نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
محبوب ترین مضامین
تازہ ترین تبصرے


سیدنا مقاومت سید حسن نصراللہ:

نیوزنور15مئی/حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے یوم النکبہ کے موقع پر ٹرمپ کی جانب سے سفارتخانے کی منتقلی کی شیطنت سمیت  علاقائی صورتحال پر اپنے اہم خطاب میں کہا کہ یہ ٹرمپ کا فیصلہ نہیں بلکہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارمنٹ کا فیصلہ ہے اس فیصلے میں کسی قسم کا کوئی انسانی اور اخلاقی پہلو نہیں آج فلسطینی مسلسل احتجاج کررہے ہیں گذشتہ چند دنوں میں سینکڑوں مارے گئے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو لیکر نہ تو کوئی اخلاقی پہلو سامنے آتا ہے اور نہ ہی انسانی پہلو ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ’’سیدحسن نصراللہ‘‘ نے یوم النکبہ کے موقع پر ٹرمپ کی جانب سے سفارتخانے کی منتقلی کی شیطنت سمیت  علاقائی صورتحال پر اپنے اہم خطاب میں کہا کہ یہ ٹرمپ کا فیصلہ نہیں بلکہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارمنٹ کا فیصلہ ہے اس فیصلے میں کسی قسم کا کوئی انسانی اور اخلاقی پہلو نہیں آج فلسطینی مسلسل احتجاج کررہے ہیں گذشتہ چند دنوں میں سینکڑوں مارے گئے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو لیکر نہ تو کوئی اخلاقی پہلو سامنے آتا ہے اور نہ ہی انسانی پہلو ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے اوروہ خود اپنے فیصلوں اور معاہدوں کی اخلاقی و قانونی اہمیت نہیں رکھتا ہےجسکی وجہ سےدنیا میں کوئی بھی امریکی معاہدوں اور وعدوں پر یقین ہی نہیں کرسکتا کیونکہ ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں یہ انتہائی حماقت ہوگی کہ کوئی امریکہ پر بھروسہ کرے کیونکہ یہ امریکی ادارہ کسی بھی چیز کا نہ تو پابند ہے اورنہ احترام رکھتا ہے ۔

 موصوف سربراہ نے کہا کہ امریکہ نے اپنے نیٹواور ویٹو میں اس کے اتحادیوں سے بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی اوریہ وہ عبرتیں ہیں جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ہمارے لئے اور خطے کے لئے یہ چیز اہمیت رکھتی ہے کیونکہ جو بھی اپنے پلان اور فیصلے امریکہ پر بھروسے سے کرتا ہے وہ سوچ لےجو امریکہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھتا وہ کیا عربوں کے مفادات کی حفاظت کرے گا؟

 انہوں نے شام پر اسرائیلی جارحیت اور مقاومت کے جواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے ان نتائج نے ہم پر مزید واضح کردیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا راستہ درست نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی عادات کے مطابق اپنے نقصانات چھپارہا ہے اسرائیل پر 55میزائل داغے گئے جن کے نقصانات کی وہ پردہ پوشی کررہا ہے غیر معمولی میزائل حملہ شام پر اسرائیلی جارحیت کےتسلسل کا جواب دینے کا ایک راستہ ہے یہ میزائل حملہ اسرائیل کو پیغام دے رہا ہے کہ اب شام پر اس طرح جارحیت جاری رکھی نہیں جاسکتی اور اس کا جواب اسے مل کر رہے گا ۔

انہوں نے کہا کہ  اسرائیل کے ساتھ تصادم کو میزائلوں کی جوابی کاروائی نے ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے میں یہ انکشاف کردوں کی عالمی ذرائع کے ذریعے اسرائیل کو پیغام دیا گیا تھا کہ اگر اس نے شام میں ریڈ لائنز عبور کرنے کی کوشش کی تو اگلا حملہ اسرائیل کے قلب پر کیا جائے گا اس واقعے اور تجربے نے ثابت کردیا کہ اسرائیلی کسی بھی لحاظ سے اس قسم کے حملے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حملے کے بعد کی صورتحال واضح کررہی ہے کہ ان کی قیادت عوام سے جھوٹ بول رہی ہے وہ جو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے شام میں ایران کے تمام اڈوں کو تباہ کردیا سفید جھوٹ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں خلیجی عرب شرم آور کردار بھی قابل توجہ ہےکیونکہ جو کچھ بحرینی وزیر خاجہ نے کہا وہ لفظ شرمندگی سے بھی زیادہ قباحت ہے اس انتہائی گھٹیا اور پست حرکت کے بارے میں یہ انتہائی درجے کی غلامانہ سوچ اور انتہائی حماقت ہے ۔

موصوف سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم شام میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں مقاومت ایک نئےمرحلے کا سامنا کررہی ہے اور اس حالیہ حملے نے اسرائیلی ہیبت اور غرور کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔

 انہوں نے مسئلہ فلسطین اورخلیجی بادشاہوں کی خیانتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور نکبہ کاستر سال قبل شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج تک دنیا کی تاریخ اورعرب حکمرانوں کی پیشانی پر ایک ننگ و عار کی شکل میں موجود ہے کیونکہ اس صدی کی سب سے بڑی ڈیل  کہ جس کا ٹرمپ کچھ ہفتوں میں اعلان کرنےجارہا ہے  میں مسلمانوں اورعربوں  کو اس ڈیل کو قبول کرنے کی دھمکی  دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ القدس کو بھول جائیں ۔

 انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے تمام عرب اور مسلم ممالک کو  اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے یا پابندیوں کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

 سیدنا مقاومت نے کہا کہ  ایرا ن پر دباؤ کا آخری مرحلہ ایٹمی معاہدے کے خاتمےسے شروع ہوا ہے اورایران پر دباؤ کا اصل مسئلہ اس کا میزائل پروگرام نہیں بلکہ فلسطینی مقاومتی تحریک کی مدد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدی کی سب سے بڑی ڈیل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ شام پر دباو بڑھتا رہے اور لبنان پر جنگ کے سائے منڈلاتے رہیں غزہ کی غذائی حالت محاصرے کے سبب یمنی حالت کے قریب ہے اور ان حالات میں  عرب خلیجی ممالک کی جانب سے اس ڈیل کے ساتھ تعاون کرنا  اور اس کا خطرناک حصہ مذہبی طور پر فراہم کیا جانا والا شیلٹر ہےاور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے میں مذہب کو ہتھیار بناکر استعمال کرنے کی خلیجی بادشاہتوں کی کوشش اس کا سب سے خطرناک حصہ ہے اور سعودی عرب کے مفتی ایسا بھی کہتے ہیں کہ قرآن میں اسرائیل کا لفظ درجنوں بار آیا ہے لیکن ایک بار بھی فلسطین کا لفظ نہیں آیا تو اب کیا کہا جائے گا سعودی عرب اس صدی کی سب بڑی ڈیل میں اسرائیل کی مدد کے لئے مذہب کو ہتھیار بناکر پیش کررہا ہے تاکہ فلسطینوں کے مقابل اسرائیلوں کا اس سرزمین پر حق ثابت کیا جاسکے اس صدی کی ڈیل کو صرف ایک چیز روک سکتی ہے اور وہ یہ کہ پوری دنیا کھڑی ہوجائے تو اس صدی کی ڈیل کو ناکام بنا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط ہی نہ کریں اس مرحلے سے گزرنے کے لئے ہمیں مزید استقامت اور ثابت قدمی دکھانی ہے خواہ ماردئیے جائیں جیلوں میں جانا پڑے بھوکا رہنا پڑے یامہاجر بننا پڑے ۔

حزب اللہ کے سربراہ نے مزید  کہا کہ تمام مقاومتی گروہوں کو چاہیے کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ استقامت دکھائیں کیونکہ ٹرمپ کے اس پلان کے تین اضلاع ہیں ٹرمپ ،نیتن یاہو،اورمحمد بن سلمان اور کوئی ایک بھی سقوط کر جائے تو پورا پلان نابود ہوجائے گا ان تینوں اضلاع کے تمام پلانز ناکام ہوچکے ہیں جو کچھ اسرائیلی شور مچارہے ہیں وہ صرف خالی ڈھول پیٹنا ہے  کیونکہ بزدل شور شرابے سے استفادہ کرتا ہے یعنی شور شرابے سے اپنا مورال بڑھانے کی کوشش کرتاہےاور اس وقت اسرائیل کی صورتحال ایسی ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی