نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


کہنہ مشق عرب تجزیہ نگار:

 نیوز نور22اکتوبر/ایک کہنہ مشق عرب تجزیہ نگار اور رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نتن یاہو کی دھمکیاں پھر سے شروع ہوگئی ہیں اور انہوں نے تل ابیب کے دورے پر جانے والے روس کے نائب وزیر اعظم میکسیم اکیموموف سے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی اور شام کو روس سے ایس 300 دفاعی سسٹم مل جانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج کے حملے جاری رہیں گے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق کہنہ مشق عرب تجزیہ نگار اور رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ ’’عبد الباری اطوان‘‘ نے کہا کہ نتن یاہو کی دھمکیوں کا ایک ہی ہدف ہے اسرائیل میں رہنے والوں کو یقین دہانی کرانا کیونکہ شام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے اسرائیل کے اندر لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے دوسری جانب حزب اللہ کی میزائل توانائی سے اسرائیلی فوج کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ ایران نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر شام میں ایرانی فوجی مشیروں پر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ روس نے شام کو ایس300 میزائل ڈیفنس سسٹم دے کر شامی فوج کو طاقتور بنا دیا ہے کہ وہ شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے اسرائیلی طیاروں کو سرنگوں کر دیں اورجب سے یہ سسٹم شام کو ملا ہے تب سے اسرائیل کے کسی بھی طیارے کے پاس شام کے اندر کوئی حملہ کرنے کی جراءت نہیں ہوئی ہے۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ اس وقت صیہونی حکومت اپنے شدید بحران کا سامنا کرنے کے لئے دو جہت میں مصروف ہے ایک تو صیہونی حکومت کی کوشش ہے کہ ماسکو میں صدر پوتین اور صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کی ملاقات ہوجائے اور تعلقات گزشتہ حالات پر واپس ہو جائیں دوسری کوشش یہ ہے کہ اسے ایسے سسٹم مل جائیں جن کی مدد سے ایس300 کو بے اثر بنا دیا جائے اور اسرائیلی طیارے شام کے اندر حملہ کر سکیں لیکن جہاں تک روسی صدر ولادیمیر پوتین سے نتن یاہو کی ملاقات کا سوال ہے تو اب تک اسرائیلی کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہ ملاقات نہیں ہو پائی کیونکہ صدر پوتین نے اب تک بارہا اس ملاقات سے انکار کیا ہےاگر چہ اسرائیل سے مسلسل تین بار اس ملاقات کے لئے ماسکو ٹیلیفونی رابطہ کیا گیا لیکن ماسکو سے یہی جواب ملا کہ صدر پوتین اس موضوع کا ابھی جائزہ لے رہے ہیں۔

کریملن ہاوس کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے کہا کہ صدر پوتین کے اس ملاقات کا وقت معین کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر دونوں رہنماؤں میں ملاقات ہو جاتی ہے تب بھی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ روس نے اسرائیل کی بات قبول کر لی ہے۔

رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ کے مطابق اگر دوسرے موضوع کی بات کریں یعنی ایس-300 میزائل ڈیفنس سسٹم کو بے اثر بنانے والے وسائل امریکہ سے حاصل کرنے کا مسئلہ ہے تو ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن اس مطالبے کو قبول کر لے لیکن اس کا براہ راست مطلب روس کو جنگ کی دعوت دینا ہے اور روس کو جنگ کی دعوت دینے کا مطلب یہ ہے کہ جواب کے لئے بھی طیار رہنا چاہئےاور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روس اس کے بعد ایس-400 میزائل شام کو دے دے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اب شام پر اسرائیل کوئی حملہ کرتا ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل سے اس کی براہ راست جنگ شروع ہو جائے اور نتن یاہو کو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر حسین سلامی کی نصیحت پر عمل کرنا پڑے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نتن یاہو کو بحیرہ روم میں تیرنے کی مشق کر لینا چاہئے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے ایام میں انہیں فرار ہونے کے لئے اسی راستے کا استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔

موصوف تجزیہ نگار کے مطابق نتن یاہو بحران میں ہیں اور اب ان پر مایوس کے اثرات صاف دکھائی دینے لگے ہیں وہ اسی مایوسی میں کھوکھلی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کی دھمکیوں میں کوئی دم خم نہیں رہا ہے۔

انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ  اگر نتن یاہو کے پاس ہمت ہے تو دھمکی دینے کے بجائے اپنے طیارے روانہ کر دیں انتظار کیوں کررہے ہیں؟وہ اسلئے کہ انہیں ایسے جوابی حملے کا خوف ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر پائیں گے اور اسرائیل سے یہودیوں کی مہاجرت شروع ہو جائے گی۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی