نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


حکومت ریاض کے سعودی ناقد:

نیوزنور25 جون/سعودی عرب کی وہابی رژیم کے ایک حزب اختلاف رہنما نے کہا ہے کہ یمنی جیالوں نے سعودی جنگی اتحاد کو ذلت آمیز شکست دی ہے اوراگر جارح ممالک  کے پانچ فیصد ہتھیار ہی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں میں ہوتے تو یقینی طورپر وہ  ریاض   پر قبضہ کرچکے ہوتے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بیرون   میں مقیم سعودی حزب اختلاف رہنما’’حمزہ الحسن ‘‘نے ایک بیان میں کہاکہ یمنی جیالوں نے سعودی جنگی اتحاد کو ذلت آمیز شکست دی ہے اوراگر جارح ممالک  کے پانچ فیصد ہتھیار ہی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں میں ہوتے تو یقینی طورپر وہ  ریاض   پر قبضہ کرچکے ہوتے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی رژیم و ابو ظہبی وحشیانہ بمباری اورمیڈیا پروپیگنڈے کے باوجود الحدیدہ معرکے میں  مقاومتی فورسز کےسامنے بے بس دکھائی دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کی قیادت میں جارح فورسز کو جدید ترین  ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود  مقاومتی فورسز کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یمنی مجاہدین کے ہاتھوں میں اگر جارح ممالک کے محض پانچ فیصد ہتھیار ہوتے تو ریاض پر آج  ان کا کنٹرول ہوتا۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں لکھا کہ  یمن  کے اسٹریٹجک بندرگاہ الحدیدہ معرکہ میں 20 ہزار جارح فوج  اوران کےساتھ کئی سو ٹینکیں اوربختر بند گاڑیاں شامل ہیں جبکہ امریکہ ،برطانیہ اورفرانس بھی اس معرکے میں شامل ہیں تاہم اتنی عسکری طاقت کے باوجود وہ  ابھی تک حدیدہ آئیرپورٹ تک کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔

سعودی حزب اختلاف لیڈر نے تاکید کی کہ انصاراللہ یمن حدیدہ معرکے کی فاتح ہے  سعودی قیادت  کے خطرناک کھیل میں ریاض اوراسکے اتحادیوں کو شکست ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب جنگی اتحاد سے وابستہ  میڈیا کی حدیدہ آئیرپورٹ کے سکوت سے متعلق رپورٹیں سفید جھوٹ ہیں مذکورہ میڈیا  مسلسل یمن جنگ سے متعلق جھوٹی خبروں کو نشر کررہا ہے۔

انہوں نے اس بات کےساتھ کہ یمن کے خلاف جارحیت میں سعودی رژیم کو برطانیہ ،فرانس ،امریکہ اور سوڈانی فورسز کی مکمل حمایت حاصل ہے کہا ہے کہ  جارح اتحاد کو یمنی مجاہدین کی استقامت کےسامنے شکست ہوئی ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی