نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۱ ژانویه ۱۹، ۱۴:۱۱ - گروه مالی آموزشی برادران فرازی
    خیلی جالب بود


رپورٹ :

 نیوزنور14فروری/اسرائیلی اور صیہونی لابی پر کڑی نکتہ چینی کرنے والی امریکی ایوان نمائندگان کی مسلمان خاتون رکن پر دباؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق صیہونیوں کے خلاف الہان عمر کے حقیقت پسندانہ بیانات نے امریکی صدر کو چراغ پا کر دیا ہے اور ٹرمپ نے اپنے تحکمانہ اور نسل پرستانہ بیان میں کہا ہے کہ اس مسلم خاتون کو ایوان نمائندگان کی رکنیت سے استعفیٰ اور ایوان نمائندگان کی  خارجہ تعلقات کمیٹی سے نکل جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے بھی ایوان نمائندگان کی رکن مسلم خاتون کو ڈرانے دھمکانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہا کہ الہان  نے اسرائیل اور صیہونی لابی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے کہ اس کے نتائج بھی انہیں بھگتنا ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق الہان عمر کے ٹوئیٹ پر صیہونی لابی نے ان کے خلاف میڈیا وار شروع کر دی ہے اور اتنا شدید دباؤ ڈالا کہ انہیں اپنے ٹوئیٹ پر جسے صیہونی لابی نے یہودیت مخالف قرار دیا ہے معافی مانگا پڑی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی مسلم رکن نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا مقصد یہودیوں سمیت کسی بھی شخص کی توہین کرنا نہیں تھا۔

 امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی بھی ان امریکی عہدیداروں میں شامل ہیں جو پچھلے چند روز کے دوران الہان عمر پر عذر خواہی کے لیے شدید دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔

 امریکی ایوان نمائندگان کے ری پبلکن اراکین نے بھی اسرائیل کے خلاف الہان عمر کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں ایوان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کا رکن بنانے پر شدید برہمی ظاہر کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ الہان عمر امریکی ایوان نمائندن کی پہلی باپردہ مسلم خاتون اور ڈیموکریٹ پارٹی کی رکن ہیں اور انہوں نے حال میں اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکہ میں اسرائیلی لابی ایپک امریکی سیاستدانوں کو اسرائیل کی حمایت کے لیے بھاری رشوتیں دیتی ہے۔

 ماہرین نے کے مطابق امریکہ میں ایوان نمائندگا رکن مسلم خاتون کے بیان پر ایسے وقت میں انگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں جب امریکہ دنیا بھر میں آزادی اظہار کا راگ الاپتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اندرون امریکہ ہر شخص کو اپنے عقیدے اور نظریئے کو کھل کر بیان کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

 واضح رہے  کہ الہان عمر ایوان نما‏ئندگان کی رکن منتخب ہونے سے پہلے بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کے حوالے سے مشہور تھیں اور وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک بی ڈی ایس کی بھی حمایت کرتی رہی ہیں۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی