نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۱ ژانویه ۱۹، ۱۴:۱۱ - گروه مالی آموزشی برادران فرازی
    خیلی جالب بود


 مڈل ایسٹ آئی:

 نیوزنوریکم فروری/قطر کی ایک نیوز ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا  ہے کہ امریکہ اپنے زوال کی جانب گامزن ہے کیونکہ ایک طرف  خارجہ پالیسیز اور مہم جوئیوں میں ناکامی تو دوسری جانب ٹرمپ کے سبب پیدا ہونے والے بحران امریکی قوت کو آہستہ آہستہ سکڑتے جارہے ہیں اوریہ بات تو واضح ہے کہ اب دنیا میں وہ امریکی اثر ورسوخ نہیں رہا جو آج سے صرف ایک دہائی پہلے تک ہواکرتا تھا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق قطر ی  نیوز ویب سائٹ’’مڈل ایسٹ آئی ‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا  کہ امریکہ اپنے زوال کی جانب گامزن ہے کیونکہ ایک طرف  خارجہ پالیسیز اور مہم جوئیوں میں ناکامی تو دوسری جانب ٹرمپ کے سبب پیدا ہونے والے بحران امریکی قوت کو آہستہ آہستہ سکڑتے جارہے ہیں اوریہ بات تو واضح ہے کہ اب دنیا میں وہ امریکی اثر ورسوخ نہیں رہا جو آج سے صرف ایک دہائی پہلے تک ہواکرتا تھا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم جب ماہرین کی بات کررہے ہیں تو ان سے ہماری مراد دنیا کے وہ اہم ماہرین ہیں جن کا ایک طویل تجربہ اور سماجیات پر گہری نگاہ ہے ان میں سے بہت سے ماہرین اور دانشوروں نے سوویت یونین کے زوال کے بارے میں بھی کھلے لفظوں بات کی تھی جو اس کیمونسٹ معاشرتی ساخت پر گہری نگاہ رکھتے تھے ۔

رپورٹ کے مطابق سماجیات کے بارے میں اگر الہٰی نکتہ نظر اور خاص کر ان الہٰی سنتوں کو پرکھا جائے جو کسی بھی سماج کے عروج و زوال کے اسباب بیان کرتی ہیں تو بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آخر کار ٹیڑھے اور ناہموار اصولوں پر قائم کوئی بھی معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا فرانسیسی فلسفی آمونیل ٹوڈہو یا پھر ناروے کےجوہین گیلٹونگ یا پھر جدید دنیا میں الہیات کی بنیاد پر انقلاب برپا کرنے والی شخصیت ایران کے امام خمینیؒ سب نے سوویت یونین کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی اوراس فرق کے ساتھ کہ امام خمینیؒ وہ پہلی شخصیت تھی جس نے سوویت یونین کے رہنما گورپاچوف کو سب سے پہلے متنبہ کیا تھا اوردلچسب بات یہ ہے کہ ایرانی دانشوروں کے مطابق امام خمینیؒ نے امریکہ کے بارے میں بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا اور حالیہ صدی دنیا میں کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کی بہتری اورکامیابیوں کی صدی ہوگی ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں وقفے وقفے سے چھپنے والے مضامین کے مطابق آمونیل ٹوڈاور جوہین گیلٹونگ کا بھی یہی خیال ہے کہ سن 2020اور 2030یا 2025تک امریکہ کا اندرونی بحران اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کرے گا کیونکہ امریکہ میں عوامیت پسندی Populismکی مقبولیت ،غیر سنجیدہ اقدامات اور صدر کی ہیجان خیز پالیسیاں اس ملک کو ڈکٹیٹرشب کی جانب لے کر جارہی ہیں جس کا نتیجہ اندرونی مزید تقسیم اور تصادم کی شکل میں نکل سکتا ہے اوراگر بغور دیکھاجائے تو امریکہ اس وقت عوامیت پسندی کی بد ترین لہر سے گذررہا ہے کہ جس نے تمام حدیں پار کرلیں ہیں نسل پرستانہ بیانات اور اقدامات سے لیکر خود امریکی ریاستی ستونوں کے ساتھ ٹکراؤ کی جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے وہ آنے والےکٹھن حالات کاکھلا پتہ دے رہی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق اس وقت امریکی ہر سیاسی سوچ دوسرے کو شک اور بے اعتمادی کے ساتھ دیکھنے لگی ہے جبکہ ماضی میں اس قسم کی صورتحال نہیں رہی ہے اور ایک دوسرے کو برداشت اور حسن ظن سے دیکھنے کی روایت قائم رہی ہے اورآج امریکی اپوزیشن کھلے لفظوں صدر ٹرمپ پر الزام لگارہی ہے کہ وہ ملک کو عوامیت پسند نعروں سے ڈکٹیٹرشب کی جانب لے جارہے ہیں دوسری جانب صدر کے حامی کہتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر ان غیر ملکیوں کی حمایت کرکے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ بات صرف اپوزیشن کے رہنماؤں اور برسراقتدار ذمہ داروں تک بھی محدود نہیں بلکہ امریکی میڈیا سے لیکر سوسائٹی اور اہم پالیسی ساز اداروں تک تقسیم کو واضح پر طور دیکھاجاسکتا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق صورتحال اس قدر بھیانک ہے کہ بعض وہ شہر یا علاقے جہاں ٹرمپ کے حمایتیوں کی اکثریت بستی ہے ٹرمپ کے خلاف تنقید برداشت کرنے کے لئے نہ صرف تیار نہیں بلکہ وہ کسی غیر مہذب سوسائٹی کے باسیوں کی طرح لڑنے اور جھگڑنے پر اُترآتے ہیں ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سماج پر نگاہ رکھنے والوں کے بقول اس وقت یہ تقسیم ریاستی اداروں سے لیکر عام آدمی تک اس سطح کو چھو گئی ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس پر کوئی ذمہ دار ادارہ کنٹرول کرپائے گا حتی کہ علمی اداروں اور بحث و گفتگو کے حلقوں تک اس تقسیم کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی