نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین مضامین
تازہ ترین تبصرے

 اس شب سے بہرہ مند ہونے کے لیے تیار ہونا چاہیے ؛

نیوزنور:۱۵ شعبان کی آمدہے اور یہ ماننا چاہیے کہ ۱۵ شعبان وہ دن ہے کہ جس کے استقبال کے لیے تیار ہونا چاہیے ، اور یہ جان لینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ کتنی فضیلت کی رات ہے جو ہمارے شامل حال ہونے والی ہے ۔ ان چند گھنٹوں کے لیے کہ جو شب قدر کے برابر فضیلت کے حامل ہیں  جس طرح ہم آہستہ آہستہ گلی کوچوں کو سجا رہے ہیں .......

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ۱۵شعبان کی آمد ہے اور یہ ماننا چاہیے کہ ۱۵ شعبان وہ دن ہے کہ جس کے استقبال کے لیے تیار ہونا چاہیے ، اور یہ جان لینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ کتنی فضیلت کی رات ہے جو ہمارے شامل حال ہونے والی ہے ۔ ان چند گھنٹوں کے لیے کہ جو شب قدر کے برابر فضیلت کے حامل ہیں  جس طرح ہم آہستہ آہستہ گلی کوچوں کو سجا رہے ہیں اسی طرح  ہمیں آہستہ آہستہ اپنے دلوں کو بھی تیار کرنا چاہیے تا کہ اس رات کی حقیقت کے ایک گوشے کو درک کر سکیں ۔

شیخ حر عاملی نے شیعہ بزرگوں سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : وہ رات کہ جس میں حضرت قائم علیہ السلام کی ولادت ہوئی اس میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ مومن ہوتا ہے اور اگر وہ سرزمین کفر میں پیدا ہو تو خدا اسے امام مہدی ع کی برکت سے ایمان کی طرف منتقل کر دے گا ۔ (۱)

۱۵ شعبان میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت ،اور اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت مستحب ہے ،امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ؛

شب قدر کے بعد ۱۵ شعبان کی رات سب سے اچھی رات ہے اور نماز عشاء کے بعد اس شب میں دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے کہ جس میں پہلی رکعت میں سورہء حمد کے بعد کافرون اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد توحید پڑھی جاتی ہے (۲) اس شب میں غسل ،شب بیداری اور عبادت کی بہت فضیلت ہے اس رات کا خدا کے نزدیک وہ مقام ہے   کہ امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت اس رات کی سحر میں ہوئی ہے جس نے اس کی رونق اور عظمت میں اضافہ کر دیا ہے ۔

ساتھ ہی کچھ روایتیں ہم تک پہنچی ہیں کہ ۱۵ شعبان کی رات وہی شب قدر اور رزق اور عمر تقسیم کرنے کی رات ہے ان میں سے بعض روایات میں آیا ہے کہ ۱۵ شعبان کی رات آئمہ علیھم السلام کی رات ہے ،قدر کی رات ہے اور رسول خدا ص کی رات ہے ۔

اس شب کے فضائل یہ بھی ہیں کہ یہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی مخصوص رات ہے کہ جس میں ایک لاکھ پیغمبر آنحضرت علیہ السلام کی زیارت کرتے ہیں ۔

ایک مستحبی نماز اس رات میں  دو رکعت نماز ہے کہ جس میں ہر رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھی جاتی ہے ۔

نقل ہوا کہ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ؛  ۱۵ شعبان کی رات کو میں نے  خواب میں دیکھا کہ جبرئیل نازل ہوئے ہیں اور فرمایا ؛ اے محمد ! اس رات میں آپ سو رہے ہیں ؟ میں نے پوچھا ؛ یہ کیسی رات ہے ؟

فرمایا ۱۵ شعبان کی رات ہے ، آپ اٹھیے ؛ اس نے مجھے اٹھایا اور بقیع میں لے گیا اور اس کے بعد جبرئیل نے فرمایا ؛ اپنے سر کو اٹھاو ، اس لیے کہ آج کی رات آسمان میں خدا کی رحمت کے دروازے اپنے بندوں پر کھلے ہوتے ہیں ، اسی طرح رضایت کا دروازہ ، بخشش کا دروازہ ،فضل کا دروازہ ،توبہ کا دروازہ ،نعمت کا دروازہ ،جودو سخاوت کا دروازہ ، اور احسان کا دروازہ کھلا ہے ۔ خدا آج کی رات چرنے والوں کی اون اور بالوں کے برابر اپنے گنہگاروں کو آزاد کرتا ہے عمروں کا خاتمہ اس رات میں ہوتا  ہے ، ایک سال کی روزی اس رات میں تقسیم ہوتی ہے اور ایک سال کے واقعات اس رات میں معین ہوتے ہیں ۔

اے محمد !جو کوئی اس رات  کو تکبیر ، تسبیح ، تہلیل ، دعا ، نماز قرائت قرآن اور اطاعت و خضوع اور استغفار میں بسر کرتا ہے جنت اس کا گھر اور ٹھکانہ بن جاتا ہے ۔ اور خدا اس کے گذشتہ اور آیندہ گناہ معاف کر دیتا ہے ۔۔۔ اے محمد !( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شب کو بیدار رہو اور اپنی امت کو حکم دو کہ وہ بھی اس رات میں بیدار رہیں اور عمل کے ذریعے خدا کا قرب حاصل کریں ۔ اس لیے کہ یہ رات بہت مبارک رات ہے ۔

اس شب کے اعمال میں دعائے کمیل کو سجدے کی حالت میں  پڑھنا  ہے روایت کی گئی ہے کہ کمیل نے کہا کہ  میں نے حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ ع ۱۵ شعبان کی رات سجدے میں دعائے کمیل پڑھی ۔

اس رات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں آپ ع کی قبر مبارک کے پاس  اگر ممکن ہو تو نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسین علیہ السلام ،کو اور ان کے مقصد کو اور ان کی شہادت کے مقصد کو پہچانتا ہو کہ جو امت کی نجات کا باعث بنی ہے اور عظیم کامیابی تک پہنچنے کا وسیلہ اور رہنما بنی ہے ،خلاصہ یہ کہ اس کی عبادت اس رات میں خدا کی طرف توجہ اور اس کے عشق اور اس کی معرفت کے ساتھ ہو ، تو وہ اس طرح خود کو خدا کے حضور میں خاضع کرے گا  کہ جو اس کی شان ہے  نیز خدا سے وہ اپنی جائز حاجتیں مانگے گا ۔

حوالے ،

۱ ۔ توضیح المقاصد شیخ بھائی ، ص ۵۳۳ ،

۲ ۔ اثبات الھدات ، ج ۷ ص ۱۶۲ ،

۳ ۔ اقتباس از کتاب المراقبات ، نوشتہء مرحوم حاج میرزا جواد تبریزی ص ۷۹ ،

   

شعبان

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی