نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


تحریرمصی ریان:

نیوزنور06نومبر:واشنگٹن پوسٹ کی ایک دفاعی تجزیہ کار نے اپنے ایک مقالے میں  لکھا کہ :امریکی  فوجی افسران مشرق وسطیٰ علاقے میں امریکہ کی سکڑتی فوجی موجودگی پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں جس کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کی ان کی صلاحیتیں کمزور پڑ گئی ہیں وہ بھی ایسی حالت میں جب ٹرمپ انتظامیہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے تیل اوربینکنگ سیکٹر پر دوبارہ پابندیاں عائد کررہے ہیں۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق  ’’مصی ریان ‘‘نے اپنے ایک مقالے میں  لکھا کہ : امریکی  فوجی افسران مشرق وسطیٰ علاقے میں امریکہ کی سکڑتی فوجی موجودگی پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں جس کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کی ان کی صلاحیتیں کمزور پڑ گئی ہیں وہ بھی ایسی حالت میں جب ٹرمپ انتظامیہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے تیل اوربینکنگ سیکٹر پر دوبارہ پابندیاں عائد کررہے ہیں۔

ایسے وقت میں جب امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیل اوربینکنگ سیکٹر پر پابندیاں عائد کررہا ہے پنٹاگن کا علاقے سےجنگی کشتیوں ،جنگی طیاروں اور میزائل دفاعی نظام کو علاقے سے ہٹانے کے فیصلے سے فوجی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہےاگرچہ امریکی حکام کا یہ خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقے میں امریکی فورسز پر طویل عرصے تک بڑے پیمانے پر حملوں کو برقرارنہیں رکھ سکتا ہے تاہم انہیں اس بات کی تشویش ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں یا بارودی سرنگوں کےذریعے عالمی تجارت کیلئے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل راستوں کو بند کرسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ علاقے میں  امریکی اثرورسوخ زوال پذیر ہے  کیونکہ  ٹرمپ کےد ور صدارت میں پنٹاگن کی اسٹریٹجی انتہا پسند گروہوں کہ جن پر 9/11 حملے کے بعدتوجہ مرکوز کی جاتی رہی ہے کے بجائے چین اورروس کا  مقابلہ کرنے پر مبنی ہے ۔

جوہری معاہدے سے ٹرمپ کے نکلنے کا فیصلہ اور شام سے ایرانی فورسز کو نکالنے کی کوششوں  سے متعلق بعض فوجی حکام کا ماننا ہے کہ  ان کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان تصادم  کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے مشرق وسطیٰ میں  امریکی سینٹرل کمانڈ جو مشرق وسطیٰ میں امریکی آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے نے پنٹاگن سے  مزید وسائل کی درخواست کی ہے۔

گذشتہ مار چ سے مشرق وسطیٰ علاقےمیں امریکی افواج  کا کوئی بھی  آئیر کرافٹ کیریر موجود نہیں ہے فوجی حکام کے مطابق پنٹاگن نے علاقے سے بعض جدید ایف 22 جنگی طیاروں کے علاوہ بہت سے پیٹریاٹک میزائلوں کے ایک بڑے حصے کو علاقے سے نکالا ہے۔

آبنائے ہرموز جسے اسلامی جمہوریہ ایران  نے بارہا بند کرنے کی دھمکی دی ہے  کو کھلا رکھنے کی امریکی افواج کی صلاحیتیں بعض فوجی حکام کی بنیادی تشویش ہے۔

ایک فوجی اہلکار نےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کا اقتصادی اور سفارتی محاصرہ کررہی ہے  اسلئے یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی ردعمل  کیا ہوگا۔

امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس آر روزویلٹ کا موسم بہار میں پیسفیک میں تعیناتی کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا کوئی بھی طیارہ بردار جہاز موجود نہیں ہے اور یہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہے جب اس علاقے میں امریکہ کا  اس قسم کاکوئی جہاز موجود نہیں ہے فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض  طیارہ بردار جہاز کی طاقت نہیں  ہے بلکہ دیگر بحری وہوائی جہازوں اوراثاثوں کو لانے کی اس کی صلاحیت ہے۔

سینٹ کام کے کمانڈر جوزف ووٹل  نےتاہم علاقے میں امریکی افواج کی کمی کے بارے میں بات کرنے سے معذرت کی ان کا کہنا ہے کہ وہ چین اورروس کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کی امریکی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

جبکہ دوسری اور بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت علاقے میں  امریکہ کی چار جنگی کشتیاں موجود ہیں جس میں ایک کا کام آبنائے مندب کو حوثیوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا ہے  ایران کے پاس اس وقت کم ازکم ایک ہزار جنگی کشتیاں موجود ہیں  جنہیں اسلامی جمہوریہ ایران مسلسل امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے ایرانی فوج میں آبنائے ہرموز میں ہزاروں مائینز بچانے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔

امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ ایران ایک ہفتے سے کم عرصے میں ایک ہزارمائینز بچاسکتا ہےآبنائے ہرموز کو بند کرنے یا اسے ٹرانزٹ کےاستعمال کیلئے مشکل بنانے کیلئے  ان مائینز کی چھوٹی سی تعداد کی ضرورت ہےاگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس روسی وچینی ساخت کے آبدوزیں موجود ہیں جو زیر آب امریکی صلاحیتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی تاہم  ان آبدوزوں کوآبنائےہرموز میں تعینات کرکے تجارت کے اس اہم راستے کو بند کیا جاسکتا ہے۔

مشترکہ چیفس  کے ترجمان کرنل پیٹرک رائیڈر کا کہنا ہے کہ خطے میں فوجی اتحاد اور ان کی صلاحیتوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے تاہم ایران کی بڑھتی میزائل طاقت باعث تشویش ہے۔

جہاں امریکی اہلکاروں نے  مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیتوں کو سوال اُٹھایا ہے تاہم شام میں دہشتگردوں پر ایرانی میزائل حملے جو محض 5کلو میٹر امریکی افواج کی دوری پر انجام پائے ایران کی میزائل صلاحیتو ں کا مظہر ہے ۔

ان حملوں کے بعد ایرانی فورسز نے  ایک بیان میں کہاکہ یہ میزائل حملے  ایران کی میزائل طاقت سے متعلق خطے میں دشمنوں کیلئے واضح پیغام ہے۔

 ان میزائلوں نے جو فاصلہ طے کیا  اسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطر ،بحرین ،متحدہ عرب امارات میں امریکہ کی فوجی بیسز  بھی محفوظ نہیں ہیں امریکی حکام کواس بات پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ دو ہزار کلو میٹر کے فاصلے  داغےگئےایران کے میزائلوں کو مار گراسکتے ہیں۔

رواں سال میں  پنٹاگن نے چار پیٹریاٹک میزائلوں کو علاقے سے ہٹادیا جبکہ ایک میزائل کو گرانے کیلئے کئی میزائل شکن  پروجیکٹروں  کی ضرورت ہوتی ہےبارودی سرنگوں کو ناکارہ کرنے کیلئے  امریکہ کے پاس بحرین میں خصوصی ہیلی کاپٹرس موجود ہیں لیکن آبی راستوں کو محفوظ کرنے کی  ان کی صلاحیتوں کو  ایرانی میزائل اور جنگی کشتیوں سے سست کیاجاسکتا ہے۔

پنٹاگن کی سابق اہلکار اور جانز ہوپکنز اسکلو ل میں انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی پروفیسر مارا کرلن کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے نکلنے کے ٹرمپ کے فیصلے کے بعدایران کے ساتھ تصادم کے امکانات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر آپ جامع مشترکہ ایکشن پلان کو سبوتاژ کرتے ہیں تو اس صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تصادم کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی