نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
محبوب ترین مضامین
تازہ ترین تبصرے


شمالی کوریا کی ایک اعلیٰ عہدے دار:



نیوزنور24مئی/شمالی کوریا کی ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے احمقانہ بیانات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے  کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوتی ہے تو پھر ممکنہ جوہری قوت کا برملا مظاہرہ ہوگا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی اعلیٰ عہدے دار’’چھوئے سن ہی‘‘ نے کہا  کہ پیانگ یانگ امریکہ سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا اور نہ ہی اسے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے قائل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک جلدی مذاکرات کی میز پر نہیں آجائیں گےتوپھر جوہری قوت کا برملا مظاہرہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے اس کے یک طرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر اصرار کیا توامریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان12 جون کوسنگاپور میں ہونے ولی ملاقات ملتوی ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس چیز کے قوی امکانات موجود ہیں کہ آئندہ ماہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات نہ ہو پائےکیونکہ اس ملاقات سے قبل شمالی کوریا کو کچھ شرائط پر عمل کرنا ہو گا اگر ایسا نہیں ہوا تو شاید ملاقات بعد میں کبھی ہو۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے رد عمل میں چھوئے سن ہی نے کہا  کہ مائیک پینس نے حالیہ دنوں میں میڈیا پر بے لگام اور بیباک بیانات دیے جن میں شمالی کوریا کا حال لیبیا جیسا ہوگا بھی شامل ہے۔

ادھر واشنگٹن میں موجود چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا  کہ امریکہ کے پاس شمالی کوریا کے ساتھ امن معاہدہ کرنے اور تاریخ رقم کرنے کا یہی وقت ہےتاہم امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ انہیں اُمید ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان طے شدہ ملاقات اب بھی ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل مائک پومپیو نے ہی کہا تھا کہ امریکہ ان مذاکرات کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے اور برا معاہدہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا  کوخیر سگالی کے طور پر رواں ہفتے ایک جوہری تنصیب کو ختم کرنا تھا لیکن خراب موسم کے باعث یہ کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی ہےلیکن شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیے کہ اس کے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں اشتعال انگیز اور حملے کی تیاری ہیں۔

واضح رہے کہ  پیانگ یانگ نے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات شاید شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے  اسکے ساتھ لیبیا جیسا ماڈل استعمال کیا جائے گا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے شمالی کوریا کمی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے ا سخت ردعمل کا سامنا ہوگاتاہم بعد میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ لیبیا جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی