نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
تازہ ترین تبصرے
  • ۸ جولای ۱۸، ۱۴:۲۰ - Siamak Bagheri
    :)


بین الاقوامی امورکے ایرانی ماہر:

دشمن امریکہ کاعربی۔عبرانی فوجی اتحاد اصل میں  ایران اور حزب اللہ کے خلاف ہے

نیوزنوریکم مئی/بین اقوامی امور کے ایک ایرانی ماہر نےشام کے حلب اور حماہ  میں فوجی اڈوں پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تازہ جارحیت کا مقصد  علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھانااور اسلامی جمہوریہ ایران کوسخت ردعمل دیکھانے پر مجبور کرناہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’کی رپورٹ کے مطابق مقامی میڈیا کے ساتھ انٹرویو میں ‘حسن ہانی زادہ’ نے ام کے حلب اور حماہ  میں فوجی اڈوں پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تازہ جارحیت کا مقصد  علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھانااور اسلامی جمہوریہ ایران کوسخت ردعمل دیکھانے پر مجبور کرناہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے دمشق کے مشرقی حصے میں دہشتگردوں کی شکست کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کے ہر محاز پر سعودیہ،اسرائیل اور امریکہ کے پراکسی فورسز کو شرمناک شکست کا سامنا ہے سعودیہ کی وہابی رژیم نے گزشتہ سات سالوں میں شامی بحران پر 60عرب ڈالر خرچ کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لئے  عربی۔عبرانی فوجی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کررہاہے۔

کل دمشق سے موصولہ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا  کہ پیر کی صبح امریکہ اور برطانیہ نے اردن میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے شام کے صوبے حماہ اور حلب میں شامی فوج کے ٹھکانوں پر کئی میزائل فائر کیے ہیں۔

اسکائی نیوز نے حماہ کے نواح میں شامی فوج کے ایک اسلحہ گودام میں آگ کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام فوج کے سینتالیسویں بریگیڈ کی چھاونی امریکی اور برطانوی میزائلوں کا نشانہ بنی ہے۔مقامی ذرائع نے مغربی حماہ کے شہر سلحب کے نواحی علاقے میں واقع شامی فوج کے ایک اور اسلحہ گودام میں شدید دھماکوں کی خبر دی ہے۔

المیادین ٹی وی نے بتایا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے داغے جانے والے کئی میزائل حلب ایئرپورٹ کے شمال میں واقع المالکیہ ٹاؤن پر بھی گرے ہیں۔

بعض میڈیا رپورٹوں میں بتایا ہے کہ اردن کی سرزمین سے کیے جانے والے اس حملے میں اسرائیلی حکومت بھی شامل ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی