نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے


شامی تجزیہ کار:

نیوز نور 21 مئی /مشرق وسطیٰ امور کے ایک شامی ماہر نے کہا ہے کہ شام پر امریکہ اوراسرائیل کی جارحیت کا مقصد شامی فوج  کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ اس میں مقبوضہ جولان علاقے کو آزاد کرانے کی صلاحیت نہ رہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’اسٹیفن سہرون‘‘نےکہا کہ شام پر امریکہ اوراسرائیل کی جارحیت کا مقصد شامی فوج  کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ اس میں مقبوضہ جولان علاقے کو آزاد کرانے کی صلاحیت نہ رہے۔

انہوں نے کہاکہ  تل ابیب اورواشنگٹن کو شام پر ہر جارحیت کے تباہ کن نتائج سے  آگاہ رہنا چاہئے ۔

انہوں نےسعودیہ کو شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہوں کا اہم فائنساسر قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں اس وہابی رژیم کے طاقت اوراثرورسوخ کا اس وقت تک زوال  جاری رہےگا جب تک ریاض اپنی  پالیسی  تبدیل نہیں کرتی ۔

شامی تجزیہ نگار نے کہاکہ  سعودی رژیم شام کی قانونی حکومت کو گرانے میں  ناکام رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ شام میں  جاری تنازعہ  امریکہ کا منصوبہ ہے جسے   اس نے سعودی عرب کے ذریعے لاگو کرنے کی کوشش کی اور اگر  سعودی وہابی رژیم امریکہ کے اس منصوبے کی مخالفت کرتی تو یقینی طورپر خو د24 گھنٹوں میں سعودی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جاتا ۔

انہوں نے کہاکہ میرا عقیدہ ہے کہ شامی تنازعہ  سعودی پالیسی نہیں بلکہ ایک امریکی خارجہ پالیسی ہے جس میں سعودی عرب کو مجبوراً کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے  شام پر صیہونی حکومت کی مسلسل جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ غٖاصب رژیم شام میں افراتفری اور اس ملک کی تباہی کویقینی بنانا چاہتی ہے تاکہ مقبوضہ جولان علاقے پراس کے ناجائز قبضے کی راہ ہموار ہوسکے۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ شامی فوج کو کمزور کرکے امریکہ اوراسرائیل صدر بشارالاسد کی حکومت کو گرانے کے اپنے شیطانی منصوبے کامیاب ہوچکے  ہوتے لیکن شامی قوم  ،عوام اورقیادت سات سالوں سے  دشمنوں کی جارحیت کا پوری استقامت کےساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔

 واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی