکیں۔

موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ صحن براق کی توسیع کا منصوبہ اپنے طور پر خطرناک تو ہے ہی مگر یہ منصوبہ دراصل قبلہ اول کی تقسیم کا ایک سازشی منصوبہ ہے اس طرح کے کئی اور منصوبے جن میں شٹراوس،بلڈنگ، بیت ہلفا، اوربیت الجوہر جیسے منصوبے پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں اور باب المغاربہ مراکشی دروازہ کے باہر اموی محلات میں گیفاتی نامی ایک وسیع و عریض منصوبہ پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔

انہوں نےکہا کہ صہیونی ریاست نام نہاد توسیعی منصوبوں کی آڑ میں قبلہ اول کا نقشہ اپنی مرضی کے مطابق بدلنا چاہتی ہے صحن براق کی توسیع کا  منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگایہ انتہائی خطرناک اور مشکل ترین منصوبہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کا صحن براق کا توسیعی منصوبہ مقدس مقام کے اسلامی اور عرب تشخص کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف النتشہ کا کہنا تھاکہ باب المغاربہ کے قریب صحن براق کے اطراف میں کئی تاریخی مقامات ہیں صحن براق ان کے مرکز میں ہے یہ جگہ تاریخی آثار اور پرانی عمارتوں کی باقیات سے بھری ہوئی ہےانہی تاریخی مقامات میں رومانوی دور کی عمارتیں، عرب اور اسلامی ادوار کے تعمیرات، جن میں اموی تہذیب کے کھنڈرات مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی گواہی دیتےہیں اموی دور میں القدس کی تہذیب وتمدن کی عمارتیں، ایوبی دور آثار قدیمہ، الافضلیہ اسکول، المغارنہ کالونی اور کئی دوسری جگہیں مسجد اقصیٰ کے مسلمانوں کی ملکیت ہونے اور مقام براق کے قبلہ اول کاحصہ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی