نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
محبوب ترین مضامین
تازہ ترین تبصرے
  • ۲۰ ژوئن ۱۸، ۱۴:۳۵ - Siamak Bagheri
    :)


ممتاز پاکستانی تجزیہ نگار:

نیوزنور30مئی/پاکستان کے ایک معروف تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ چند بڑی طاقتوں کے ہاتھوں اسیر بنا ہوا ہے اور امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ تو اب کھلم کھلا کہتے ہیں کہ امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈ دیتا ہے لہذا اقوام متحدہ کو امریکی مفادات کے مطابق عمل کرنا ہوگاجسکی وجہ سے اقوام متحدہ کا ارادہ عالمی سطح پر اپنے غیر جانبدارانہ کارکردگی پیش کرنے میں ناکام دیکھائی دے رہا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ممتاز تجزیہ نگار اور دانشور’’ صدرالدین صدر‘‘ نے کہا  کہ دنیا میں پائے جانے والے مختلف مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک عالمی ادارے کے عنوان سے اقوام متحدہ نے اپنی وہ ذمہ داریاں ادا نہیں کی جو اسے ادا کرنی چاہیں تھیں بلکہ بہت سارے مواقع پر اقوام متحدہ کا ادارہ جانبدار نظر آتا ہے۔

پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور صحافی نے حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں رونما  ہونے والے واقعات میں اقوام متحدہ کے جانبدارنہ کردار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ چند بڑی طاقتوں کے ہاتھوں اسیر بنا ہوا ہے اور امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ تو اب کھلم کھلا کہتے ہیں کہ امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈ دیتا ہے لہذا اقوام متحدہ کو امریکی مفادات کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے اپنے حالیہ خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اقوام متحدہ کے کردار کو نامناسب اور امریکی اثر رسوخ سے متاثر قرار دیتے  ہوئے فرمایا تھا کہ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یمن کے عوام کے خلاف سعودی عرب کے جنگی جرائم کی مذمت کرنے کے محض ایک روز کے بعد اپنا بیان واپس لے لیا تھا اور اس قسم کی مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ اور خلیج فارس کے قارونوں کے دباؤ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار غیر مناسب اور مکمل طریقے سے جانبدارانہ ہے اور یہ عالمی ادارہ ملکوں کے حقوق کا ضامن نہیں ہےعراق، شام، فلسطین ہو یا افغانستان کہیں پر بھی اقوام متحدہ نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا ہے دنیا میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں غلطاں کردیا جاتا ہے اور عملی اقدامات اُٹھانے کے بجائے اقوام متحدہ صرف ایک بیان جاری کر کے رہ جاتا ہےفلسطین کی مثال سب کے سامنے ہے آئے دن سرزمین فلسطین خون سے رنگین کردی جاتی ہے لیکن کوئی بھی مظلوم فلسطینیوں کی مدد کو نہیں آتا اور اگر اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حق میں کوئی قرارداد پیش بھی کی جاتی ہے اسے امریکہ ویٹو کردیتا ہے اور فلسطینیوں کے قتل عام کو اسرائیل کا حق قرار دیدیتا ہے جو سراسر ظلم ہے۔

موصوف تجزیہ نگار نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کی سامراجی طاقتوں سے وابستگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا  کہ انسانی حقوق کے اداروں نے امریکہ اور اسرائیل کے وحشیانہ جرائم اور یمن میں سعودی عرب کے مجرمانہ اور ظالمانہ اقدامات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کوئی ردعمل نہیں دکھا رہے  ہیں اور  اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے مظلوم کی حمایت کے بجائے ظالموں اور جابروں کے طرفدار بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ ساری دنیا انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب اور اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کے دوغلے رویّوں کا مشاہدہ کررہی ہے اور ان کی مجرمانہ خاموشی سے یہ نتیجہ نکال رہی ہے کہ ان کی ڈکشنری میں انسانی حقوق کے معنی صرف مغرب کے مفادات ہیں۔

انہوں نے دنیا میں جاری ظلم و ستم اور جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اب اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا کیونکہ دنیا کے عوام بیدار ہورہے ہیں اور وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ دنیا میں ظلم و ستم کے سدباب اور جنگوں کو روکنے میں اقوام متحدہ ناکام ہے۔

صدرالدین صدر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو اگر درست سمت کا تعیّن کرنا ہے تو بڑی طاقتوں کے چنگل سے آزاد ہونا پڑے گا اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرکے اور ویٹو کے غلط استعمال کے لئے نئے قوانین وضع کرنے ہوں گے کیونکہ ویٹو کے غلط استعمال کی وجہ سے دنیا کی آزاد مشن قوموں کے حقوق کو سلب کرلیا جاتا ہے جو خود ایک طرح کا ظلم ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی