نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
تازہ ترین تبصرے
  • ۸ جولای ۱۸، ۱۴:۲۰ - Siamak Bagheri
    :)


ایک عرب روزنامہ کی تحلیل:

نیوزنور20 جون/ایک مشہور عرب روزنامہ نے  اپنی ایک تحلیلی رپورٹ میں صیہونی وفد کے آئندہ بحرینی دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض حکمران اسرائیلیوں کو عربوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق’’ القدس العربی‘‘نے اپنی ایک تحلیلی رپورٹ میں صیہونی وفد کے آئندہ بحرینی دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض حکمران اسرائیلیوں کو عربوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔

روزنامہ نے لکھا کہ عرب ریاستوں اورغاصب صیہونی رژیم کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے آئندہ چند روز کےدوران ایک نیا اسرائیلی وفد منامہ کا دورہ کرنے جارہا ہے۔

روزنامہ نے لکھا کہ غاصب صیہونی رژیم اورامریکہ کےساتھ سازشی مذاکرات اور قدس کی قابض رژیم کےساتھ تعلقات کی بحالی کی بعض عرب حکومتوں کی کوششوں کے باعث فلسطینی کاز کمزور پڑتا جارہا ہے۔

روزنامہ نے لکھا کہ علاقائی رجعتی حکومتیں اپنی عوام کو اس بات پر مائل کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ غاصب اسرائیل  ان کے بعض عرب حکمرانوں سے بہتر ہےاوریہ ایسی حالت میں ہے جب بعض عرب ممالک نے اپنے برادر ملک قطراوریمن کا ظالمانہ محاصرہ کررکھا ہے۔

روزنامہ نے لکھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں بعض علاقائی ورجعتی حکومتیں عرب دنیا کے خلاف امریکہ واسرائیل کے شوم وتباہ کن منصوبے کے حامی ہیں ۔

روزنامہ نے لکھا کہ صیہونی رژیم اور آل خلفیہ شاہی خاندان  کے درمیان تعلقات  خفیہ طورپر  برقرارتھے  جبکہ آج ان تعلقات پر سے پردہ اُٹھایا جارہا ہے تاہم  بحرین کی انقلابی عوام قدس کی قابض رژیم کےساتھ کسی بھی طرح کی تعلقات کی بحالی کی مخالف ہے۔

ادھر بحرین کے انقلابی نوجوانوں کے اتحاد نے اسرائیلی وفد کے آئندہ بحرین دورے  اورغاصب رژیم کےساتھ تعلقات  کے قیام کی  آل خلیفہ شاہی خاندان کی کوششوں کو شرمناک قراردیتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کےساتھ کسی بھی سطح  پر تعلقات کا قیام  اورصیہونی وفد کی بحرین آمد قومی وقار کے منافی ہے اوراس کے خلاف سخت احتجاج کیا جائےگا۔

دوسری جانب بحرینی علما ء نے بھی اپنے بیان میں شاہی حکومت کے ناپاک عزائم کی باپت خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کو بحرین میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی