نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ آگوست ۱۸، ۱۱:۳۵ - موزیلاگ ..
    (:


ریچرڈ بلیک:

نیوز نور 2جون /امریکہ کے ایک سینئر سینٹر وشامی امور کے ماہر نے کہا ہے کہ  شام کے اسٹریٹجک علاقے الطنف پر امریکہ کا ناجائز قبضہ اس ملک کو  دہشتگردی سے مکمل طورپر پاک کرنے کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق شامی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’ریچرڈ بلیک‘‘نے  شام کے اسٹریٹجک علاقے الطنف پر امریکہ کا ناجائز قبضہ اس ملک کو  دہشتگردی سے مکمل طورپر پاک کرنے کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کو اُمید ہے کہ وہ شام میں عرب افواج کو تعینات کرکے  علاقے میں استحکام پیدا کرسکتاہے جبکہ اس کے نتائج یقینی طورپراس کے برعکس ہونگے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ شام میں عرب فوج خاص کر  سعودی افواج کی تعیناتی کا خواہاں ہے جبکہ  سعودی عرب عالمی دہشتگردی کا اہم اسپانسر ہے ۔

انہوں نے کہاکہ  امریکہ نے شام کے الطنف میں عراقی واردنی سرحد کے قریب مستقل  فوجی بیس قائم کررکھی ہے مذکورہ   بیس پر تعینات امریکی افواج نے بارہا شامی فوج پر بمباری کی ہےتاکہ  اس کی انسداد دہشتگردی مہم میں رکاوٹ پید اکی جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ الطنف میں امریکی فوجی اڈہ  علاقے میں سرگرم داعش اور دیگر تکفیری دہشتگرد گروہوں کو تحٖفظ فراہم کررہا ہے۔بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہاگیاکہ امریکہ الطنف میں شام مخالف عناصر کی تربیت کررہا ہے۔

شام سے امریکی افواج کے انخلا کے امکانات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ شمالی شام  میں امریکہ نے  اس ملک کے تیل ،گیس کے اہم ذخائر پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے جو امریکی کمپنیوں کیلئے منافہ بخش ثابت ہورہا ہے اس لئے امریکہ کا ارادہ یہاں مستقل قیام کرنے کا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کی قیادت میں  امریکہ کے روس اور چین کےساتھ بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد جوہری تصادم کے امکانات  تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

الطنف

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی