نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


رپورٹ:

 نیوزنور26اکتوبر/امریکہ میں ٹرمپ کے بدترین مخالفین کے گھروں اور دفاتر پر پائپ بم بھیجنے کے واقعات نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جن افراد کو گن پاوڈر بھرے بم بھیجے گئے ہیں ان میں سابق صدر براک اوباما، بل کلنٹن اور امریکی ٹیلی ویژن سی این این کا دفتر بھی شامل ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کے واشنگٹن میں واقع گھر اور کلنٹن کی نیویارک میں رہائش گاہ پر دھماکا خیز مواد بھیجا گیا تھا تاہم خفیہ سروس نے پہلے ہی انہیں قبضے میں لے لیانیویارک میں واقع ٹائم ورنر سینٹر سے بھی دھماکا خیز مواد ملنے کی اطلاعات ہیں جہاں سی این این کا نیوز روم واقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق  دھماکا خیز مواد سے بھرا پیکٹ سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کے نام بھیجا گیا تھا بم ملنے پر سی این این کے بیورو کو خالی کرالیا گیااگر چہ صدر ٹرمپ نے ابتدا میں نائب صدر مائیک پنس کے مذمتی بیان ہی کو ری ٹوئٹ کیا تاہم بعد میں کہا کہ اس گھڑی میں سب لوگوں کو متحد ہو کر پیغام دینا چاہیے کہ سیاسی تشدد کی امریکا میں جگہ نہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے ان ڈیوائسز کو پائپ بم قراردیا ہے ان بموں میں گن پاوڈر بھرا ہوا تھا جس کے ایک جانب ڈیجیٹل گھڑی لگی ہوئی تھی اور سیاہ ٹیپ چڑھائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق نیو یارک کے مئیر بل ڈی بلاسیو نے ان واقعات کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد صحافت کو کچلنے اور سیاستدانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہےاور ان سے نمٹنے کے لیے نفرت کا پرچار ختم کرنا ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیلی فورنیا کی رکن کانگریس میکسین واٹرز اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی سابق چیئرپرسن ڈیبی واسر مین شولز کو بھی دو مشتبہ پیکٹ بھیجے گئے ہیں اور ایسا ہی پیکٹ سابق اٹارنی جنرل ایریک ہولڈرز کو بھی بھیجا گیا ہے ہولڈرز کا دفتر بھی خالی کرانا پڑاجبکہ ایک روز پہلے ایسا ہی ڈیوائس امریکہ کے ارب پتی تاجر جارج سورس کے گھر سے بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بم موصول ہونے کی تردید کی ہے اور پائپ بم بھیجنے کے واقعات کو پر تشدد حملے قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے6نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے دو ہفتے پہلے بھیجے گئے ان پائپ بموں کے بارے میں حکام کا خیال ہے کہ تمام بم ایک ہی شخص کی جانب سے بھیجے گئے ہیں اور مزید بم برآمد ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی