نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے


روزنامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ:

 نیوزنور۲۰ نومبر/مشہور عربی اخبار رائے الیوم  کے مدیر اعلیٰ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ واشنگٹن حکومت مخالف سعودی صحافی جمال خاشقچی کے قتل کے معاملے کو خاموش کرنے کے بدلے میں فتح اللہ گولن کو انقرہ کے حوالے کرنے کا جائزہ لے رہا ہے ۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کےمطابق رائے الیوم  کے مدیر اعلیٰ و کہنہ مشق عرب تجزیہ نگار ’’عبد الباری اطوان‘‘نے اپنے میں  لکھا کہ واشنگٹن علاقے میں اپنے اتحادیوں اور خاص طور پر اپنے اصل مہرے یعنی محمد بن سلمان کو بچانے کی اپنی پالیسی کے تحت ترکی کے حکومت مخالف مبلغ فتح اللہ گولن کو انقرہ کے حوالے کرکے اس سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ وہ خاشقچی کے معاملے کو بند کر دے ۔

 اطوان کے مطابق  ترکی اور امریکہ کے تعلقات اور ان میں آجکل ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا بہت مشکل ہے کیونکہ خاشقچی قتل کیس کے بارے میں دونوں کے نزدیک ہماہنگی اور ترکی کے رخ کی جانب امریکی حکام کے رجحان کے باوجود ترکی کے جنگی طیاروں نے مشرقی فرات کے علاقے میں امریکی حمایت یافتہ کردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے  تو اس تضاد کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ کاش صرف اتنی کی پیچیدگی ہوتی  گزشتہ جمعے کو امریکہ کے این بی سی ٹی وی چینل نے اچانک ہی ایک رپورٹ نشر کرکے سبھی کو حیران کر دیا اور اس رپورٹ نے متعدد سوال پیدا کر دیئےاس رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کو خوش کرنے اور خاشقچی قتل کیس میں سودے بازی کے لئے فتح اللہ گولن کو ترک حکام کے حوالے کرنے کے بارے میں قانونی چارہ جوئی کا جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ  فتح اللہ گولن اور ان کی پارٹی ترکی میں  بقول رجب طیب اردوگان ناکام فوجی بغاوت کے اصل ملزم ہیں  اس خبر پر ترکی اور دیگرممالک نے وسیع پیمانے پر رد عمل ظاہر کیا ہے کیونکہ اس سے ترک حکام کی جانب سے امریکی پادری اینڈرو برنسن کی رہائی کی یاد تازہ ہو گئی حالانکہ ترکی نے برنسن کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی حمایت کا دعوی کیا تھا  کچھ خبروں سے تو یہ بھی اشارہ مل رہا تھا کہ امریکی پادری کو اس لئے گرفتار کیا گیا تھا تاکہ اس کا اور گولن کا لین دین کیا جا سکے ۔

موصوف تجزیہ نگار کے مطابق ترکی اب بھی خاشقچی قتل کیس میں عالمی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس نے اس معاملے میں سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانے والی ہر داستان کو مسترد کر دیا ہے  سعودی عرب صرف پانچ لوگوں کو خاشقچی کے قتل کا ذمہ دار مانتا ہے جن میں سب سے اہم سعودی عرب کے خفیہ شعبے کا نائب سربراہ احمد العسیری ہے  ریاض کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے شہزادہ محمد بن سلمان کا کوئی واسطہ نہیں ہے جبکہ نیویارک ٹائمز نے بھی حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں جمال خاشقچی کے قتل کے وقت کے تین آیڈیو فائلز کے حوالے سے اس معاملے میں کچھ نئی باتوں کا انکشاف کیا ۔

اخبار کے ذرائع کے مطابق استنبول میں سعودی قونصل خانے میں خاشقچی کے قتل کے فورا بعد ان کا قتل کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے اپنے سیٹیلائٹ فون سے اپنے حکام سے کہا تھا کہ اپنے باس (ممکنہ طور پر محمد بن سلمان) سے کہہ دو کہ آپریشن پورا ہوگیا اور یہ آیڈیو فائل جسے سی آئی اے کی سربراہ جینا ہیسپل بھی سن چکی ہیں خاشقچی قتل کیس میں محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے بہت کی پختہ ثبوت ہے  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ اس فائل میں محمد بن سلمان کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن امریکہ کے خفیہ شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ اس میں باس سے مراد محمد بن سلمان سے ہی ہے ۔

واضح رہے کہ سعودی حکام نے استنبول میں اپنے قونصل خانے میں خاشقجی کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے لیکن اس نے اس کا الزام اپنی مرضی سے کام کرنے والے عناصر پر ڈالا ہے  اب یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی نے اپنے مہرے محمد بن سلمان کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے کیا اقدام کر سکتا ہے؟

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی