نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۱ ژانویه ۱۹، ۱۴:۱۱ - گروه مالی آموزشی برادران فرازی
    خیلی جالب بود


یمنی عالم دین :

 نیوزنور 7جنوری/ یمن کے ایک عالم دین  نے کہا ہےکہ بعض عرب حکمران آج ببانگ دہل یہودی ریاست کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعلقات کے قیام کے نغمے گاتے ہیںاور اُن کا اصلی ہدف اپنے لرزتے کانپتے تاج و تخت کو محفوظ اور اپنی حکمرانی کو بچانا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق یمنی عالم دین ’’ شیخ عبدالسلام الوجیہ‘‘ نے کہا کہ ایک صدی سے حج کا انتظام سعودیوں کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ اس میں ناکام ہوچکے ہیں اور حج اپنی اصلی روح سے خالی ہوچکا ہے اور یہ حج مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کا سبب نہ بننے اور دشمنان دین و اُمت کے خلاف مؤقف اپنانے سے عاجز ہےصرف  یہی نہیں بلکہ بنی سعود حرمین شریفین کو عربوں اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی اور نسل پرستی کی ترویج کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے موجودہ صورت حال میں یہودی ریاست کے ساتھ عرب حکومتوں کے تعلقات قائم کرنے کے مقصد کے حوالے سے کہا کہ کٹھ پتلی اور وابستہ حکومتوں کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اصل مقصد ان حکمرانوں کے لرزتے کانپتے تاج و تخت کا تحفظ اور اپنے اقتدار کی  بقاء ہے وہی تاج و تخت جو ابتداء میں بھی مغربی استعمار نے اسلامی اُمت کے مقدرات اور وسائل پر تسلط جمانے کے لئے انہیں عطا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں کو اقتدار مغرب نے دیا ہے اور سب جانتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے استعمار و استکبار کے ہاتھوں علاقوں کی تقسیم کی تاریخی سازش سے جنم لیا ہے تا کہ چھوٹی چھوٹی کٹھ پتلی ریاستیں معرض وجود میں آئیںان ہی سے وابستہ اور ان ہی کے دست نگر رہیں اور ان کی سازشوں پر بلا چون و چرا عملدرآمد کیا کریں اور عالم اسلام کی دولت، وسائل اور مستقبل کو اسلام دشمن طاقتوں کے سپرد کیا کریں۔

انہوں ن ے کہا کہ یہ نظام ہائے حکومت گمان کرتے ہیں کہ یہودی ریاست اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی انہیں اقوام کی بیداری اور مسلمانوں کے انقلاب غیظ و غضب کے آگے ان کی بقاء کی ضمانت دے گی۔

موصوف عالم دین نے  عرب ممالک کی فلسطین اور قبلہ اول سے علی الاعلان غداری ، امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے یہودی داماد جیرڈ کوشنرکےاس عربی رجحان میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہودی ریاست کا سب سے پہلا اتحادی تھا اور ہے جبکہ برطانیہ اس کا بانی تھا جس کا کردار امریکہ نے سنبھالا اور آج بھی عالم اسلام کے قلب میں واقع اس سرطانی پھوڑے کی حمایت میں برطانیہ کے متبادل کا کردار ادا کررہا ہےامریکی صدور اور حکومتیں یکے بعد دیگرے یہودی ریاست کی حامی رہی ہیں اور فلسطینی قوم کے خلاف مختلف حربے نیز اپنی ابلاغیاتی، عسکری، فکری، ثقافتی اور سیاسی طاقت استعمال کی ہےاور انہوں نے آج تک تمام بین الاقوامی فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سلامتی کونسل میں اپنی خصوصی حیثیت سے ناجائزہ فائدہ اُٹھا کر فلسطینی قوم سمیت دنیا کی مستضعف اور محروم اقوام کے خلاف بیسویں صدی عیسوی کے نصف دوئم سے لے کر آج تک امریکہ نے اپنا خبیث اور پلید کردار جاری رکھا ہے۔

انہوں  نے صدی کی ڈیل کے مقاصد اور اسکی ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فلسطینی عوام کی مقاومت اور واپسی کے لئے ہونے والے احتجاجی مظاہرے بدستور ٹرمپ کی راستے میں اہم رکاوٹ ہیں جس کے باعث اس شرمناک سودے کا باضابطہ اعلان مؤخر ہوا ہے اور امریکہ کے علاقائی غلام بھی زچ ہوچکے ہیں اور ان کے سامنے کوئی راستہ باقی نہیں رہا ہے اور بےشک فلسطینی عوام نیز محاذ مقاومت کی جدوجہد،عراق ، شام اور یمن میں اس محاذ کی عظیم کامیابیاں بتا رہی ہیں کہ یہ ذلت آمیز معاہدہ نتیجہ خیز نہیں ہوگا اور فلسطین کی مجاہد عرب ملت اور مسلم اقوام کی بیداری نیز اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششیں ناقابل تسخیر پہاڑ کی طرح ان سازشوں سے نمٹ لیں گی اور غاصب یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے ہونے والی تمام تر سازشوں کو نیست و نابود کریں گی۔

موصوف عالم دین نے قدس کی آزادی میں مسلمانوں کے اتحاد اور اس اتحاد میں حائل رکاوٹوں کیا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قدس ایک بنیادی محور و مرکز ہے اور یقینا عالم اسلام کی پوری توجہ اور اہتمام کا رخ اسی جانب ہونا چاہئےکیونکہ قدس ایک مقدس حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے معراج کی منزل ہے چنانچہ قدس صرف فلسطینی قوم یا عرب ممالک ہی کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا ہے اور واضح ہے کہ اگر حرمین شریفین یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ استعمار کے کٹھ پتلی سعودیوں کے قبضے میں نہ ہوتے تو قدس شریف بھی یہودیوں کے زیر قبضہ نہ ہوتا۔

شیخ عبدالسلام الوجیہ نےمزید کہا کہ تقریبا 100 برسوں سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا انتظام ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے مسجد الاقصی پر یہودیوں کے تسلط کے اسباب فراہم کئے تھے اور جب سے برطانوی استعمار نے وہابی تحریک کو تقویت پہنچائی اور اس کی حمایت کی اور وہابیوں کو جزیرہ نمائے عرب پر مسلط کیا اسی وقت سے اس کے اس اقدام کا ایک طویل المدت مقصد یہ تھا کہ مقدسات کے بنیادی کردار میں خلل ڈالا جائے اور مسلمانوں کو مقدسات اور اسلامی شعائر سے دور اور دور تر کیا جاسکےکیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شعائر اور مقدسات مسلمانوں کو گہری نیند سے بیدا کردیتے ہیں اور انہیں اپنے تشخص کا احساس دلاتے ہیں۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی