نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر:

نیوز نور نومبر/تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر اور اسرائیلی تجزیہ نگار نےکہا ہےکہ مقاومتی محاذ اور شام اتنی مضبوط پوزیشن میں ہے کہ اسرائیل کی کوئی بھی غلطی خودکشی ثابت ہوگی۔  

 عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق’تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر اور اسرائیلی تجزیہ نگار’’ایال زیسر‘‘نے اسرائیل ٹو ڈے میں شائع اپنے ایک مضمون میں کہا کہ جب شامی فوج نے جولان کی پہاڑیوں کے کچھ حصوں کو تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرایا تو اس وقت اسرائیل کو چاہئے تھا کہ وہ مداخلت کرتا اور شامی فوج کو یہ آپریشن کرنے سے روک دیتا  بشارالا سد نے تل ابیب کی کوئی بھی شرط قبول کئے بغیر ہی جولان کی پہاڑی والے علاقے کو واپس لے لیا جو 2011 کے بعد شامی فوج کے قبضے سے نکل گئے تھے جسکی وجہ سے مقاومتی محاذ اور شام اتنی مضبوط پوزیشن میں ہے کہ اسرائیل کی کوئی بھی غلطی خودکشی ثابت ہوگی۔  

شامی امو کے ماہر کہے جانے والے زیسر نے کہا کہ ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے وسیع شجاعانہ فیصلے کی ضرورت ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی توجہ رکھنی ہوگی کہ مشرق وسطی میں کوئی نئی جنگ کا آغاز نہ ہونے پائے ۔ اور اُ ن کے خیال میں  اسرائیلی حکومت کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے ۔

صرف زیسر ہی نہیں  بلکہ بہت سے تجزیہ نگار اس وقت یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بری طرح محاصرے میں آ گیا ہے کیونکہ اسرائیل  نے تشدد اور غاصبانہ پالیسیوں کے ذریعے وجود میں آنے والے اپنے ناجائز وجود کو باقی رکھا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں پر رد عمل بھی ضرور ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ کے حالات ایسے ہیں کہ وہاں کے باشندے فلسطینی ہر جمعے کو مظاہرے کر رہے ہیں جن کے اہل خانہ کو صیہونی حکومت ان کے گھروں سے بے دخل کرکے ان کے گھروں میں صیہونیوں کو آباد کر دیا ہے ۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ شام کے محاذ پر اسرائیل کی پوزیشن بہت خراب ہے کیونکہ شام اس سازش کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے جو امریکہ، برطانیہ، فرانس جیسے ممالک نے ترکی، قطر اور سعودی عرب جیسے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر تیار کی تھی ۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسرائیل کے تعلقات اردن اور مصر کی حکومتوں سے تو ہیں تاہم ان دونوں ممالک کے عوام اسرائیل کو آج بھی غیر قانونی حکومت مانتے ہیں اور ایسے حالات میں اسرائیل کے لئے اپنا وجود باقی رکھ پانا سخت ہو گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہےاور امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کو اسرائیل کی اس حالت کا پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا اسی بنا پر انہوں نے 1967 کی سرحدوں پر اسرائیل اور فلسطین کے قیام کی بات کہی تھی جس کی صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو نے مذمت کی تھی ۔

 ایال زیسر نے مزید کہا کہ نتن یاہو توسیع پسندی کی پالیسی پر گامزن ہیں اور انہوں نے اسرائیل کو ایسی حالت میں پہنچا دیا ہےکہ اسرائیل کا وجود باقی رہ پانا سخت ہو گیا ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی