نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے


عبد الباری اطوان:

نیو نور29نومبر/کہنہ مشق عرب تجزیہ کار اور رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ نے اپنے ایک مقالے میں غزہ پٹی کے عصر حاضر کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت  یہ بڑا سوال ہے کہ غزہ  پٹی  میں  فلسطینی  تنظیموں  نے  اسرائیل  کے ساتھ  تصادم  میں  جو بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور  اسرائیل  کے خفیہ مشن کو ناکام  بنایا  ہے  نیز صیہونی  کالونیوں  پر 450 سے زائد میزائل فائر کئے ہیں تو  اب آگے کے حالات کیا  ہوں   گے؟

عالمی اردو خبر رساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق کہنہ مشق عرب تجزیہ کار اور رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ ’’عبد الباری اطوان‘‘نے اپنے ایک مقالے میں غزہ پٹی کے عصر حاضر کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا پھر سے تصادم شروع ہو جائے گا اور کیا بنیامین نتن یاہو اسرائیلی رائے عامہ کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہیں کہ فوج کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کریں گے؟

انہوں نے حماس کے ایک اعلی عہدیدار کے بیان کہ آنے والے دنوں میں بہت کم کی امکان ہے کہ غزہ پٹی کے خلاف اسرائیل کوئی انتقامی کاروائی کرنے کی ہمت کرے گا کیونکہ اسرائیلی قیادت کو اچھی طرح یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ اس نے ایسا کوئی قدم اُٹھایا تو اسرائیل کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہےلکھا ہے کہ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ اسرا‏ئیلی خفیہ ایجنسی موساد امریکہ کی مدد سے حماس کے اعلٰی عہدیداروں میں سے کسی پر حملہ کرنے کی کوشش کرے ۔

انہوں نے لکھا کہ یہی سبب ہے کہ امریکہ نے تین بڑے رہنماؤں کے بارے میں اعلان کیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے بارے میں کوئی دقیق اطلاع دے تو اسے 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گاجن میں سے دو کا تعلق حزب اللہ لبنان سے اور ایک کا تعلق حماس سے ہےاور اس لسٹ میں حماس کے پولیت بیورو کے ڈپٹی چیف صالح العاروری کا نام ہے۔ 

اطوان کے مطابق غزہ پٹی سے جو خبریں موصول ہو رہی ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی تنظیمیں پوری طرح الرٹ ہیں اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فلسطینی تنظیمیں اس وقت جنگ کا آغاز چاہتی ہیں اس لئے کہ اس وقت اسرائیل خود ہی سیاسی بحران میں پھنسا ہوا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی حکومت پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ جس طرح نتن یاہو بحران میں ہیں اسی طرح اسرائیل سے سیکورٹی ہماہنگی کرنے والی فلسطینی انتظامیہ بھی شدید بحران کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ انتظامیہ خود کو اس وقت پوری طرح حاشیے پر دیکھ رہی ہے محمود عباس نے غزہ پٹی پر اقتصادی دباؤ ڈال کر اسے جھکانے کی کوشش کی تھی تاہم غزہ پٹی میں بند پڑے بجلی گھر کو پھر سے  شروع کرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ نے لے لی نیز قطر نے غزہ پٹی کو 15 ملین ڈالر کی رقم پہنچا دی جس سے حماس نے چھ مہینے سے رکی ملازمین کی تنخواہیں دے دی ہیں تو اب یہ اقتصادی دباؤ بھی ختم ہو گیا ہے ۔

عبد الباری اطوان نے لکھا کہ غزہ میں فلسطینی تنظیموں کو اس بار صرف میدان جنگ میں کامیابی نہیں ملی بلکہ ان کی سیاسی اور نفسیاتی فتح بھی ہے اس کےبعد حماس اور جہاد اسلامی تنظیموں کی عوام کے نزدیک زبردست مقبولیت  48 گھنٹے تک جاری تصادم سے پہلے کی صورتحال کی بہ نسبت کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔

انہوں نے لکھا کہ صرف کورنیٹ میزائل نے ہی جس نے اسرائیلی بس کو نشانہ بنایا پورے اسرائیل میں زلزلہ پیدا کر دیااور اگر یہی میزائل حملہ اسرائیلی فوجیوں کے بس سے اترنے سے پہلے کیا جاتا تو شاید اسرائیل کا خوف کئی گنا بڑھ جاتا لیکن غزہ میں فلسطینی تنظیموں کے وار روم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت نتن یاہو کو بس بڑا پیغام دینا ہے کہ فلسطینی تنظیموں کے پاس اس طرح کے میزائل ذخیرہ موجود ہے جو انہیں حزب اللہ لبنان سے تحفے میں ملا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ بھی واضح ہے کہ نتن یاہو نے اس پیغام کو اچھی طرح سمجھ لیا اور جنگ بندی کے لئے فوری کوششیں شروع کر دیں اسرائیل کی تاریخ میں اس کی مثالیں بہت کم ہیں ۔

عبد الباری اطوان نے اپنے مقالے میں مزید لکھا ہے کہ اس 48 گھنٹے کی جنگ نے غزہ اور اسرائیل کی صورتحال بدل کر رکھ دی ہے اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کا نہیں بلکہ فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے ۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی